مجاہد بختاور شاہ جنگ آذادی گلگت بلتستان کے ایک عظیم ھیرو

تحریر : راجہ حسین راجوا

ھیرو اور باغی میں ایک باریک سا فرق ھوتا ھے، اگر بندہ اپنے مشن میں کامیاب ھو جاٸے تو وہ ھیرو اور اگر اس مشن میں ناکام ھو جاتے ھیں تو باغی کہلاتے ھیں۔ جنگ آذادی کے تمام ھیروز کو قوم کا سلام ھو، ان شہیدوں اور غازیوں نے کرنل حسن خان اور بابر خان کی سرپرستی میں قوت ایمانی سے لڑے اور سر خرو ھوگٸے، خدانخواستہ یہ لوگ ناکام ھوجاتے تو یہ انڈین گورنمنٹ اور ڈوگرہ راج کی نظر میں باغی کہلاتے، ان کے ساتھ اور انکے فیملز (Families) کیساتھ ان ظالم و جابر حکمرانوں نے جو سلوک رواں رکھنا تھا اسکا ہر کسی کو اندازہ ھے۔ آج میں اپنے کالم میں ایک ایسے ھیرو کا ذکر کرونگا جن کے کارنامے اتنے مشکل ھیں کہ کسی عام انسان کی بس کی بات نہیں ھے ایک سے ایک مشکل معرکہ تھا جسے بہادری سے انجام دے چکے ھیں اگر انکےخاندان والوں کے پاس سرٹیفیکٹ (Certificates ) نہیں ھوتے تو یہ محض ایک کہانی کے طور پہ سناٸے جاتے، کوٸی بھی اس کو سچ ماننے کیلے تیار نہیں ھوتے۔ تمام چیزیں ثبوتوں کیساتھ آج بھی انکے پاس موجود ھیں اکیس سرٹیفکیٹ موجود ھیں جو ان کے کارناموں کو سچ ثابت کرنے کیلے کافی ھیں، مجاہد بختاور شاہ کے کارناموں کا ذکر کافی کتابوں میں ھو چکا ھے جن کے نام میں آخر میں ضرور منشن کرونگا۔ بہت ساری کتابوں میں مجاہد بختاور شاہ کی کردار کشی کی گٸی ھے جس کا سچ سے کوٸی تعلق نہیں ھے، کچھ لکھاریوں نے اسے چور اور ڈکیٹ ثابت کرنے کی کوشش کیا ھے۔ کہا ھے بختاور شاہ ایک ڈکیٹ تھے وہ جہاں جاتے تھے لوگ اپنے آپکو مقتول تصور کرتے تھے اسکا سچ سے کوٸی تعلق نہیں ھے۔ بختاور شاہ گلگت بلتستان کی ایک عظیم فیملی راکی خاندان میں پیدا ھوٸے، یہ لوگ پیداٸشی بہادر لوگ تھے بختاور شاہ کے دادا راکی اور نانا بیرنو بھی جنگجو تھے،انہوں نے بھی بہت سی قباٸلی جنگوں میں اپنا لوہا منوایا ھے ان کے نانا برنو 1853 کو چلاس کے مقام پر ڈوگرہ آرمی کیخلاف معرکہ لڑے تھے جو معرکہ چلاس سے مشہور ھے اور 1847 کو پسن کوٹ نگر کو فتح کرنے میں انکا کلیدی کردار رہا ھے، اس سے اندازہ لگا سکتے ھیں کہ ان کا تعلق کتنی عظیم اور بہادر قبیلے سے ھے۔ڈوگرہ ادوار میں پولیس میں بھی رھے ھیں یہ ایک شکاری تھے اور شکار کے ماہر تھے۔ وہ انگریزوں کے پولیٹکل ایجنٹ (Political agent) کرنل کوب(Col. Cobb ) کے ذاتی شکاری بھی تھے، استور جیل میں اسلیے ڈالا گیا تھا اس نے غیرت کے نام پہ اپنے کسی رشتہ دار کو قتل کیا تھا، وہ جیل سے فرار ھونے میں کامیاب ھو چکے تھے کیونکہ انکو سرینگر منتقل کرنا تھا، انکے ساتھی کو سرینگر لے جا چکے تھے اسلیے انھوں نے ڈوگرہ سے کنارہ کشی اختیار کیا تھا۔

کرنل میرزہ حسن خان نے 5 کشمیر انفنٹری اور این اے اسکوٹس کی مدد سے بونجی کنٹونمنٹ پہ حملہ کر کے اسے قبضہ کیا ان میں سے کچھ سپاہی بھاگنے میں کامیاب ھو گٸے۔ انھوں نے پلان کے تحت دو راستوں کا انتخاب کیا کچھ استور کی طرف بھاگے اور کچھ سکردو کیطرف۔ لوگ مبارک باد دینے میرزہ حسن خان کے گرد جمع ھوگٸے انھوں نے ایک تاریخی تقریر کیا اس کیساتھ لوگوں سے مدد کی اپیل کیا۔ انکا کہنا تھا کہ سول اور فوجی مل کر اس جنگ کو جیتنا ھے، ڈوگرہ کے بھاگے ھوٸے سپاہیوں کو واپس کنٹرول کرنا ضروری ھے سکردو کی طرف بھاگنے والے دشمن کو کنٹرول کرنا بہت ضروی تھا اگر وہ لوگ سکردو میں موجود انڈیں فوجی چھاونی تک پیغام پہنچاتے تو بیڑہ پار تھا، ان میں سے کوٸی بھی دشمن کو چیس (Chase) کرنے کیلے تیار نہیں تھے، اس ہجوم میں سے بختاور شاہ اٹھے اور اس چیلنج کو قبول کیا۔ استور کی طرف دو سو نفر بھیجے گٸے اور اسکردو کی طرف یک و تنہا بختاور شاہ نکلے، اگلے دن 7 نومبر 1947 کو مندی پل کے مقام پہ انکا دشمن کیساتھ معرکہ ھوتا ھے، ایک بختاور شاہ کا 32 سپاہیوں کیساتھ شام تک فاٸرنگ کا تبادلہ ھوتا ھے آخرکار وہ دشمن کو مسخر کرنے میں کامیاب ھوتے ھیں ان میں سے دو کو مار دیتے ھیں چار زخمی ھوٸے باقی کو قیدی بناکر میرزہ حسن کے سامنے پیش کیا گیا۔ جس کے اعزاز میں میرزہ حسن خان اور بابر خان کا دیا ھوا سرٹیفکیٹ آج بھی موجود ھے۔

جنگجوں ھونے کیساتھ ساتھ ان کے پاس لیڈر شپ اسکلز (Skills) بھی تھے فرار سپاہیوں کو واپس لانے کیساتھ روندو کے راجہ اور میرزہ حسن خان کے بیچ لاٸزون (Liaison) کا بھی کردار ادا کیا۔ منڈی پل کے معرکے کے بعد دوبارہ اسطرف جانا خطرہ سے خالی نہیں تھا پھر بھی وہ میرزہ حسن خان کے خط کو روندو کے راجہ تک پہنچانے میں کامیاب ھوٸے اس کے اعزاز میں بھی دیٸے گٸے سرٹیفکیٹ روندے کے راجہ اور میرزہ حسن خان کے دستخط کیساتھ موجود ھیں۔ اس لیٹر کے پہنچانے کے بعد روندو کے راجہ اور آذادی فوج میں میں اعتماد بحال ھوگیا اسکے بعد میرزہ حسن خان نے انھیں لاٸزون اور کرنل احسن خان کو آذاد فورس کا کمانڈر تعینات کیا۔ اس دوران پہاڑوں میں بہت ذیادہ برف تھا جسکی وجہ سے کچھ سپاہی بھٹک گٸے اس سے لفٹن اسماعیل اور کرنل احسان میں لڑاٸی بھی ھوٸی تھی،بختاور شاہ تیسری دفعہ اسطرف آ رھے تھے انکو راستوں کا صیح پتہ تھا اسماعیل کے کہنے پہ ان سپاہیوں کو ڈھونڈنے میں کامیاب ھوگٸے۔ اسکے عوض دیا گیا سرٹیفیکٹ آج بھی موجود ھے۔

9 فروری 1948 کو ساری کے مقام پر آذاد فورس کرشن سنگ کے پلاٹون کیساتھ جنگ میں مصروف تھے دشمن کے ایک جاسوس جن کا نام غلام رسول تھا، انھوں نے یہ افواہ چھوڑا دشمن آذادی فورس پر بہت بڑا حملہ کرنے والے ھیں یہ سن کر فورس کمانڈر نے جوانوں کو پیچھے جاکر سور داس میں ڈیفنس بنانے کا حکم دیا اسے سواٸے بختاور شاہ کے سب نے قبول کیا کیونکہ انکو یقین تھا کہ آذادی فورس نے کرشن سنگ کو گھیر لیا ھے اسے بھاگنے نہیں دینا چاہیے۔ ایک خطرناک معرکے کے بعد کرشن سنگ نے اپنے 15 ساتھیوں سمیت بختاور شاہ کے سامنے سلینڈر کیا کمنڈر ونگ نے انھیں سرٹیفکیٹ سے نوزا ھے جو اس واقعے کو صیح ثابت کرنے کیلے کافی ھے، کپٹن نیک عالم ڈوگرہ کے آفسر تھے انھوں نے بختاور کا پیچہا کیا لیکن ناکام ھو گٸے، بعد میں انھوں نے بختاور کے سر پہ دس ہزار روپے انعام بھی رکھا تھا اور یہ خبر آل انڈیا ریڈیو پہ نشر بھی ھو چکا تھا۔ ان کے بہت سارے کارنامے ھیں جن کا ایک کالم میں ذکر کرنا ممکن نہیں ھے، انکے نواسے عاشق حسین راکی انکے کارناموں پہ زنجیر سے شمشیر تک کے عنوان سے ایک کتاب لکھ چکے ھیں جو عنقریب پبلش(Publish) ھونے والی ھے جس میں ایک ایک چیز کا تفصیل موجود ھوگا، باقی بختاور شاہ وہ واحد سویلین ھیں جنہوں نے آذاد فورس کیساتھ مل کے 14 مہینے اس ملک کیلے بغیر تنخواہ کے محاز پہ جنگ لڑے ھیں، خرپوچو بختاور مرچہ، پرکوتو بختاور غار آج بھی انکے نام سے منسوب ھیں، ایسے ھیرو کو اتنا حلقہ لینا اور انکو پس پشت ڈال کر انکے کارناموں کو ایقنالج (Acknowledge ) نہیں کرنا بہت بڑا المیہ ھے۔ مندرجہ ذیل کتابوں میں انکا ذکر ھوا ھے۔ کشمیر کمپٸین (GHQ)، شمشیر سے زنجیر تک ( کرنل حسن خان)، تاریخ بلتستان (حسین آبادی)، قراقرم ہندوکش(منزوم علی)، جہاد مسلسل(امان اللہ)، جنگ آذادی گلگت بلتستان و کشمیر (مولوی حق نواز)۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔