لیبیا، عراق کے بعد اب شام

شام میں جاری جنگ سے پہلے وہاں کے عوام میںبے روز گاری، بڑے پیمانے پر بد عنوانیوں، سیاسی آزادی نہ ہونے اور بشارالا سد حکومت کا عوام کو دبانے اور ان پر ظلم کی شکایات عام تھیں۔مارچ 2011ء میں جمہو ریت اور عرب سپرنگ سے متا ثر ہوکر شام کے شہر دیرہ میں بھی عوامی مظاہرے شروع ہوئے ۔ بشار الاسد حکومت نے عوام کو دبانے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔جسکے نتیجے میں پورے ملک میں بشار الاسد اور ان کی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے ۔ جوں جوں حالات خراب اور بگڑتے جا رہے تھے تو حکومت مخالف قوتوں نے بھی اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار اُٹھانا شروع کئے اورعام لوگ اپنے اپنے علاقوں سے قانون نا فذ کرنے والے اداروں کو نکالنے کے لئے بر سر پیکار ہوئے۔بشار الاسد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ بیرونی قوتوں کی مدد سے ملک میں جاری دہشت گر دی اور انتہا پسندی کو کچلیں۔ اور میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے پو ری کو شش کی جائے گی۔ وقت کے ساتھ حالات مزید بگڑتے جا رہے تھے اور سول وارجیسی صورت حال پیدا ہوگئی۔ شام کی اس جنگ میں ایران،روس بشارالا اسد کی مدد کررہا ہے جبکہ امریکہ ، سعودی عرب اور دوسرے کئی ممالک با غیوں کی مدد کر رہے ہیں۔امریکہ سعودی عرب، فرانس، روس ایران اور دوسرے کئی ممالک کی برا ہ راست مدا خلت کی وجہ سے شام افغانستان ہی کی طرح بڑی طاقتوں کے لئے میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔ امریکہ شام اور بشارالا سد کو کمزور اور ختم کر کے اسرائیل کو تحفظ دینا چاہتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ شام میں حزب ا للہ ہے،جس نے ہمیشہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔ جبکہ ایران بشارالاسد کو بچانے کے لئے کو شاں ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن کے بُہت سارے عوام شامی فو جیوں اور بشارا لاسدکے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔اسی طر ح شام کی حکومت اور بشار الاسد کو بچانے کے لئے روس نے 2015 ء میں شامی حکومت کی مخالف قوتوں پر ہوائی حملے کئے۔ اور اسی طرح امریکہ اور دیگر کئی ممالک با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔اسی طر ح ایران کی حکومت شامی حکومت اور بشار الاسد کو بچانے کے لئے فوجی اور مالی امداد ، فوجی مشیر اور رعایتی نر خوں پر ہتھیار بھی دے رہی ہے۔شام ایران کا قریبی اتحادی ہے کیونکہ ایران لبنان میں جنگجو گروہوں کو شام کے راستے مختلف قسم کی اشیاء فراہم کر رہا ہے۔شام میں تُرکی بھی با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو وہ بھی با غیوں یا حکومت مخا لف گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔ اوراس کی پو ری کو شش ہے کہ شام میں ایران کا راستہ ہر حال میں روکا جائے۔ بد قسمتی سے اس جنگ کی وجہ سے اب تک تقریباً 5 لاکھ افراد لُقمہ اجل بن چکے ہیں۔ 63 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور شامی آبادی کے 10 فی صد لوگ ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق شام کے 13 ملین لوگوں کو بنیادی سہولیات کے لئے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اس خا نہ جنگی کو ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل نے2012کے جنیوا کے اعلامیہ کے نفا ذ کے لئے کہا جس کا مقصد ایک کثیر الاقوامی با ڈی بنا نا ہے جسکے پاس تمام اختیارات ہوں گے اور جو باہمی افہام و تفہیم سے بنائی جائے گی مگر شام کی حکومت نے اس وجہ سے اس پر بات کرنے سے انکار کیا کہ بات چیت میں اپوزیشن کے مطالبات پر گفت و شنید نہیں ہوگی۔اسکے بعد 2015ء میں امریکہ نے ایک کمیٹی بنائی جسکا مقصد دشمنی کو ختم کرنا ہے ۔ اور اس میں جہادی گروہوں کو شامل نہیں کیا کرنا تھا مگر یہ اُس مہینے ختم ہوگئی۔ جنوری 2017ء میں قازقستان میں قازقستان نے شامی حکومتی اہلکاروں اور با غیوں کے درمیان با لمشافہ مذاکرات کا آغاز کیا ۔ مگر وہ بھی ناکام ہوگئے۔اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو مسلمان ممالک کی بے اتفاقی سے مسلم اُمہ کو نُقصان پہنچ رہا ہے۔ او ر وہ اپنی طاقت ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ نے اس سے پہلے لیبیا ، عراق ، افغانستان کاحشر کیا اور اب وہ شام ، ایران کے پیچھے لگاہے ۔ مسلمان ممالک بھی عقل اور شعور سے کام نہیں لیتے اور ایک دوسرے کے خلاف وسائل استعمال کرکے ایک دوسرے کو کمزور کر رہے ہیں۔ جہاں تک مسلمان ممالک میں عام لوگوں کی حالت ہے وہ اچھی نہیں۔لہٰذا مسلمان حکمران اپنے ممالک میں اپنے عوام کی حالت کی طرف توجہ دیں ۔ کیونکہ غُربت کو اُم ا لخبا ئث کہا جاتا ہے۔ اور غُربت اور افلاس کی وجہ سے کوئی کسی کا آلہ کار بن جاتا ہے۔تمام مسلمان ممالک اور انکے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔ آپس میں اختلافات ختم کرنے چاہئیں اور اپنے وسائل اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنے چاہئیں۔امریکہ اور دوسری مسلم دشمن طاقتیں مسلمانوں کو چُن چُن ختم کر رہی ہیں اور انکے وسائل پر قا بض ہو رہی ہیں۔

About یاور عباس

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful