مشال قتل کیس میں گرفتار طلباء کے والدین نے جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کردی

پشاور ( نیوز ڈیسک ) مشال خان کے قتل میں گرفتار طلباء کے والدین نے جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے اور عدالت میں چالان پیش کرنے کیلئے 10 جون (کل تک) کی ڈیڈ لائن دیدی ہے۔ گرفتار طلباء کے والدین نے اپنے مطالبات کے حق احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ بعدازاں مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرفتار طلباء کے والدین کا کہنا تھا کہ کیس کو مردان سے کہیں اور منتقل نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے 57 خاندان متاثر ہوں گے اور اگر مشال خان کے والد یہاں کوئی خوف محسوس کرتے ہیں تو صوبائی حکومت انہیں سکیورٹی فراہم کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ارکان نے گرفتار طلباء پر جیل میں تشدد کیا ہے، اس لئے ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، کیونکہ تحقیقات صحیح طور پر نہیں کی گئیں۔ سماجی کارکن صاحبزادہ مہمند نے اس حوالے سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کیس پیش نہیں کیا جا رہا، قانون کے مطابق چالان بھی سپریم کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا، اب مشال خان کے والد کہتے ہیں کہ کیس کو مردان سے منتقل کیا جائے تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کہ ایک فرد کیلئے 57 خاندانوں کو تکلیف دی جائے، ہم جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرتے ہیں۔

دوسری جانب عبدالولی خان یونیورسٹی کے وارڈن علی نواز نے عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ گولی لگنے کے بعد مشال خان نے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے کلمہ طیبہ کا ورد کیا تھا۔ گذشتہ روز سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں انہوں نے مزید بتایا کہ مشتعل افراد ہاسٹل کی بالائی منزل پر پہنچ گئے تھے، جہاں سے 3 گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی، جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو مشال خان زخمی پڑا کراہ رہا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور اس نے مذہب کی توہین نہیں کی۔ وارڈن کا مزید کہنا تھا کہ جب ایمبولینس منگوانے کی کوشش کی گئی تو مشتعل افراد نے دوبارہ مشال خان پر تشدد شروع کر دیا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful