لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں حزب اللہ کی کامیابی کی وجوہات

تحریر: احمد دستمالچیان

اتوار 6 مئی کو لبنان میں پارلیمانی الیکشن کا انعقاد ہوا جس میں حزب اللہ لبنان اور اس کی اتحادی جماعتوں نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ لبنان پارلیمنٹ کی کل 128 سیٹیں ہیں جن میں سے حزب اللہ لبنان اور اس کی اتحادی جماعتوں نے تقریباً 60 سیٹیں حاصل کر لی ہیں۔ اس طرح حزب اللہ لبنان ایک بڑی پارلیمانی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں حزب اللہ لبنان کی اس عظیم کامیابی کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1)۔ امریکی عربی صہیونی محاذ نے گذشتہ کئی برس سے مغربی ایشیا خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے تکفیری دہشت گرد عناصر کے ذریعے بدامنی پھیلا رکھی ہے۔ اس محاذ نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ذریعے خطے میں عراق اور شام کی قانونی حکومتوں کے خلاف پراکسی وار شروع کر رکھی ہے جو اب تک لاکھوں بیگناہ افراد کے قتل اور دیگر بڑی تعداد میں افراد کے بے گھر ہو جانے کا باعث بنی ہے۔ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور ترکی شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی کھلی حمایت اور مدد میں مصروف رہے ہیں۔ دوسری طرف تکفیری دہشت گرد عناصر کے مجرمانہ اور غیر انسانی اقدامات کسی پر ڈھکے چھپے نہیں۔

لہذا لبنان اور خطے کے دیگر ممالک کے عوام داعش کے حامی ممالک سے وابستہ سیاسی لیڈران اور جماعتوں سے شدید متنفر ہو چکے ہیں۔ لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ اور اس کی اتحادی جماعتوں کی محبوبیت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے۔ حزب اللہ لبنان جس نے شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے نہ صرف ان دہشت گردوں کو لبنان میں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہی ہے بلکہ لبنان میں امن و امان کے قیام میں بھی انتہائی اہم اور بنیادی کردار کی حامل رہی ہے۔ حزب اللہ نے لبنان کے اندر بھی دہشت گرد عناصر اور ان کی شرپسندانہ سرگرمیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جس کے باعث لبنانی عوام نہ صرف حزب اللہ لبنان پر اعتماد کرنے لگے ہیں بلکہ یہ جماعت لبنانی عوام کی ہر دلعزیز جماعت بن چکی ہے۔

2)۔ لبنان کا پرانا انتخابی قانونی سعودی عرب کی جانب سے تھونپا گیا تھا جو طائف میں “طائف معاہدہ” کی صورت میں تشکیل پایا تھا اور اس میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی حمایت کی جا رہی تھی۔ گذشتہ پارلیمنٹ میں حزب اللہ لبنان کی کوششوں سے اس قانون میں چند اصلاحات انجام دی گئیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں لبنان کے حالیہ پارلیمانی انتخابات قومیتی بنیادوں پر منعقد ہونے کی بجائے علاقائی بنیادوں پر منعقد ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حزب اللہ لبنان اپنی عوامی محبوبیت کی بنا پر دیگر سیاسی جماعتوں پر سبقت لے گئی۔ خاص طور پر یہ کہ حزب اللہ لبنان نے جوانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی پالیسی اپنائی اور قومیتی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایسے افراد کو آگے لائی جن میں حقیقی طور پر ملک کی خدمت کرنے اور عوام کو درپیش مشکلات حل کرنے کی صلاحیت پائی جاتی تھی۔

3)۔ حزب اللہ لبنان کی کامیابی کی ایک اور اہم وجہ اس کا انتخاباتی نعرہ تھا جو “لبنان کی تعمیر نو اور آبادکاری” پر مبنی تھا۔ یہ نعرہ صرف حزب اللہ لبنان کے اتحاد 8 مارچ کی جانب سے پیش کیا گیا جسے عوام میں بہت پذیرائی ملی۔ دیگر سیاسی جماعتوں اور گروہوں نے اپنے اپنے گروہی مفادات کو ہدف بنا رکھا تھا اور وہ عوام کو درپیش مشکلات اور مسائل سے غافل نظر آتے تھے۔ لہذا لبنانی عوام نے اسلامی مزاحمت کے اس قومی ہدف کو دیگر گروہوں کے محدود اہداف پر ترجیح دیتے ہوئے بھرپور انداز میں اس کی حمایت کا اظہار کیا۔

4)۔ لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ کی شاندار کامیابی کی چوتھی اور اہم ترین وجہ گذشتہ چند سالوں کے دوران سعودی حکام کی جانب سے اس ملک کے اندرونی معاملات میں اعلانیہ اور گستاخانہ مداخلت تھی۔ گذشتہ 9 سالوں سے آل سعود رژیم اپنے کٹھ پتلی سیاست دانوں خاص طور پر سعد حریری کے ذریعے لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی تھی جس کے باعث لبنان شدید سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ اسی بے جا مداخلت کے نتیجے میں کئی بار لبنانی حکومت، پارلیمنٹ اور صدارتی عہدہ تعطل کا شکار ہوئے۔ یہ مداخلت اس وقت اپنے عروج کو پہنچی جب لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو ریاض میں نظربند کر کے ان سے زبردستی استعفی نامہ پڑھوایا گیا۔

آل سعود رژیم یہ تصور کر رہی تھی کہ سعد حریری کو استعفی دینے پر مجبور کر کے حزب اللہ لبنان اور اسلامی مزاحمت کو دھچکہ پہنچا سکتی ہے اور لبنان میں خانہ جنگی شروع کروا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی حکومت نے سعد حریری کی تحقیر کر کے اس کی عزت اور حیثیت پر کاری ضرب لگائی اور عوام میں اس کی محبوبیت شدید کم ہو گئی۔ اس طرح سعودی حکام اپنے ہی غلط اندازوں کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے۔ دوسری طرف المستقبل پارٹی بھی گذشتہ چند سالوں کے دوران عوامی مطالبات پر پورا نہ اتر سکے جس کی بڑی وجہ اس پارٹی میں شامل سیاست دانوں کا کرپٹ ہونا ہے۔

مذکورہ بالا ان تمام وجوہات کے نتیجے میں عوام کا جھکاو حزب اللہ لبنان کی سربراہی میں 8 مارچ الائنس کی جانب بڑھتا گیا جبکہ ان کا مدمقابل 14 مارچ الائنس عوام میں اپنی محبوبیت کھوتا چلا گیا۔ موجودہ حالات میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان کی یہ شاندار کامیابی انتہائی معنی خیز ہے۔ حال ہی میں بعض صہیونی حکام اور ذرائع ابلاغ نے حزب اللہ لبنان کی اس کامیابی کو اپنے اور خطے میں اپنے دوستوں کیلئے بڑی شکست قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اسلامی مزاحمت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے نئے راستے اختیار کریں گے۔

ایسے حالات میں جب شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے، لبنان میں حزب اللہ کی یہ عظیم کامیابی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلامی مزاحمتی محاذ خطے میں فوجی میدان میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی فتح سے ہمکنار ہوا ہے اور آج خطے کی نبض اسلامی مزاحمتی بلاک کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں عراق کے پارلیمانی انتخابات میں بھی یہ کامیابی دہرائی جائے گی۔ اس کے بعد مغربی طاقتوں اور خطے میں ان کی پٹھو عرب حکومتوں کو یہ حقیقت سامنے رکھنی ہو گی کہ وہ ایران کے ذمہ دارانہ اور موثر اثرورسوخ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عالمی سطح پر دھونس اور طاقت کی زبان استعمال کرنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ اسلامی مزاحمتی بلاک سے دھمکی آمیز لہجے میں بات نہ کریں کیونکہ اس کا نتیجہ ان کی مزید شکست کی صورت میں ظاہر ہو گا۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful