قیدی کی موت پر لواحقین اور سینکڑوں افراد کا دھرنا، مظاہرہ

ڈسٹرکٹ جیل گلگت کے قیدی علی رحمت کی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت میں ہلاکت کے خلاف مرکزی امامیہ کونسل کی کال پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا شہید ملت روڈ ‘ شہید ضمیر عباس چوک سمیت مختلف مقامات پر سڑکوں پر ٹائر جلا کے احتجاج کیا گیا جبکہ پیر کے روز نماز ظہر کے بعد مرحوم علی رحمت کی میت کو احتجاجی جلوس کی شکل میں شہید ضمیر عباس چو ک تک پہنچایا گیا اور مرحوم کی میت کو سڑک پر رکھ احتجاج کیا گیا جس میں قائد ملت جعفریہ سید راحت حسین الحسینی ‘ اسلامی تحریک پاکستان کے رہنما شیخ مرزہ علی سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی احتجاجی مظاہرے کے دوران حکومت مخالف نعرہ بازی بھی کی گئی ۔احتجاجی مظاہرے سے قائد ملت جعفریہ سید راحت الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید کا نہ علاج معالجہ کر وایا گیا اور نہ ہی ذہنی سکون دیا گیا سوچی سمجھی سازش کے تحت جیل میں ڈالا گیا بلا وجہ ایف آئی آر میں نام در ج کر وایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سازش کے تحت سب جیل کی بجائے ڈسٹرکٹ جیل میں ڈالا گیا ہے ۔ سانحہ 13 اکتوبر میں شہید اپنے دفتر میں موجود تھے جس کی باقاعدہ گواہی ملازمین نے بھی دی تھی کہ شہید کا دہشت گردی سے دور دور تک بھی واسطہ نہیں تھا انہوں نے کہا کہ مصالحت کے لئے بندے گئے تھے وہاں پر صلح صفائی سے مسائل حل ہو سکتے تھے مگر ان مظلوموں کو موقع تک نہیں دیا گیا آغا راحت نے کہا کہ ریفرکرنے کے بائوجود مقامی انتظامیہ شہید علی رحمت کاعلاج معالجہ نہیں کروایا گیا علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے علی رحمت شہید ہوگیا ہے کیاقیدیوں کو علاج معالجے کی سہولیات یا جینے کا حق نہیں ہے۔آغا راحت حسین الحسینی نے مطالبہ کیا کہ شہید علی رحمت کے علاج معالجے میں سستی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کی جائے ۔اسلامی تحریک پاکستان کے رہنما شیخ مرزہ علی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس دلخراش واقعے پر پورا علاقہ اور انسانیت سوگوار ہے ۔ یہ کسی اسیر یا معاشرے کے ستائے ہوئے شخص کا جنازہ نہیں ہے بلکہ گلگت بلتستان کی عدل و انصاف ‘ گڈ گورننس اور سب اچھے کا جنازہ ہے ۔ ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کی تشویشناک حالت اور علاج معالجے کا بارہا کہنے کے بائوجود بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ انصاف پسند حکومت ہوتی تو آ ج جیل کے زمہ داروں اور علاج کی منظوری نہ دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی واقعے کی تحقیقات کر کے زمہ داروں کو نشان عبرت بناتے انہوں نے کہا کہ حکومتی تحویل آج تیسرے فرد کا جنازہ اٹھا رہے ہیںاس سلسلے کو بند کیاجائے ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے ہیں حکومت اپنے وجود کو ظاہر کرتے ہوئے حرکت میں آئے سابق وزیر برقیات دیدار علی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بے جرم و خطا افراد کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے اور بعد میں جیلوں سے ان مظلوموں کی لاشیں باہر آتی ہیں حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں انصاف فراہم کریں اس کیس کی انکوائری نہیں کی گئی تو ایک طبقے میں شدید مایوسی اور بے چینی پائی جارہی ہے ہم انصاف چاہتے ہیں تاکہ مایوسی اور بے چینی میں کمی آ سکے انہوں نے کہا کہ 13 اکتوبر کے واقعے میں دو سیدانیوں سمیت 7 افراد شہید اور 15 افراد زخمی ہوئے مگر کسی بھی تھانے میں ایف آئی آر درج نہیں کی گی اس شہید سمیت 14 افراد کو عمر قید کی سزا سنا کر ڈسٹرکٹ جیل میں قید کیا گیا ہے اور گزشتہ چار سال سے اسیر ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی جو ڈیشئل انکوائری کر وائی جائے کہ بیمار اسیروں کو میڈیکل کی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی گئیں اور کوتاہی برتنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے بعد ازاں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں جاں بحق ہونے والے رینجرز کیس میں اسیر قیدی علی رحمت کی نماز جنازہ مرکزی جامع امامیہ مسجد گلگت میں ادا کی گئی نماز جناز ہ قائد ملت جعفریہ آغا راحت حسین الحسینی کی امامت میں ادا کی گئی جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی مرحوم کوسینکڑوں اشکبار آنکھوں کے سامنے آغا محلہ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.