فن لینڈ کے وزیراعظم وہ اپنے ذاتی گھر میں بھی مہاجرین کو رہائش فراہم کریں گے

یورپی ملک فن لینڈ کے وزیراعظم ’جوہا سیپیلا‘ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ذاتی گھر میں بھی مہاجرین کو رہائش فراہم کریں گے۔ فن لینڈ کے وزیر اعظم دارالحکومت ہیلسنکی کے شمال میں واقع ایک قصبے کیمپیلے کے رہنے والے ہیں۔ جوہا پیٹری سیپیلا نے اپنے ملک کے سرکاری ریڈیو وائی ایل ای کو آج ہفتے کے روز صبح میں نشر ہونے والے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ یکم جنوری 2016ءسے اپنا ذاتی گھر مہاجرین کی رہائش کے لیے وقف کر دیں گے۔ فن لینڈ میں مہاجرین کو پناہ دینے کا عمل رواں برس کے اختتام یا اگلے برس کے اوائل میں شروع ہو گا۔ وزیراعظم کے انٹرویو میں یہ بھی واضح نہیں کہ ان کے ذاتی گھر میں کون سے مہاجرین آباد کیے جائیں گے یا اگر مہاجرین اس گھر میں رہنے کے حوالے سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں رابطہ کس سے اور کہاں کرنا ہو گا۔ وائی ایل ای کو انٹرویو میں سیپیلا نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان وسطی فن لینڈ میں ایک ذاتی گھر رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مطابق وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ دارالحکومت ہیلسنکی منتقل ہو چکے ہیں اور اب ان کا ذاتی گھر خالی اور استعمال میں نہیں ہے۔ 54 سالہ سیپیلا فن لینڈ کی حکمران سینٹر پارٹی کے سربراہ ہیں اور رواں برس مئی سے سینٹر رائٹ حکومت کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔ وزیراعظم اس وقت ہیلسنکی کے مشرقی علاقے سیپو میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہائش رکھتے ہیں۔ وزیراعظم سیپیلا کے مطابق وہ اگلے برس کے آغاز پر مہاجرین کی فن لینڈ آمد پر انہیں اپنے گھر میں ٹھہرائیں گے۔ سیپیلا کے مطابق ہر شخص کو ان مہاجرین کی مدد کرنے کے لیے اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ یورپی یونین اگلے برس یونان، ہنگری اور اٹلی پہنچنے والے مہاجرین میں سے ایک لاکھ بیس ہزار کو امکانی طور پر مختلف یورپی ملکوں میں بانٹنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں فن لینڈ کی حکومت پندرہ ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ فن لینڈ اس تعداد کو دوگنا یعنی تیس ہزار کرنے پر غور کر رہا ہے۔ جوہا سیپیلا کا ذاتی گھر کیمپیلے میں ہے اور یہ ہیلسنکی سے بیس کلومیٹر شمال میں واقع بندرگاہی شہر آﺅلو کے جنوب میں ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ آﺅلو علاقے میں مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے کم جگہیں دستیاب ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے ہم وطنوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مہاجرین کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیں۔ سیپیلا نے اس یقین کا اظہار کیا کہ گرجا گھر اور رضاکار و چیریٹی تنظیمیں بھی مہاجرین کو پناہ دینے کے عمل میں شریک ہوں گی۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے مہاجرین کو پناہ نہ دینے کے حوالے سے عرب ممالک پر شدید تنقید کی جارہی ہے –

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful