متحدہ مجلس عمل اور بات سے بات

تنظیمیں نظریات سے چلتی ہیں، نظریات کسی کی ملکیت نہیں ہوتے اور نظریاتی پارٹیاں کسی کی لونڈیاں نہیں ہوتیں، ایک جمہوری معاشرے میں تنظیموں اور پارٹیوں میں نکھار، مکالمے، سوال اور موازنے سے ہی آتا ہے۔ ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں ایم ایم اے کی گردن پر قرض کے نام سے کچھ سوالات اٹھائے تھے، ظاہر ہے ایم ایم اے میں شامل جو پارٹیاں حب الوطنی میں اپنی مثال آپ ہیں، اُنہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، لیکن جنہوں نے کراچی سے لے کر چلاس تک اور کوئٹہ سے لے کر کابل تک بستیوں کی بستیاں اجاڑ ڈالی ہیں، جنہوں نے مسافروں کے گلے کاٹے ہیں، جنہوں نے قائداعظم کو کافر اعظم کہا ہے اور جن کے عقیدے اور فتوے کے مطابق قبائلیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستانی فوجیوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، جنہوں نے پاک آرمی کے مقدس جوانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا ہے، جنہوں نے طالبان کے کتے کو بھی شہید کہا ہے، جنہوں نے پاک آرمی کے جوانوں کے سروں سے فٹبال کھیلے ہیں، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملت پاکستان کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کریں۔ آج کراچی سے بابوسر اور کوہستان تک کے شہیدوں کا لہو ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان کے خون کو فراموش نہ کریں۔

بے شک جن کا نعرہ ہی یہ ہے کہ صرف وہ اللہ والے ہیں تو اب ان سے یہ پوچھنا تو ضروری ہے کہ جناب آپ اللہ والے تو ہیں، لیکن کیا قائداعظم اور علامہ اقبال والے بھی ہیں یا نہیں!؟  پاکستان بنانے میں شیعہ اور سنی سب برابر کے شریک تھے، لہذا بحیثیت قوم یہ پوچھنا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کو دارالسلام بنانے والو! کیا بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو بابائے قوم تسلیم کرتے ہو یا نہیں۔؟
جنہوں نے مقدسات اور ناموسِ صحابہ کے نام پر ہزاروں لوگوں کا خون بہایا ہے، اُن سے یہ تو پوچھا جائے کہ وہ علامہ محمد اقبال کو اپنا روحانی باپ مانتے ہیں یا نہیں۔؟
جنہوں نے سانحہ چلاس کے دوران کتنے ہی زندہ لوگوں کو دریا برد کر دیا، ان سے یہ سوال تو کیا جائے کہ کیا وہ اپنے اس فعل پر شرمندہ ہیں یا نہیں۔؟
جو بات بات پر قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں، ان سے یہ تو پوچھا جانا چاہیے کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ آگے چل کر وہ پاکستانی قانون کا احترام کریں گے۔؟
اگر یہ دینی اتحاد ہے تو بتایا جائے کہ یہ اتحاد کس نظام پر ہوا ہے۔؟
کیا نظامِ امامت کو اپنانے پر اتحاد کیا گیا ہے۔؟ یا امارت ِاسلامیہ کے قیام پر یا خلافت کے قیام پر اور یا پھر قدیم ملوکیت یا مغربی جمہوریت یا تھیو کریسی پر ایکا کیا گیا ہے!؟
اور۔۔۔ اور۔۔۔ یہ تو امت کو بتایا جائے کہ کیا اب نظام امامت والوں کو بھی مسلمان تسلیم کر لیا گیا ہے اور اب ان کا خون بہانا مباح نہیں رہا؟ اب ان کی مسجدیں مقدس ہوگئی ہیں اور عام مسلمان ان میں جا کر نماز ادا کرسکتے ہیں اور اب ان کی مجالس سننے سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔؟

اب بات یہ نہیں ہے کہ اس ملک میں کس کی فقہ نافذ ہوگی، جب دینی تنظیموں اور علماء کا اتحاد وجود میں آگیا ہے تو  بات سیاسی کرسیوں، سیٹوں اور فرقوں سے بالاتر ہوگئی ہے، وہ تو ہندوستان میں بھی ہر فرقے کو اس کے  عقائد کے مطابق اعمال انجام  دینے کی آزادی ہے۔ اگر اپنے اپنے فرقے کے مطابق اعمال انجام دینے کی بات تھی تو اس کی خاطر پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی اور اس کے لئے مجلس عمل بنانے کی تکلیف کیوں کی گئی، یہ سب تو قیام پاکستان سے بھی پہلے  سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ جب پاکستان کے علماء سر جوڑ کر بیٹھے ہیں تو اب امت کو علمائے کرام سے الیکشن کے منشور کی نہیں بلکہ امت کی قیادت و سیادت کی امید ہے۔ پاکستان کو بنانے والے اور پاکستان کو بچانے والے شہداء کا خون علمائے کرام سے یہ نہیں پوچھتا ہے کہ چیزوں کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں، پیاز کیوں مہنگا ہو رہا ہے، ٹماٹروں کی قیمت کیوں آسمان کو چھو رہی ہے؟ غریبوں کے بچے ٹاٹ سکولوں میں کیوں پڑھ رہے ہیں اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام کیسا چل رہا ہے۔؟ بلکہ شہداء کا مظلوم خون علمائے امت سے یہ سوال کر رہا ہے کہ ہماری لاشیں کب تک گمنام رہیں گی، ہمارے قاتل کب تک میڈیا پر دندناتے پھرتے رہیں گے، ہمارے قتل کے فتوے دینے والے کب تک آزادانہ ریلیاں اور جلوس نکالتے رہیں گے، ہمارے یتیم بچے اور بیوائیں کب تک انصاف کے لئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے۔

یاد رہے کہ امت مسلمہ میں اتحاد ایک قرآنی حکم ہے، اتحاد کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا، لیکن اتحاد ایک مسلسل عمل کا نام ہے، اتحاد کسی ردعمل کا نام نہیں ہے کہ الیکشن سامنے آجائیں اور یا پھر کوئی اور مشکل کھڑی ہو جائے تو اس مشکل کو دیکھ کر فوراً اتحاد کر لیا جائے اور جب وہ مشکل گزر جائے تو پھر لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ ملت پاکستان نے گذشتہ ستر سالوں میں آگ اور خون کے دریا کو عبور کیا ہے، یہ ملک دین کے نام پر بنایا گیا تھا اور اس ملک میں سب سے زیادہ خون بھی دین کے نام پر ہی بہایا گیا  ہے، اس میں  سب سے زیادہ بھائی کو بھائی دین کے نام پر لڑایا گیا ہے؟ سب سے زیادہ قتل و غارت پر علمائے کرام نے ہی لوگوں کو ابھارا ہے، اب اگر خدا خدا کرکے دین کے علمبردار آپس میں متحد ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو دیر آید درست آید۔ یہ پوری ملت کے لئے خوشخبری ہے، لیکن یہ خوشخبری اس وقت حقیقت کے روپ میں ڈھلے گی، جب علمائے کرام عوام النّاس کو ان کی جان و مال، خون و خاندان اور مال و متاع کی حفاظت کی ضمانت دیں گے، جب علمائے کرام متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے یہ اعلان کریں گے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ہم میں سے کسی کا خون  اور جان و مال مباح نہیں۔ نیز ماضی میں جن مسلمانوں کو ناحق شہید کیا گیا ہے، ان کا قصاص لینے کا وعدہ دیا جائے اور پاکستان میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بھی ازالہ کرنے کا اعلان کیا جائے، یوں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے تاریخ میں تکفیریت کے اس سیاہ باب کو ہمیشہ کے لئے بند کیا جائے۔ ورنہ اگر صرف سیٹوں، کرسیوں اور ووٹوں کی بات ہے تو پھر بات سے بات تو نکلے گی۔

تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.