مجوزہ پیکج مسترد،اپوزیشن کا احتجاجی تحریک چلانے کااعلان

گلگت بلتستان کی اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ انتظامی اصلاحاتی پیکیج گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کو سی پیک کے خلاف سازش اور عوام کو مزید ستر سال بے آئین رکھنے اور مزید بے اختیار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اس مجوزہ نظام کیخلاف احتجاجی تحریک چلانے اور اس حوالے سے بارہ مئی کو گلگت شہر میں احتجاجی جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے پیر کے روز گلگت پریس کلب میںا سلامی تحریک کے رہنما و قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) شفیع خان ، پی پی کے رکن اسمبلی جاوید حسین ،تحریک انصاف کے رکن اسمبلی راجہ جہانزیب خان ،ایم ڈبلیو ایم کی رکن اسمبلی بی بی سلیمہ اور رکن اسمبلی کاچوامتیاز حیدر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیار بنانے کیلئے گورننس آرڈر 2009 نافذ کیاتھا گورننس آرڈر 2009ء میں موجود خامیوں کو دور کرکے علاقے کے عوام کو مزید بااختیار بنانے کی بجائے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے نام پر مسلم لیگ ن کی حکومت علاقے کے عوام کو مزید بے اختیار بنانے کی سازش کررہی ہے اسمبلی کے پاس موجود اختیارات وزیراعظم کو منتقل کئے جارہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کی عدلیہ کو مزید بے اختیار بنایا جارہا ہے انہو ںنے کہا کہ جو عدلیہ وزیراعظم کے فیصلوں کیخلاف اپیلوں کی سماعت کا اختیار نہ رکھتی ہو اسے ہم آزاد عدلیہ کیسے تسلیم کریں گے ان رہنمائوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے مجوزہ ڈرافٹ کی فائنل منظوری سے قبل گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ان کیمرہ سیشن میں پیش کرکے ممبران اسمبلی کو اعتماد میں لیاجائے گا ،مگر چونکہ مجوزہ نام نہاد اصلاحات گلگت بلتستان کے عوام کومزید بے آئین رکھنے کی سازش ہے اس لئے ممبران اسمبلی کے احتجاج کے خوف سے وزیراعلیٰ نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو بائی پاس کرکے مجوزہ اصلاحات کی وزیراعظم سے منظوری حاصل کی ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتیں مجوزہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو متفقہ طورپر مسترد کرتے ہیں اگر اسے جبراً علاقے میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں ایک نہ ختم ہونے والے احتجاج کا سلسلہ شروع کیاجائے گاانہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کمیٹی نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے اور قومی اسمبلی وسینیٹ میں عبوری نمائندگی دینے کی سفارش کی تھی مگر وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور آزادکشمیر کے وزیراعظم نے آپس میں ملی بھگت کرکے ان سفارشات کو پیک کرایا ہے اور اپنی من پسند سفارشات شامل کی ہیں انہو ںنے کہاکہ مجوزہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے ذریعے گلگت بلتستان میں غیر قانونی ٹیکسز کے نفاذ علاقے کی اراضی کو خالصہ سرکار قرار دیکر ہتھیانے اور علاقے کی ملازمتوں پر شب خون مارنے کی سوچی سمجھی سازش ہے اس سازش کو ہم کسی بھی صورت میں کامیاب ہونے نہیں دینگے اور مجوزہ اصلاحات کیخلاف گلگت بلتستان میں بھرپور احتجاج کرینگے ۔ کیپٹن (ر) شفیع خان نے کہا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے پری بجٹ اجلاس کے لئے ریکوزیشن جمع کر وائی گئی تھی جو کہ پیر کے روز مسترد کر دی گئی ۔ لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک تہائی اکثریت کے تحت اسمبلی اجلاس کی کال دیں اس مقصد کے لئے ریکوزیشن پر 8 ممبران کے دستخط ہو چکے ہیں 3 مذید ممبران کے دستخط ہونے پر اسمبلی اجلاس کی کال دیں گے پریس کانفرنس کے دوران پی پی پی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے انکشاف کیا کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے گلگت بلتستان کو عبوری سیٹ اپ دینے کی تجویز دی تھی جسے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلی نے مسترد کیا اور اصلاحاتی پیکیج متعارف کر وانے کا ڈرافت تیار کر وایا گیا جس میں تمام اختیارات وزیر اعظم کو دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پیرا شوٹ پیکج کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور زبر دستی مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو عوامی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیاجائے گا جاوید حسین نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سات دنوں سے تمام تاجر احتجاج پر ہیں مگر وفاقی و صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہے غیر قانونی ٹیکسز اور وی بوگ سسٹم کے خلاف احتجا ج کا سلسلہ جاری رہے گا ایم ڈبلیو ایم کی رکن اسمبلی بی بی سلیمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی پیکج کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا مگر اسمبلی ممبران کو اندھیرے میں رکھ کر پھٹک تک نہیں ہونے دی گئی اور اسمبلی کے تمام اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کر دی گئی ہے لہذا ایسے کسی بھی اصلاحاتی پیکج کو مکمل طور پر مسترد کیاجاتا ہے گلگت بلتستان کا اپنا پارلیمانی ایکٹ آرڈر ہونا چاہیے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی راجہ جہانزیب نے پریس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی پیکج کو جابرانہ پالیسی کے تحت نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہوئے مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی پیکج کے نام پر گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کو غصب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اگر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو گلگت بلتستان کے تمام گلی کوچوں میں عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی ۔ آزاد ممبر کاچو امتیاز حیدر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پیدائشی طور پر پاکستانی ہیں جبکہ دوسرے صوبوں کے عوام بائی چوائس پاکستانی ہیں اصلاحاتی پیکج کے نام پر تمام اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ہوتو اسمبلی کو لازمی طورپر اعتماد میں لینا چاہیے اس بارے میں وزیر اعلی نے ان کیمرہ سیشن کرنے پر حامی بھر لی تھی مگر ڈرافٹ کی تیاری میں ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان بھی متاثر ہو چکا ہے ایسے اقدام کو علاقے کا سودا کرنے والے غدار کہنا بے جا نہ ہوگا ۔ کاچو امتیازنے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2009 ء میں پیکج دیا جس کو سراہا جاتا ہے اس میں ترمیم کر کے بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔ مگر ن لیگ نے اصلاحاتی پیکج کے نام پر تمام اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کئے ہیں 63 صفحات پر مشتمل اس اصلاحاتی پیکج کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے ۔ اگر زبر دستی نافذ کیا گیا تو اس کا انجام عدم اعتماد ‘ اسمبلی کا خاتمہ اور استعفوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful