عرب دنیا امریکی سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کرے

(حیدر جاوید سید)
ایران کے خلاف خلیجی اتحاد کے لئے تیز تر ہوتی امریکی کوششیں یقیناًتشویشناک ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اگلے روز سعودی عرب میں سعودی عراقی رابطہ کونسل کے اجلاس اور بعدازاں پریس بریفنگ میں جن خیالات کا اظہار کیا ان سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ امریکی خلیج میں ایک نئی محاذآرائی کو جنم دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ بلاشبہ سعودی عرب اور عراق میں سیاسی و سفارتی رابطوں کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف ملکر کام کرنے کا عندیہ خوش آئند ہے لیکن عراقی قیادت کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ جن دو دہشت گرد تنظیموں القاعدہ اور داعش کی بدولت لاکھوں عراقی مردوزن موت کا رزق بنے ان دونوں تنظیموں کے مربی و گارڈفادرز امریکہ اور سعودی عرب ہی تھے دلچسپ بات یہ ہے کہ عراق میں القاعدہ اور داعش کی شکست کے بعد امریکہ اور سعودی عرب امنِ عالم اور خطے کے مفادات کے چودھری بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ چودھری گیری اصل میں پرانے شکاریوں کا نیا جال ہے۔

سوال یہ ہے کہ کل تک جب امریکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے پالے داعشی درندے عراق میں بستیاں ویران کرتے اور انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے ساتھ کبھی پانی میں ڈبو کر ہلاک کرتے تھے اور کبھی آگ میں جلا کر تو اس وقت یہ چودہریان امن عالم کہاں تھے؟۔لاریب عراقی حکومت کو اپنے وسیع تر قومی مفاد میں پالیسی سازی اور سفارتکاری کا حق ہے دنیا کی کسی قوم اور ملک کو اس آزاد روی سے محروم نہیں کیا جا سکتا لیکن عراقیوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کل کے سفاک دشمن آج دوستی کا دم بھر رہے ہیں تو اس کے پیچھے ان کے مقاصد کیا ہیں؟۔

ریاض میں امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور عراق کے علاوہ مختلف خلیجی ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران جس طرح انہیں ایران کے خلاف متحدہ محاز بنانے کی تلقین کی اس میں سے سازش کی بو آرہی ہے۔ خلیجی ممالک کو امریکی مفادات کی بجائے اسلامی دنیا کے مفادات کو مقدم سمجھنا ہوگا۔ امریکیوں کی کوشش ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں عربوں کا ہمدرد بن کر ماضی کے اپنے گھناؤنے کردار اور داعش کے ابا کے طور پر کئے گئے جرائم کی پردہ پوشی کرے۔ خلیجی ممالک کو بہت سوچ سمجھ کر ایسے امریکی منصوبوں کا حصہ بننا ہوگا۔ ایسا نہ ہوکہ ان کی سفارکاری کا نیا مرحلہ مسلم دنیا میں کسی جنگ کا دروازہ کھول دے۔ ویسے عراق اور دوسرے خلیجی ممالک کو امریکہ سے یہ ضرور پوچھنا جاہئے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی دشمنی میں انہیں کرائے کاسپاہی کیوں بنانے پر تلا ہوا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح دوسرے ملکوں کو اپنے اپنے خطوں میں مستحکم بلاک بنانے کا حق ہے اسی طرح ایران کو بھی ہے مگر بدقسمتی سے نیا امریکہ عرب اتحاد ایران دشمنی کے تعصبات سے عبارت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دولت بھی مسلم ممالک کی اور میدان جنگ بھی ماضی کی طرح مسلم دنیا۔ کیا خلیجی ممالک کے قائدین اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ وہ امریکی سازشوں کو سمجھ نہیں پا ئے۔ داعش کو شکست دینے والے عراق کو اب اسرائیل بھی ایک خطرہ قرار دے رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ کا مشرق وسطیٰ کے مسائل حل کرنے میں مدد دینے کی بجائے عرب وفارس کے تنازعات کو ہوا دینا اور اس کی آڑ میں وہابی شیعہ خانہ جنگی کا راستہ ہموار کرنا بہت کچھ سمجھائے دیتا ہے۔ افسوس کہ مسلم دنیا کے حکمرانوں نے تاریخ اور ماضی قریب سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھرباہم دست و گریباں ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو چاہئے کہ آگے بڑھ کر اسلامی کانفرنس کا سربراہی اجلاس بلائے اور مسلم دنیا کے اندرونی اختلافات کو طے کرانے کی کوشش کرے ایسا نہ ہوکہ امریکی آگ لگوانے کی اپنی سازش میں کامیاب ہوجائیں۔ بشکریہ UNN نیوز

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful