عفت و آنٹی!۔۔خواتین کے لیے نہایت ہی مفید تحریر

ایک دفعہ کی بات هے ایک محفل میں ایک آنٹی نے مجھے با حجاب دیکھ کر پوچھا کہ ہر وقت کیوں بوڑھی عورتوں کی طرح دوپٹہ لپیٹے رہتی ہو؟ باہر نکلتی ہوتو یہ لمبی ایرانی چادر؟ 100 سال کی پرانے زمانے کی کوئی بوڑھی لگتی ہو, کچھ تو آجکل کی ماڈرن لڑکیوں والے ڈھنگ اپناؤ۔

آنٹی کے زریں خیالات سن کر انکی سوچ سمجھ کااندازہ تو مجھے هو هی گیا لھذا میں نے نہایت هی تحمل سے اتنا کہا کہ آنٹی صرف تین چیزیں ہیں جو پردے میں رہتی ہیں۔ ایک خدا کا گھر،ایک خدا کی مقدس ترین کتاب اور ایک مجھ عورت کو یہ شرف حاصل ہے۔ میں اپنا یہ شرف ان نامحرموں کے لیےضایع کر دوں؟ کہ جن کی سوچ اگر میں پڑھ لوں تو شاید گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دوں؟

یه صرف میرا شرف هے ایسا شرف تو کسی مرد کو بھی نهیں ملا که میں زھرا (س) والا لباس پهنتی هوں لیکن مرد نبی (ص) والا لباس نهیں پهن سکتا. ھر مرد عمامه نهیں پهن سکتا, کالی کملی, نهیں. لیکن ھر عورت زھرا (س) کی طرح چادر پهن کر باعفت ره سکتی هے. آپ مجھے اس شرف سے محروم کر کے جوان و خوبصورت بنانے کی عجیب بات کر رهی هیں.

معذرت کے ساتھ آنٹی چادر پر اس قسم کے اعتراضات کم از کم کنیزان زینب کو زیب نہیں دیتے۔ اگر یہ سب بوڑھی عورتوں کے ہی لئے ہے تو پھر سیدہ زینب (س) کی چادر کو رونے کی کوئی تک ہی نہیں ہے میرے خیال میں تو، پھر جو ہم عشرہ زینبی منعقد کرتے ہیں یہ فقط منافقت ہوئی؟
اور جہاں تک پرانے زمانے کا تعلق ہے تو پہلے سیدہ النساء العالمین (س) کو پرانے زمانے کا کہیے کیوں کہ جب وہ گھر سے باہر تشریف لاتی تھیں تو انکی چادر انکے پیروں میں آتی تھی۔ اگر ماڈرنزم یہی ہے کہ زمانہ جاہلیت کی طرح جسم کی نمائش کرایں اور سیدہ (س) کی سیرت کو نظرانداز کر دیں تو معذرت کے ساتھ میں پرانے زمانے کی بوڑھی ہی ٹھیک ہوں۔

یہ سن کر آنٹی کو شاید کوئی کام یاد آگیا کہ وہ فورن ہی اٹھ کر چلی گئیں۔
.
(تبدیلی ممنوع جس نے تبدیلی کی الله ج کو شکایت لگائیں گے)

تحریر: سید حیا حیدر جعفری

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful