فولادی گنبد نامی افسانے کا خاتمہ

تحریر: رامین حسین آبادیان

جمعرات 10 مئی کی صبح شام آرمی نے گولان ہائٹس میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے اہم ترین فوجی ٹھکانوں کو دسیوں راکٹس سے نشانہ بنایا۔ یہ اقدام غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے کئی بار شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور میزائل حملوں کے بعد جوابی کاروائی کے طور پر کیا گیا۔ دمشق نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق نمبر 51 کے تحت جائز دفاع کے قانون کے تحت اسرائیل کی کھلی جارحیت کا جواب دیا ہے۔ لبنانی نیوز چینل المیادین کے مطابق شام آرمی نے اس کاروائی میں گولان ہائٹس میں واقع اسرائیل کے 10 اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کا افسانوی میزائل ڈیفنس سسٹم “فولادی گنبد” ان راکٹس کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں راکٹ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

شام آرمی کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کی جانب فائر کئے گئے دسیوں راکٹس نے اسرائیل کی اہم اور حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ہر فوجی مرکز کے اندر کئی چھوٹے فوجی مراکز قائم تھے۔ ان راکٹ حملوں کے نتیجے میں گولان ہائٹس دھماکوں سے گونج اٹھا اور عینی شاہدین کے مطابق وسیع پیمانے پر آتشزدگی ہوئی جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دیئے اور ان کی آمدورفت دیکھی گئی۔ اس بارے میں شام آرمی کی مرکزی کمان نے اہم بیانیہ جاری کیا ہے۔ بیانئے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے شام کی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی۔ شام آرمی کی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ بیانئے میں آیا ہے: “غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے بارہا شام کی حدود کی خلاف ورزی اور جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف جنگ میں دمشق کا عزم مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جارحانہ اقدامات کا تسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام کی سکیورٹی فورسز کی مزید کامیابیوں کا باعث بنے گا۔”

دوسری طرف فلسطین میں سرگرم اسلامی مزاحمت کی تنظیموں نے جمعرات کے دن شام پر اسرائیلی ہوائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے شام آرمی کی جانب سے ان کے منہ توڑ جواب کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے: “گولان ہائٹس میں اسرائیلی فوجی تنصیبات پر راکٹ حملہ اس غاصب صہیونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کا فطری ردعمل ہے۔ اب وہ وقت گزر چکا جب اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم یہ طے کرتی تھی کہ جنگ کب شروع ہونی ہے اور کب ختم ہونی ہے۔” اسی طرح اسلامی مزاحمت کی دیگر تنظیم اسلامک جہاد نے اپنے بیان میں تاکید کی ہے: “شام کے محاذ پر جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ صہیونی دشمن کی جارحیت کے خلاف فطری اور متوقع جوابی اقدامات تھے۔ غاصب صہیونی رژیم کے وہ ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں جو امت مسلمہ اور عرب دنیا کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرتے ہیں۔”

مزید برآں، فلسطین مزاحمت کمیٹیز نے بھی اپنا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: “صہیونی دشمن کے میزائل حملوں کے جواب میں شام آرمی کے جوابی اقدامات پر مبارک پیش کرتے ہیں اور اسے اس رژیم کی دھونس اور بدمعاشی کے خلاف ایک اہم اور ضروری اقدام قرار دیتے ہیں۔ اسلامی اور عربی اتحاد مضبوط ہونا چاہئے اور ہم غاصب صہیونی رژیم کے خلاف امت مسلمہ کے اتحاد اور تمام محاذ کھول دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔” اسی طرح ایک اور فلسطینی مجاہد گروہ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی گولان ہائٹس پر شام آرمی کے راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے: “ہم نے آج جس چیز کا مشاہدہ کیا ہے وہ امریکہ کے سرکشی پر مبنی اقدامات اور بدمعاشی ہے جو اس نے دو دن پہلے شروع کر رکھی ہے۔ دشمن کے ٹھکانے اسلامی مزاحمتی بلاک کی زد میں ہیں اور تناو بڑھنے کی صورت میں ہم بھی دشمن کے خلاف کاروائیوں میں شریک ہو جائیں گے۔”

شام آرمی کی جانب سے گولان ہائٹس میں اسرائیل کی فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنائے جانا درحقیقت ایک طرح سے اپنا اور ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا دفاع ہے اور اسے دیگر سرزمین پر جارحیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے جمعرات کو دمشق پر میزائل حملے کوئی پہلا جارحانہ اقدام نہیں بلکہ گذشتہ سات برس میں اس غاصب رژیم نے بارہا شام کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی مقامات کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ لہذا شام آرمی کی جانب سے اسرائیلی گستاخی کا منہ توڑ جواب دینا انتہائی ضروری تھا تاکہ اس کے جارحانہ اقدامات کو روکا جا سکے۔ گذشتہ سات برس سے شام میں جاری بدامنی اور سکیورٹی بحران کے دوران اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے اس ملک کے خلاف فوجی جارحیت اور اس کی قومی خودمختاری کو پامال کرنے پر مبنی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

شام کے خلاف اسرائیلی جارحانہ اقدامات بذات خود اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ وہ کسی قانون کا پابند نہیں۔ ابھی کچھ ہفتے پہلے اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے صوبہ حمص میں واقع ٹی فور ایئربیس کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جس میں دسیوں افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔ شام کے خلاف اسرائیل کے جارحانہ اقدامات صرف گذشتہ سات برسوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے پہلے سے جاری ہیں۔ مثال کے طور پر 5 اکتوبر 2003ء کے دن اسرائیلی جنگی طیاروں نے دمشق کے قریب واقع فوجی اڈے کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس حملے سے پہلے اسرائیل کے جاسوسی طیارے دو ماہ تک شام کی فضائی حدود میں پرواز کرتے رہے۔ اسی طرح 6 دسمبر 2007ء کے دن بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ہوائی حملے انجام دیئے۔ 2007ء میں اسرائیل نے شام میں مزید کئی علاقوں کو بھی ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس سال غاصب صہیونی رژیم نے سات بار قنیطرہ اور دمشق کے نواحی علاقوں پر حملے کئے۔

اسرائیلی حکام کا دعوی تھا کہ انہوں نے یہ حملے شام کی جوہری تنصیبات پر کئے۔ 5 مئی 2013ء کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے دمشق کے نواحی علاقے “جمرایا” میں واقع ایک علمی تحقیقاتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح 13 جولائی 2013ء کے دن بھی شام آرمی کا ایک کانوائے اسرائیلی ہوائی حملے کا نشانہ بنا۔ اس بات بھی صہیونی حکام کا دعوی تھا کہ یہ فوجی کارواں حزب اللہ لبنان کیلئے اسلحہ اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا۔ مذکورہ بالا مطالب کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ گذشتہ سات سال کے دوران شام میں جاری سکیورٹی بحران کے دوران اسرائیل کا رویہ کس قدر جارحانہ اور غیر قانونی رہا ہے۔ صہیونی رژیم نے اس دوران شام میں حکمفرما بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر شام حکومت کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف شام میں پیدا ہونے والے سکیورٹی بحران کی اصل وجہ بھی اسرائیل اور امریکہ کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد گروہ ہی تھے۔

لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کی جانب سے صوبہ حلب اور حما میں شام آرمی کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ نتیجتاً شام آرمی بھی اسرائیلی جارحانہ اقدامات کا جواب دینے پر مجبور ہو گئی اور اپنی قومی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو منہ توڑ جواب دیا۔ شام آرمی کی جانب سے گولان ہائٹس میں اسرائیل کی اہم فوجی تنصیبات کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنائے جانے میں ایک اہم نکتہ اسرائیل کے افسانوی میزائیل ڈیفنس سسٹم “فولادی گنبد” کا بھانڈا پھوٹ جانا ہے۔ اگرچہ صہیونی حکام اس ایئر ڈیفنس سسٹم کے ناقابل شکست ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ شام آرمی کے فائر کئے گئے راکٹس روکنے میں ناکام رہا ہے۔ یوں گذشتہ سات برس سے شام میں پراکسی وار میں مشغول ملک کا “فولادی گنبد” نامی افسانہ ختم ہو گیا اور دنیا والوں پر اس کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔

یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکام انتہائی سراسیمگی کے عالم میں اور کوئی قابل قبول ثبوت پیش کئے بغیر ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دے رہے ہیں۔ وہ اپنے اس ہتھکنڈے کے ذریعے رائے عامہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور یہ تاثر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ اگر باہر سے فائر کئے گئے راکٹ “فولادی گنبد” سے عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایران کی جانب سے فائر کئے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خود صہیونی حکام بھی بخوبی جانتے ہیں کہ رائے عامہ ہر گز یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اس کا فولادی گنبد نامی میزائل ڈیفنس سسٹم حتی شام جیسے ملک کے راکٹس روکنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا جو خود ایک عرصے سے شدید بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔

اس بارے میں شام کے رکن پارلیمنٹ فارس الشہابی نے صہیونی حکام اور ذرائع ابلاغ کے اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہ گولان ہائٹس پر انجام پانے والے راکٹ حملے ایران کی جانب سے کئے گئے تھے، کہا ہے: “ہم نے اسرائیلی ٹھکانوں کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کو یہ حقیقت قبول کر لینی چاہئے۔” شام کے رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان درحقیقت اسرائیلی منصوبے کیلئے زہر قاتل ثابت ہوا اور ان کا سارا پروپیگنڈہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ بہرحال، اس میں کوئی شک نہیں کہ شام آرمی کی جانب سے منہ توڑ جواب ملنے کے بعد صہیونی حکام شام میں مزید محدودیت کا شکار ہو جائیں گے اور اب وہ ماضی کی طرح دمشق اور دیگر علاقوں کو وسیع ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے کی جرات نہیں کریں گے۔ شام کی جانب سے گولان ہائٹس میں اسرائیلی فوجی تنصیبات کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنانے کا نتیجہ عمل کے میدان میں اسرائیل کی روک تھام کی صورت میں ظاہر ہو گا اور اب صہیونی رژیم کسی بھی مہم جوئی سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جائے گی۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful