تازہ ترین

صوبہ بلوچستان میں داعش کی موجودگی کا معاملہ!

صوبہ بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں ریاست کیجانب سے ہمیشہ کسی بھی دہشتگرد تنظیم کے نیٹ ورک کے منظم ہونے کی تردید کی گئی ہے۔ چاہے پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی ہو، یا حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر انتہا پسند تنظیموں کی فعالیت کا معاملہ، پاکستانی ریاست مختصر المدتی مفادات کے حصول کی خاطر ہمیشہ انہیں نظر انداز کرنے کی پالیسی پر گامزن رہی۔ جب دنیا میں‌ وحشی خلافت کے قیام کا خواب لئے دہشتگرد تنظیم داعش نے مشرق وسطٰی میں اپنا پرچم لہرایا، تو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح بالخصوص پاکستان میں بھی اس نئے دہشتگرد برانڈ کی فرنچائز کے خریدار بولی لگاتے نظر آئے۔ بعض شہروں میں دیواروں پر حمایتی نعرے لکھے گئے تو بعض علاقوں میں اسکے نام سے پمفلٹس کی تقسیم بھی ہوئی، لیکن ایک مرتبہ پھر ریاست کیجانب سے یہی دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں داعش کسی بھی لحاظ سے کوئی وجود نہیں رکھتی۔ 2015ء میں جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے برطانیہ کا دورہ کیا تو انکا خصوصی طور پر کہنا تھا کہ “داعش جیسی تنظیم کے سائے کو بھی پاکستان میں برداشت نہیں کیا جائیگا۔” لیکن بدقسمتی سے زمینی حقائق ان تمام دعوؤں کے برعکس نکلے۔

8 اگست 2016ء کو بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ بلال انور کاسی کو کوئٹہ میں ٹارگٹ‌ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ بعدازاں مقتول کو جب کوئٹہ کے سول ہسپتال میں لایا گیا تو سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء اظہار یکجہتی کیلئے وہاں پہنچے۔ اسی موقع پر ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ کرکے 63 افراد کو جاں بحق کر دیا، جن میں کثیر تعداد وکلاء برادری کی تھی۔ یہ پاکستان میں وہ پہلا وحشیانہ حملہ تھا، جسکی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم داعش نے قبول کی۔ 24 اکتوبر 2016ء کو ایک مرتبہ پھر اسی تنظیم کیجانب سے کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا گیا، جس میں 61 پولیس کیڈٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ تیسری مرتبہ بھی اسی تنظیم نے بلوچستان کے علاقے خضدار میں واقع صوفی مزار شاہ نورانی کے مزار پر خودکش حملہ کیا، جس میں 60 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ 12 مئی 2017ء کو مستونگ میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے عوامی قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا، جسکے نتیجے میں 25 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں 24 مئی 2017ء کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں دو چینی باشندوں کو اغواء کرکے قتل کیا گیا، اسکی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی۔ 4 جون 2017ء کو ایک مرتبہ پھر اسپنی روڈ پر شیعہ ہزارہ بہن اور بھائی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ 23 جون 2017ء کی صبح کوئٹہ کے ہائی سکیورٹی زون، آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے خودکش دھماکہ کیا جاتا ہے، جسکے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد کو لقمہ اجل بنایا گیا۔

مذکورہ بالا تمام دہشتگرد حملوں کی ذمہ داری داعش نے بتدریج قبول کی۔ اسی دوران یکم جون سے لیکر 3 جون 2017ء تک صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے تین روزہ آپریشن کیا اور بعدازاں پاک افواج کے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کیجانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ مستونگ آپریشن میں لشکر جھنگوی العالمی کے 12 اہم دہشتگرد کمانڈرز کو ہلاک کر دیا گیا، جو مبینہ طور پر داعش کی مرکزی قیادت کیساتھ رابطہ کرکے پاکستان میں‌ اس تنظیم کو منظم کرنا چاہتے تھے، لیکن انکے اس مذموم ارادے کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ گذشتہ مہینے صوبہ بلوچستان کے علاقے اورماڑا اور خاران سے یہ خبر سامنے آئی کہ لوکل انتظامیہ نے کسی مسجد کے پیش امام کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے مقامی حجاموں کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ مردوں کی داڑھی کو مونڈوانے اور غیر اسلامی ڈیزائنز بنانے سے گریز کیا جائے۔ جب پاکستان کے شمالی علاقے سوات ڈویژن میں پہلی مرتبہ خواتین کے اسکول جانے اور مردوں کے داڑھی مونڈوانے پر پابندی عائد کی گئی تو حکومت اور ریاستی ادارے عوام کو یہی یقین دلاتے رہے کہ یہاں اسلام کے سپاہی صرف مذہب کے پرچم کو بلند رکھنے اور ہماری نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ بعدازاں یہی سپاہی ہماری شہ رگ کو کاٹنے کا خواب دیکھنے لگے۔

ان تمام شواہد کے باوجود حکومت محض یہی کہتی نظر آتی ہے کہ پاکستان اور خصوصاً صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بیرونی قوتیں افغانستان اور انڈیا ملوث ہیں۔ جو داعش، لشکر جھنگوی العالمی اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر تنظیموں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست بھی ہو تو تب بھی افغانستان کیساتھ منسلک سرحد کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری ہماری ہی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بقول داعش افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتی ہیں، تو ایسی تنظیم کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں اپنی خلافت کے جھنڈے گاڑنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ آج بھی بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے غیر رجسٹرڈ مدارس موجود ہیں، جنہیں عرب دنیا کے امیر ملکوں کیجانب سے بڑے پیمانے پر فنڈنگ جاری ہے۔ انکے نصاب پر کسی قسم کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ اسی طرح چاہے لشکر جھنگوی العالمی ہو یا تحریک طالبان پاکستان، یہ تمام دہشتگرد تنظیمیں اتنی صلاحیت رکھتی ہیں کہ کبھی بھی کسی کو بھی ٹارگٹ کر لیں، جبکہ نظریاتی طور پر یہ تنظیمیں پہلے سے ہی داعش کیساتھ منسلک ہے۔ اس موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں پہلے سے موجود جتنے بھی دہشتگرد تنظیمیں ہیں، ان کیخلاف سیاسی، نظریاتی، معاشی اور فوجی طاقت سمیت تمام حربوں کو استعمال کرتے ہوئے انہیں ہر لحاظ سے مفلوج کیا جائے۔ محض اس خام خیالی میں رہنا کہ داعش عراق اور شام کی طرح بلوچستان میں کسی علاقے پر تسلط قائم نہیں کرسکتی، اسکے برعکس ریاست کو انکی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے ہر سطح تک جانا ہوگا۔

رپورٹ: نوید حیدر اسلام ٹائمز

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful