فواد چوہدری کا نوکریوں سے متعلق بیان ہی عمران خان کی اصل پالیسی ہے: بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے نوکریوں سے متعلق بیان کو وزیراعظم کی اصل پالیسی قرار دے دیا۔

گزشتہ روز فواد چوہدری نے تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ  اِس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے لیکن لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنا بہت ضروری ہے کہ نوکریوں کیلئے حکومت کی طرف نہیں دیکھا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے، لوگ حکومت کی طرف نوکریوں کیلئے دیکھنا شروع کردیں تو معیشت کا فریم ورک بیٹھ جائے گا۔

اس حوالے سے رتوڈیرو میں ایچ آئی وی سینٹر کے افتتاح کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کا بیان ہی وزیراعظم عمران خان کی اصل پالیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ہر شعبے میں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا، مزید روزگار پیدا کرنے کے بجائے کہتے ہیں کہ  مزید ادارے بند کریں گے۔

آزادی مارچ کے حوالے سے بلاول کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ حکومت کو جانا پڑے گا اور حکومت کو گھر بھیجنے کے مطالبے پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں لہٰذا کارکن اور عہدیدار جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ساتھ دیں۔

پاکستان کی جانب سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت پر انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کیلئے اچھا قدم اٹھایا گیا ہے کیوں کہ جنگ ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے۔

یاد رہے کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابی جلسوں میں ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بناکر دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ تحریک انصاف کے منشور میں بھی شامل تھا۔

کئی وفاقی وزراء بھی ٹی وی پروگرامز میں ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کے اعلان پر عمل درآمد سے متعلق بات کرچکے ہیں۔

اپنے بیان کی وضاحت میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ملازمتوں سے متعلق ان کا بیان غلط تناظرمیں پیش کیا گیا، اگر ایک کروڑ نوکریوں کا کہا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سرکاری نوکریاں ہوں گی، سرکاری ملازمتوں کی فراہمی معیشت کا مستقل حل نہیں، بے دریغ سرکاری ملازمتیں دے کر اداروں کو دیوالیہ کرنا پی پی اور ن لیگ کی حکومتوں کا وطیرہ تھا۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔