شیعہ سنی اسلام کے دو پیکر ہیں، جنہیں تقسیم کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے، علامہ ناصر عباس جعفری

ڈی آئی خان ( نیوز ڈیسک ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کوٹلی امام حسین (ع) میں مہدی برحق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ثانی زہرا (س) سے یزید وقت کے سامنے ڈٹ جانا سیکھا ہے، ہمیں خوفزدہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اگر کل کا یزید ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکا، تو آج کا یزید بھی ہمیں نہیں ڈرا سکتا۔ مشکلات و مسائل امتحان ہیں اور ایسے ہی امتحانوں سے انبیاء کرام و اولیاء کرام نے بھی تکالیف و مسائل و مشکلات کا سامنا کیا، میدان میں دشمنوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہنے والا سرخرو ہوگا، ہم نے تین دن کے بھوکے پیاسے تیرہ سالہ حضرت امیر قاسم سے چالیس ہزار کے لشکر سے مقابلہ اور وقت کے یزید کے سامنے ڈٹ جانا سیکھا ہے۔ مہدی برحق کانفرنس میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی، صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقبال بہشتی سمیت کئی علماء کرام، ذاکرین نے شرکت کی جبکہ خواتین و مردوں کی بہت بڑی تعداد کانفرنس میں شریک تھی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان میں اہل تشیع کو کئی قسم کی آزمائشوں کا سامنا ہے، بحیثیت پاکستانی ہمیں بھی ہمیں آزمایا جا رہا ہے، ضیاء کی پالیسی کے سبب اسی ہزار جنازے پاکستان سے اٹھے ہیں۔ اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے کہ ہمارا دشمن باہر کی جنگ کو وطن کے اندر تک لے آیا ہے۔ جنگوں میں اتنی شہادتیں نہیں ہوئیں، جتنی دہشت گردی سے ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضیاء کی پالیسیوں کے سبب ملک میں بیلنس آف پاور ٹوٹا اور پاکستان میں مصنوعی طور پر ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ پاکستان علامہ اقبال اور قائداعظم کی فکر کا ثمر تھا، لیکن ضیائی پالیسی نے قائداعظم کا پاکستان ہم سے چھین لیا ہے۔ اسی پالیسی سے پاکستان کمزور ہوا، پہلے اہل تشیع کو مارا گیا، پھر اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج اور پولیس کو ٹارگٹ کیا گیا اور یہاں تک کہ عام سنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانیوں کی تقسیم شروع کی گئی، علامہ اقبال اور قائد اعظم کے بیٹوں کو کافر کہا گیا۔ مساجد، شیعہ اور سنی پر حملے کئے گئے۔ پاک فوج کے جوانوں کے گلے کاٹے گئے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہر محب وطن پاکستانی کیلئے یہ آزمائش ہے۔ جس کا ہم نے مقابلہ کرنا ہے، شیعہ اور سنی اسلام کے دو پیکر ہیں۔ ان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تکفیریوں نے بے پناہ کوششیں کیں ہیں۔ ہم وطن کے باوفا بیٹے ہیں، اس لئے ہمیں مارا جا رہا ہے، ہم نے وفا کا چلن مولا عباس سے لیا ہے، وطن کی خاطر ہماری لاکھوں جانیں قربان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شیعہ و سنی نے بنایا۔ ہم نے شیعہ اور سنی کو تقسیم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا اور تکفیری ایجنڈے کو ناکام بنایا۔ جب تک ہم زندہ ہیں دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے میدان میں موجود رہیں گے اور دہشت گردوں کے سامنے سر جھکانے کی ذلت قبول کرنے کے بجائے جوانمردوں کی طرح ڈٹے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لبیک یاحسین کے نعرے کےساتھ میدان میں رہیں گے، ریاست ناکام ہوچکی ہے اور ہمیں بھی مایوس کرنا چاہتی ہے، ہمیں بسوں سے اتار اتار کر مارا گیا اور پسماندگان کو انصاف دینے کے بجائے ان کے جوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ ڈیرہ کے ناصر حسین جس کے گھر کے سات شہید ہیں، لیکن وہ کئی سالوں سے غائب ہے، ہمیں بتایا جائے کہ اس کو کیوں اٹھایا گیا۔ حسنین کو اٹھایا گیا، اس کا بتایا جائے کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا۔؟ کیوں ہماری آواز نہیں سنی جا رہی، اگر یہ لوگ کریمینل ہیں تو ہمیں بتایا جائے۔ ڈیرہ میں درجنوں شہید کئے گئے، کیا یہ کافی نہیں، ارشاد حسین، امتیاز، رجب علی، انیس الحسنین ہمیں بتایا جائے کہ یہ کہاں ہیں، ہم وطن کے بیٹے ہیں اور وطن پر مرمٹنے والے ہیں، ہمیں کم از کم ان مسنگ پرسنز کے بارے میں بتایا تو جائے۔ خدا کے لئے رحم کرو، ہمارے ساتھ یہ کھیل بند کرو۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عید کی رات اعلٰی مقتدر شخصیات سے ملاقات کے بعد ہم پرامید ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتیوں اور دکھوں کا مداوا ہوگا۔ پاک فوج کے چیف نے پاراچنار کا دورہ کیا اور مظلوموں کی داد رسی کی، ہمیں ان سے امید ہے کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے جس طرح حکومتی بے حسی کے باوجود پاراچنار کے عوام کو امید دی ہے، ان شاء الله امید ہے کہ ہمارا یہ درد بھی محسوس کرتے ہوئے اس پر اقدام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوٹلی امام حسین کی اراضی وقف امام حسین (ع) ہے، وقف امام حسین (ع) اراضی پر کسی کو خیانت نہیں کرنے دیں گے۔ ایک انچ پر بھی کمپرومائز نہیں کرسکتے۔ کراچی میں چائنہ کٹنگ کا سنا تھا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی چائنہ کٹنگ کا سلسلہ جاری ہے، اب تحریک انصاف جبکہ پہلے ایم ایم اے کے دور میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی امام (ع) کی امانت ہے، کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے کہا مسالک کی تقسیم سے نکل کر سب پاکستانی بنو، بہت نقصان ہوچکا ہے۔ لوٹ مار اور ناانصافی چھوڑ دو، عوام عہد کرے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی پر ڈٹ جاو گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، آرمی چیف کے پاراچنار دورہ کے بعد سے ہمیں امید ہو چلی ہے کہ مسائل حل ہونگے، عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کہ کوٹلی کا مسئلہ حل کرو، غیرت مند خون ہیں، ہم جانیں دے سکتے ہیں لیکن وطن اور مذہب سے خیانت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹوٹنے کی خبر سن کر میرا والد فوت ہوا، مادر وطن پر لاکھوں جانیں قربان اور ملت پر قربان کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن مختلف طریقوں سے نقصان دے رہا ہے۔ لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ بنا کر دشمن جو کام نہیں کر سکا، اب داعش کے نام سے وہ کام کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس کے پیچھے ہیں، پاکستان ایشیاء کا دل ہے اور اس کو مسلکی لڑائی کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہے، لیکن ہم شیعہ اور سنی کو اکٹھا کرکے اسرائیل، امریکہ اور آل سعود کے ایجنڈے کو ناکام بنائیں گے اور ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، پورے پاکستان میں اہل تشیع اور اہل سنت اکٹھے ہو جائیں، شیعہ اور سنی ثابت قدم رہیں تو کوئی شک نہیں کہ وطن دشمن، اسلام دشمن اور انسانیت کے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو مٹی میں ملا کر رکھ دیں۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful