غیر ملکی شہر کو پاکستان میں پھانسی وصیت نامہ نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دیا قوام متحدہ کی کردار پر بھی سوالیہ نشان۔۔!

قانون استثنا اور گلگت بلتستان

(شہید نوید حسین )
یہ وہی قانوں ہے جو کہ امریکہ اپنی اعلانیہ غیر اعلانیہ کالونیوں میں استعما ل کرتا ہے جس کے تحت اگر کوئی امریکی امریکہ سے باہر کچھ بھی کرئے اس کو کیس امریکہ میں چلے گا مگر اگر کوئی امریکہ کے خلاف کچھ بھی کرتا ہے کسی بھی ملک میں بیٹھ کر اس کا کیس امریکہ میں چلایا جائے گا اور اور اس کو سزا بھی امریکہ ہی دے گا۔ ‘‘اس وقت یہ قانوں اسلام آباد نے گلگت بلتستان پر لاگو کر رکھا ہے جس کے تحت گلگت بلستان کے کسی قانوں یا ادارے کے اختیارت پاکستانی افراد یا ادروں پر لوگو نہیں ہوتے جس کی مثال جیو ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمان کا گلگت میں کیس اور پاکستانی عدالتوں کا اس کو ریجکٹ کرنا اور اب شہید نوید کا کیس جو کہ گلگت کا کیس تھا مگر نوید کو سزا پاکستانی عدالتوں نے دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلگت بلتستان کی عوام نے جنگ آزادی کے بعد دوبارہ غلامی کا طوق لیا لیکن احساس اب تک نہیں کر سکے کیونکہ جو اپنی زنجیروں سے محبت کرتا ہو اسے آزادی کے معنی نہیں سمجھائے جا سکتے

کہانی کچھ یوں ہے کہ یہ نوجوان2008 میں جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند تھا۔ شام کے ٹائم انسداد دہشتگردی کے جج سٹی پارک گلگت میں واک کر رہا تھا۔ اتنے میں جج پر حملہ ہوا اور وہ قتل ہوا۔ بعد میں تفشیش ہوئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ نوید جیل سے فرار ہوا اور جج کو قتل کر کے واپس جیل میں آیا۔ سمجھ سے بالا تر بات یہ کہ جیل سے فرار ہوا جج کو قتل کیا اور واپس جیل میں آیا، فرد جرم عائد بھی ہوا، ثابت ہوا اورپهانسی بهی ہوئی، پھر تو جیل نہیں کوئی ہوٹل ہوا۔ بندہ اپنی مرضی سے جاتا ہے اور واپس بھی آتا ہے اور کوئی اسے دیکھتا بھی نہیں۔
بہرحال اندھی حکومت اور کانی عدلیہ نے فیصلہ سنا دیا اسکی سزا موت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک قیدی جیل سے فرار ہوتا ہے اور جیل انتظامیہ لاعلمی کا مظاہرہ کرے۔ سزا تو اسکو ہونی چاہیئے جو جیل انچارج تھا۔ وہی ملوث ہوگا تو فرار ہوا ورنہ کسی قیدی کی اتنی مجال نہیں جو دن دھاڑے جیل سے بھاگے اور قتل کر کے واپس جیل آئے۔
سنا تها قانون اندها ہوتا ہے مگر دیکها آج…..
بیشتر پیجز، بیشتر آئی ڈیز اور بیشتر ایکٹوسٹ اس قتل پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیوں؟ سمجھ سے بالاتر ہے.

* نوید حسین کا دلسوز وصیت نامہ*?
*میں نوید حسین ولد فدا علی اپنے ہوش و ہواس کے ساتھ یہ وصیت نامہ تحریر کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ میری موت کے بعداس پر پورا عمل کیا جائے گا۔*
*اللہ تعالی نے انسان کو بامقصد پیدا کیا ہے۔ انسان کو اپنی پیدائشی مقصد کو سمجھتے ہوئے ایک بامقصد زندگی گزارنا چاہیے۔ خواہ وہ مقصد کسی اجتماعی صورت میں نظر آئےیا انفرادی طور پر انسان کو حصہ بننا چاہیے۔ اور ضروری نہیں کہ ہر مقصد کی کامیابی ظاہری طور پر نظر آئےــــ میں گناہ گار ضرور ہوں توبہ کے بعد اللہ تعالی گناہ معاف کردیتا ہے یہ میرا یقین ہے۔ مگر آج جس سلسلے میں یہ حکمران میری جان لینے کے درپے ہیں اس بات کے پیچھے اپنی جان دینا ذمہ داری اور فخر سمجھتا ہوں کہ اللہ، رسول اور چہاردہ معصومین کا دل سے اقرار ایمان کا پہلا درجہ ہےاور ان کے بتائے ہوئے احکامات اور نظام شریعت کے مطابق زندگی گزارنا مکمل ایمان سمجھتا ہوں، اس کے علاوہ جتنے بھی طریقے یا اسلامی روایات بنائے گئے ہیں وہ باطل اور اسلام کو کمزور کرنے کے لیے سب سے خطرناک سازش ہے۔ ایسے اقدامات یا ان کے پیچھے سرگرم لوگوں کو روکنا ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے، خواہ یہ کوششیں اجتماعی سطح پر ہوں یا انفرادی سطح پر اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالنا چاہیے۔ نیک مقاصد کے پیچھے اللہ تعالی کی خصوصی رحمت شامل ہوتی ہے۔ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بس اللہ تعالی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالی بحق پنجتن پاک(ع) کے طفیل میرے والدین، بہن، بھائیوں اور دیگر عزیزوں کو صبر و ہمت عطا کرے(آمین)*
11. *میری موت کے بعد میرے اس معاملے کو کسی شیعیان علی کو ذمہ دار قرار دے کر ان سے مخالفت نہیں رکھنی چاہیے۔ نہ ایسا کوئی اقدام اٹھانا چاہیے جس سے کسی کی جان کو خطرہ ہو۔*
22. *میرا کسی بھی شیعیان علی کے ساتھ کوئی ذاتی تنازعہ نہیں ہے۔ ایک حق پرست اور مظلوم آواز کی حمایت کی بدولت مختلف مشکلات اور آزمائشوں سے واسطہ پڑ گیا۔ ان مشکلات کو اپنی اخروی زندگی کے لیے کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میرے خلاف سازشیں اور رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہے تو میں اللہ تعالی کی رضا کی خاطر ان تمام شیعیان علی کو معاف کرتا ہوں جو ان سازشوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ میرے معاف کرنے کے بعد کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ انتقام پر اتر آئے خواہ میرے بھائی ہی کیوں نہ ہو*۔
*اللہ تعالی شہید مظلوم آغا ضیاء الدین کے درجات بلند فرمائے جس نے باطل قوانین کے سامنے سر اٹھاکے جینے کا ہنر سکھایا*۔
33. *میرے والد صاحب اگر مجھے اپنی وراثت کا حق دار سمجھتے ہیں تو والد صاحب کی رضامندی کے بعد وہ مکان جو طاہر حسین ولد غلام عباس سے لیا گیا ہے وہ لینا چاہتا ہوں۔ میرے اجر و ثواب کے لیے اس مکان کو اس طرح استعمال میں لایا جائے*:
‌أ. *میری موت کے بعد اگر میرے نام پر کوئی چندہ جمع ہوجائے تو اس رقم سے اس مکان کی اچھی طرح تعمیر کروائی جائے اور مکان کو رہائش یا فلاحی کام کے لیے کرایہ پر دیا جائے اور سال بھر کا جو کرایہ حاصل ہوگا اس رقم کو ہر سال عزاداری امام حسینؑ پر خرچ کیا جائے اور مکان کو غیر شرعی کاموں کے لیے استعمال میں نہیں لانا چاہیے۔ اس سلسلے میں جو اجروثواب ملے گا اس میں میرے والدین، بہنیں اور بھائی بھی شامل ہوں گے۔ دوران رہائش پانی، بجلی وغیرہ کا کوئی مسئلہ بن جائے اور دیکھا جائے کہ واقعی اس میں مالک مکان کی ذمہ داری بنتی ہے تو کرایہ سے رقم ادا کرکے اس مسئلے کو حل کیا جائے*ــــ
‌ب. *اس مکان کی تمام انتظامات کی ذمہ داری میں اپنی ماں کو دینا چاہتا ہوں۔ والدہ اپنے بعد جس کو دے اس کی مرضی ہوگی ــــ اگر اس سلسلے میں کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو یہ انتظامات مقامی مسجد کمیٹی یا پیش امام کے حوالے کیا جائے*۔
‌ج. *مکان کو استعمال میں لانے کا طریقہ وہی ہوگا صرف کرایہ کو عزاداری یا دیگر نیک امور کے لیے استعمال میں لایا جائے*…
44. *میری قبر متعلقہ زمین کے وارث سے رضامندی حاصل کرنے کے بعد علاقے کے شہید علی جوہراور شہید شہزادہ خان کے قبروں کے ساتھ بنائی جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا تو پھر میری ماں کی رضامندی سے جہاں میری ماں کہے ادھر میری قبر بنائی جائے*۔
5. *میرے غسل و تدفین کے فرائض میرے ماموں شکور محمد اور شیخ علی حیدر ادا کریں گے۔*
66. *میری نماز جنازہ آغا راحت حسین الحسینی پڑھائیں گے۔ اگر کسی وجہ سے آغا صاحب کی شرکت ممکن نہ ہوئی تو بلتستان(سکردو) والے جناب آغا سید علی رضوی میری نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ یہ بھی ممکن نہ ہوا تو علاقے کے امام جمعہ و جماعت پڑھائیں گے*۔
77. *جس قتل کے الزام میں مجھے پھانسی دی جارہی ہے، اس قتل میں میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ستم ظریفی یہ کہ عدالتی کاروائی میں میرے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ دوسرا ستم یہ کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے یہاں کے معاملات کے فیصلے سنانا کسی صدر یا وزیر اعظم کو حق حاصل نہیں ہے۔ اگر موجودہ حکومت کو اس کا اختیار حاصل ہے تو پھر یہاں کے عوام کو بھی اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ ملک کے صدر یا وزیر اعظم کو انتخاب کرنے میں اپنی حق رائے دہی استعمال کرنے کا پورا حق حاصل ہو۔ اگر یہ حق نہیں دیا جاتا تو میرے خون کا مقدمہ موجودہ حکومت کے خلاف دائر کرکے اقوام متحدہ کی عدالتوں میں اپیل کی جائے*۔

15894904_2204088766483119_1045265514320543820_n 15895216_2204088946483101_3856015022556546875_n 15977850_2204089966482999_7948963755616071187_n

naveed vom

Naveed

15965189_1212436762125395_9088266045192545444_n

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful