شہباز شریف نے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے دعوئوں کو بے بنیاد قرار دے دیا

سابق وزیراعلیٰ  پنجاب اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ خبر نشر کرنے والے ٹی وی چینل ثبوت پیش کریں تا کہ سچ اور جھوٹ میں فرق واضح ہو سکے۔

مسلم لیگ نواز کے صد نے نجی ٹی وی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی افواہیں اڑا کر قوم کا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا رہا۔

یاد رہے کہ شہباز شریف کی آشیانہ ہائوسنگ سکیم کیس میں ضمانت پر رہائی اور لندن روانگی کے بعد سے میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ لندن میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

Shehbaz-Sharif-2-300x148

شہباز شریف نے کہا، غلط بیانی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ عمران خان کے کسی دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔ جھوٹ بول کو دھوکہ دینے کی کوشش پر قوم انہیں کسی صورت معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا، لندن اپنے علاج اور پوتی کی عیادت کے لیے آیا تھا۔ چند چیک اپ باقی رہ گئے ہیں جو مکمل ہوتے ساتھ ہی جلد پاکستان واپس لوٹ آئوں گا اور امید ہے، بجٹ سے قبل پاکستان ہوں گا۔

واضح رہے کہ شہباز شریف ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالے جانے پر 10 اپریل کو لندن روانہ ہوئے تھے۔

انہوں نے روانگی سے قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کیا تھا کہ وہ لندن کا مختصر دورہ کریں گے اور جلد واپس لوٹ آئیں گے۔

رواں ماہ چار مئی کو مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی یہ دعویٰ  کیا تھا کہ شہباز شریف اگلے 10 روز میں پاکستان واپس آ جائیں گے۔

M-Aurangzeb-300x169

دریں اثناء، مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بول نیوز کے خلاف غلط اور حقائق کے منافی خبر نشر کرنے پر پیمرا میں شکایت جمع کروا دی ہے۔

انہوں نے شکایت میں دعویٰ کیا ہے کہ بول نیوز نے یہ خبر نشر کی کہ شہباز شریف نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروا دی ہے جو مکمل طور پر بے بنیاد اور شرانگیزی پر مبنی ہے۔

مریم اورنگزیب نے پیمرا سے درخواست کی کہ وہ خبر کا نوٹس لے اور متعلقہ قانون کے تحت بول ٹی وی چینل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے تاکہ وہ مستقبل میں ایسے غیرذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ نہ کریں۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.