فرانس: پرتشدد مظاہرے امن مارچ میں تبدیل ہوگئے

پیرس (آئی این پی) پیرس میں خواتین نے سڑکوں پر جاری ییلو ویسٹ موومنٹ میں مداخلت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں جاری پرتشدد مظاہروں کو پرامن مارچ میں تبدیل کردیا، پرامن ییلو ویسٹ احتجاجی مظاہرے میں شامل 42 سالہ خاتون کیرن کا کہنا تھا کہ میڈیا صرف تشدد دکھاتا ہے اور ہم مسائل کی اصل وجہ بھول گئے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ دروازے توڑ کر دفاتر میںگھس آنا کسی طرح قابل قبول نہیں، یہ ریاست پر حملہ ہے۔ پیر کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پیرس میں خواتین نے سڑکوں پر جاری ییلو ویسٹ موومنٹ میں مداخلت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں جاری پرتشدد مظاہروں کو پرامن مارچ میں تبدیل کردیا۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل اس ہی تحریک کے مظاہرین نے پر تشدد رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک سرکاری عمارت میں داخل ہو کر اس میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ ملک بھر میں 50 ہزار کے قریب شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے اور اس دوران ان کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔پیرس کے علاوہ فرانس کے دیگر علاقوں جیسے، کائن، شمال مغربی فرانس، مونٹ سیا لیس مائنز، وسطی مشرقی فرانس وغیرہ میں بھی یہ مظاہرے سامنے آئے۔شمال مغربی فرانس کے شہر تالوس میں 300 خواتین سڑکوں پر آئیں جہاں انہوں نے نعرے بازی بھی کی۔وزارت داخلہ کے مطابق پورے فرانس میں سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کی تعداد 50 ہزار تھی۔حکومتی ترجمان بین جامن، جنہیں وسطی پیرس میں چند مظاہرین نے انہیں ان کی وزارت کی عمارت کے دروازے توڑ کر ان کے دفتر سے نکال دیا تھا، کا کہنا تھا کہ اس طرح دروازے توڑ کر گھس آنا کسی طرح قابل قبول نہیں، یہ ریاست پر حملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیلی جیکٹوں والے مظاہرین اور کالے کپڑوں میں ملبوس دیگر افراد نے سڑک پر موجود ایک تعمیرات کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی پر قبضہ کیا اور وزارت کا دروازہ توڑ کر اندر گھس آئے’۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کچھ دیر ہی عمارت کے اندر رہے جہاں انہوں نے 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور عمارت کی کھڑکیاں توڑیں، جس کے بعد وہ وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ان افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.