متحدہ عرب امارات میں2تیل بردار سعودی بحری جہازوں پر حملہ

دبئی(آن لائن )سعودی عرب کے وزیر توانائی انجینئر خالد الفالح نے پیر کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود کے قریب دو سعودی جہازوں کے خلاف تخریبی کارروائی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے وزیر توانائی کے حوالے سے بتایا کہ 12 مئی بروز اتوار صبح چھے بجے دو سعودی تجارتی بحری جہازوں کو تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے وقت دونوں جہاز یو اے ای کی کمرشل بحری حدود میں فجیرہ کے قریب سے گذر رہے تھے۔ ایک کمرشل جہاز راس تنورہ بندرگاہ سے سعودی تیل لے کر امریکا جا رہا تھا جہاں اس تیل کو سعودی پیٹرولیم کمپنی آرامکو کے ایجنٹوں کو فراہم کیا جانا تھا۔حملے کا مقصد جہاز رانی کی سیکیورٹی اور تیل سپلائی کو نشانہ تھا۔انھوں نے بتایا کہ تخریبی حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی متاثرہ جہازوں سے تیل رسنے کی اطلاعات ہیں، تاہم حملے میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔خالد الفالح نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد بحری نقل وحرکت اور دنیا بھر میں صارفین کو تیل کی محفوظ سپلائی کو گزند پہنچانا تھا۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بین الاقوموامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بحری نقل وحرکت اور تیل لے جانے والے جہازوں کی حفاظت کے لئے اقدام اٹھائے کیونکہ اسے نقصان پہنچنے کی صورت میں توانائی مارکیٹ اور اس سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.