مشرق وسطٰی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے

سربراہ امت واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی نے کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ “شہید عارف الحسین الحسینی نے پشاور میں قیام کے دوران مسلسل یہ کوشش کی کہ مسلمان مکاتب فکر اور اسلامی فرقوں کے تمام علما کو مختف حوالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بٹھایا جائے اور ان کے درمیان جو مشترکات ہیں، ان کی نشاندہی کی جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ جو اختلافات ہیں، ان کو ان کے گھروں تک اور ان کی مسجدوں تک محدود کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس اعتبار سے شہید عارف حسینی نے مشترکہ جماعت کی بھی بنیاد رکھی، بلکہ خود پڑھائی بھی اور اہل سنت علما کے ساتھ نماز پڑھی بھی۔”

اتحاد بین المسلمین کی حوالے سے شہید عارف حسین الحسینی کی کوششوں پر ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ” شہید عارف نے اہل سنت اور اہل تشیع کے مشترکہ سیمینارز کا انعقاد کیا، جہاں مختلف مکاتب فکر کے علما نے شرکت کر کے اتحاد بین المسلمین کی اہمیت پر گفتگو کی، مختلف مسالک کے مراکز میں گئے، جہاں ایک ایسی فضا قائم ہوئی کہ شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف نظر نہیں آیا، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑے دیکھے گئے، یہ سب ان کی عملی کوششیں تھیں۔”

امام خمینیؒ کے پیروکار کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ “چونکہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی خود امام خمینی رح کے شاگرد تھے، اس لئے فطری طور پر ان کی آئیڈیالوجی سے بڑے متاثر تھے، اس لئے جہاں امام خمینی رح نے اتحاد بین المسلمین کو وقت کی بڑی ضرورت اور امت مسلمہ کی نجات اور عالمی استکبار کی شکست کا ذریعہ قرار دیا، وہیں شہید عارف حسینی نے پاکستان میں اس نظرئیے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر وہ راستہ اختیار کیا، جس پر چلتے ہوئے آپ اختلافات کو ختم کر کے اتحاد کی فضا قائم رکھ سکتےہیں، یہ ان کی عملی جدوجہد ہے، سیرت ہے، جو اس چیزکو بیان کرتی ہے کہ شہید عارف حسینی نے کس طرح سے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑا ہے۔”

مشرق وسطٰی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ “مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اعتبار سے پوری دنیا کے مستضعفین کے لئے ایک نام قابل قبول ہے، اور واجب الاحترام ہے، جس کو سید علی خامنہ ای کہتے ہیں، آج پوری دنیا کے اندر اگر کوئی استکبار کی آنکھوں کا کانٹا ہے، حلق کی ہڈی ہے اور تمام مستضعفین اور کمزوروں کے لئے کوئی امید کا چراغ ہےتو اس چراغ کا نام سید علی خامنہ ای ہے، رہبر موجود ہے، رہنما موجود ہے، تعلیمات موجود ہیں، راہ موجود ہے، دوست اور دشمن کی شناخت بھی موجود ہے، آپ اس وقت اگر شام میں دیکھیں تو تمام مکاتب فکر مل کر داعش اور عالمی استکبار کا مقابلہ کر رہے ہیں، افغانساتن کے اندردیکھیں، مستجعفین مل کر استکبار کا مقابلہ کر رہے ہیں، یمن کے اندر دیکھیں، وہی لوگ ہیں حوثی، جن پر شیعیت کا لیبل لگانےکی کوشش کی جارہی ہے، یہ بھی اسلام کا پرچم ہاتھ میں اٹھا کر عالمی استکبار کے خلاف برسرپیکار ہیں، یہی صورتحال آپ کو بحرین میں نظر آتی ہے، یہی صورتحال آپ کو عراق میں نظر آتی ہے، راستہ واضح ہے، راستے پر چلنے والے بھی واضح اور آشکار ہیں، ان کے دست و بازو بننے والے سید حسن نصراللہ جیسے لوگ موجود ہیں، ان کا دست و بازو بننے والے عمار حکیم موجود ہیں، ایران میں ایسی شخصیات موجود ہیں، پاکستان کے اندر ایسی شخسیات موجود ہیں، یہ جو دوسرے اور تیسسرے لیول کی قیادتیں ہیں، ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے، بلکہ ان سب کی نگاہ اس عظیم رہبر کی جانب ہے، جس نے آج کے اس دور میں نبی کریم ص کی جانشینی اور امیر المومنینؑ کی جانشینی کا فریضہ نبھایا ہے اور ولی فقیہہ کے نظام کے ذریعے امہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور انھیں یہ شعور دیا ہے۔”

فلسطین، عراق اور شام کی صورتحال پر انھوں نے کہا کہ “مشرق وسطیٰ میں مسئلہ کسی کی ایما یا خوش نودی کا نہیں، بلکہ مسئلہ جنگ ہے، مسئلہ ہے منافع کی جنگ، مسئلہ ہے ارادوں کی جنگ مسئلہ ہے افکار کی جنگ، اس وقت ایک طرف مستضعفین کی فکر ہے جبکہ دوسری جانب مستکبرین کی فکر ہے، مستکبرین کی فکر کا سپہ سالار اسرائیل ہے، اس کا امام امریکا ہے اور اس کے سپاہی سعودی عرب اور اس جیسے دوسرے ملک ہیں، دوسری طرف ایک عوامی طاقت ہے، جس کے سرخیل سید علی خامنہ ای ہیں۔”

مشرق وسطٰی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے، کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ “اگر آپ مشرق وسطٰی کی جنگ کو ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو یہ جنگ مستضعفین اور مستکبرین کی جنگ ہے، اس مستضعفین اور مستکبرین کی جنگ میں ایک طرف عوام ہیں، تو دوسری طرف حکمران ہیں، آپ سعودی عرب جائیں یا کسی دوسرے ملک جائیں، عوام اپنے حکمرانوں کے ساتھ نہیں ہیں، عوام کا اپنا ارادہ اپنی خواہشات اور اپنے نعرے ہیں، لیکن یہ حکمران اگر کسی طرح بھی کمزور پڑجاتے ہیں تو ان عالمی استکباری قوتوں کے منافی اس کا سب سے زیادہ نقصان امریکا اور اسرائیل کو پہنچتا ہے، اس لئے ان ملکوں میں ایسے حکمراں منتخب کرتے ہیں جو ان کے مفادات کا تحفظ کرسکیں، انھیں وہاں کے عوام یا اسلام سے کوئی غرض نہیں، اس سلسلے میں آپ سعودی عرب کا تشکیل دیا گیا نام نہاد اکتالیس ملکوں کا اتحاد دیکھ لیں، جس سے واضح ہوگا کہ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ان کا نشانہ بن رہے ہیں، دوسری جانب وہ عوام ہے، جو ان سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں، اس وقت عالمی مغرب کے تمام تر مفادات کا محور عالم اسلام ہے، اسی لئے امریکا اور مغرب کی نظریں عالم اسلام پر ہیں، جسے ان لوگوں نے الجھا کر رکھا ہوا ہے، جس سے انھوں نے کئی فوائد حاصل کئے ہیں، یہاں کا سارا تیل وہاں جا رہا ہے، یہاں کا پیسہ وہاں جارہا ہے، وہاں سے اسلحہ آرہا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے، چاہے اس کا پس منظر سیاسی ہو یا معاشی ہو۔ ادھر سے جو پیسہ وہاں جاتا ہے اس کے نتیجے میں وہاں کی بیروزگاری ختم ہورہی ہے، اگر آپ کو یاد ہو تو جب سعودیوں سے ٹرمپ نے معاہدہ کیاتو اس کے بعد ٹرمپ نے امریکیوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ میں
ڈالرز لے کر آرہا ہوں تمہاری بیروزگاری ختم کرنے کے لئے، یعنی یہ وہ جنگ ہے، جس کا براہ راست تعلق مسلم عوام سے ہے، مسلم عوام کی جنگ ہے عالمی استکباری قوتوں سے اور ان عالمی اسکتباری قوتوں کے نمائندے کبھی شاہ عبداللہ کی صورت میں ہوتے ہیں تو کبھی شاہ سلمان کی صورت میں نظر آتے ہیں۔”

عراق اور شام سے دہشت گردوں کے فرار کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ “داعش کے جنگجو شام یا عراق سے یہاں بھاگ کر نہیں آرہے، اور مسئلہ ان کی یہاں آمد کا نہیں، بلکہ اصل چیز فکر ہے، وہاں پر ان کے خاتمے کے بعد وہ عرب لوگ یہاں نہیں آئیںگے، بلکہ خود برصغیر پاک و ہند میں، پاکستان و افغانستان میں اس فکر کے حامی لوگوں کی کوئی کمی نہیں، چاہے وہ سپاہ صحابہ کی شکل میں ہو، چاہے القاعدہ کی شکل میں ہو، چاہے جماعت اہل سنت والجماعت ہو، حرکۃالانصار ہو، چاہے لشکر طیبہ، کچھ بھی ہو جہاں تک یہ فکر جاری ہے، داعش ہر جگہ موجود ہے۔ لہذا وہاں پسپائی کی صورت میں انھیں ایک ٹھکانہ چاہیئے یہاں ان کے حمایتیوں کی کمی نہیں،اس لئے یہاں سے اچھی ان کے لئے کوئی اور جگہ بھی نہیں۔ ان کے لئے یہاں ایک بہترین ماحول موجود ہے، چاہے وہ تورا بورا میں ہو یا قندھار میں ہو، اگر وہ یہاں کا رخ نہ بھی کریں تب بھی یہاں ایک اچھی خاصی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اس فکر کی پیروی کرتے ہیں۔لہذا چاہے افغانساتن میں ہو چاہے پاکستان میں ہو داعش کام کررہی ہے، جب پیسہ آنے لگے گا تو اس کی سرگرمیاں مزید بڑھ جائیں گی۔”

داعش کی مالی و عسکری مدد کون کررہا ہے، اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ “عراق کے ستر فیصد اور شام کے پچہتر فیصد علاقے پر داعش کا قبضہ ہوجاتا ہے ، تو یہ وہاں سے تیل نکال کر بیچتے ہیں اور امریکا و اسرائیل اس تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، لہذا یہی ممالک داعش اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کی مالی و عسکری مدد کر رہےہیں، جس سے یہ کالعدم تنظیمیں مزید مضبوط ہورہی ہیں۔ اسی پیسے سے خودکش بمبار تیار کئے جاتے ہیں، جس سے مسلمانوں کو مارا جاتا ہے۔”

مولانا امین شہیدی نے ایران کی اہم شخصیات کے دورہ یورپ کے موقع پر صیہونیوں کے احتجاج پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ” ان کے اندر آگہی نہیں ہے، اسلامی دنیا بالخصوص تشیع کے حوالے سے، اس کیوجہ وہاں کا میڈیا ہے، جس نے ان کے سامنے اسلام کا ایسا چہرہ پیش کی ہے، جو صرف طالبان کی نشاندہی کرتا ہے، جو القاعدہ کی نشاندہی کرتا ہے، جب یہاں سے پیغام جائے گا، ایک کردار جائے گا، ایک بندہ جب اپنے ساتھ حقیقی اسلام لے کر جائے گا، تو وہاں جھوٹے میڈیا کا پردہ چاک ہوجائے گا، یہی وجہ ہے کہ اکثر یورپی ملکوں میں ایران کے نشریاتی ادارے “پریس ٹی وی” پر پابندی ہے، جس کا مقصد یورپی عوام کو حقیقیت سے آگاہ ہونے سے روکنا ہے، اگر پریس ٹی وی لوگوں نے دیکھا تو سی این این اور بی بی سی کا عقدہ کھل جائے گا، لہذا یہ پروپیگنڈہ وار ہے، کسی ایک بندے کے دورے کے خلاف احتجاج کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مل بیٹھ کر معاملات نمٹانے میں ہی عقلمندی ہے۔”

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful