’’ممی ڈیڈی‘‘ بچوں کے ا سکول۔ سلمان حیدر

۔

یوں تو نجی تعلیمی ادارے عموماً زیرِ بحث آتے ہی رہتے ہیں لیکن پچھلے تین سال سے یہ خاص وعام کی توجہ کا مرکز ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں سکول ،کالج ، یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجنیرنگ کالج شامل ہیں۔ تین سال پہلے صفحہ او ل کے نجی سکولوں کی ہوش ربا فیسوں اور ان میں من مانے اضافوں کی وجہ سے اسلام آباد کے کچھ متاثرہ والدین نے احتجاج کیا تو یہ معاملہ اہمیت اختیار کر گیا اور حکومت نے اسکا نوٹس لیا۔ اور پھر پرنٹ ، الیکٹرانک، اور سوشل میڈیا نے اس معاملے کو بہت کوریج دی۔ جن مہنگے سکولوں کی وجہ سے یہ معاملہ اٹھا تھا انہں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا لیکن نچلے درجے کے سکولوں پر محکمہ تعلیم نے اپنے دانت خوب تیز کیے رکھے۔ غریب کی بیوہ سب کی جورو بنی رہی۔

دو روز پہلے صفحہ اوّل (مہنگے) کے نجی سکولوں کے حوالے سے جناب چیف جسٹس صاحب نے بھی ایک سماعت کے دوران انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور ان اسکولوں کو’’ممی ڈیڈی‘‘ بچوں کے ا سکول قرار دیا جہاں آیا بچوں کے پیمپر بھی تبدیل کرتی ہیں۔نجی سکولوں کے حوالے سے بہت سے پہلو بحث طلب ہیں۔ لیکن ابھی تک صرف ایک ہی معاملہ زیر بحث ہے اور وہ ہے فیسوں کے بہت زیادہ ہو نے کا۔ یہ مسئلہ چونکہ جیب ،بجٹ یا آمدنی سے متعلق ہے اور کسی بھی گھرانے کو براہِ راست متاثر کرتا ہے اس لیے بلاشبہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور والدین نے بھی موقع پا کر اس پر خوب ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور حکومت اور اداروں پر اپنے دباؤ کو برقرار رکھا ہے۔ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے وٹس ایپ پر کئی گروپ بنا رکھے ہیں جو اس معاملے کی اہمیت کو ایک سطح پر قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ والدین بہت پْر جوش ہیں اور گاہے بگاہے پریس کلب کے باہر یا دیگر مقامات پر احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان والدین سے ملاقات کریں یا وٹس ایپ پر ان کی گپ شپ میں شامل ہوں تو معلوم پڑتا ہے کہ ان کے دلوں میں مہنگے نجی سکولوں کیلیے جو غصہ ہے وہ ناپسندیدگی تک پہبچتا ہوا ہے ( میں نے لفظ’’ نفرت ‘‘قصداً استعمال نہیں کیا ) نجی سکولوں کے خلاف شدید جذبات رکھنے کے باوجود یہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم وہیں سے دلواتے ہیں۔ ‘‘اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں ‘‘ والا معاملہ ہے۔ جبکہ ان سکولوں سے کم فیس والے نجی سکول بھی موجود ہیں۔

یہ حقیقت شاید آپ کو حیران کر دینے والی ہو کہ پری نرسری کے بچے کیلیے پانچ سو روپے ماہانہ فیس والا سکول بھی موجود ہے اور چالیس ہزار روپے ماہانہ والابھی!!! ‘‘اے لیول ‘‘ تک جاتے جاتے یہ فیس پچاس ہزار روپے ماہانہ سے لیکر ستر ہزار روپے ماہانہ تک پہنچ جاتی ہے، جو کہ حقیقتاً دماغ گھماؤ ہے یعنی پریشان کن ہے۔
اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے دو نکات ذہن میں ابھرتے ہیں :
ایک یہ کہ اتنے زیادہ مہنگے ہونے کے باوجود اور نجی شعبے میں ہی کم فیس والے سکول موجود ہونے کے باوجود ہم اپنے بچوں کو ان مہنگے سکولوں میں کیوں پڑھاتے ہیں ؟؟
دوسرا نکتہ یہ کہ اگر یہ سکول ناگزیر ہیں تو حکومت اور سکول انتظامیہ والدین کی زیادہ فیس اور فیس میں غیر معقول اضافے کی شکایت کا کیسے ازالہ کر سکتے ہیں ؟؟

سرکاری سکول اور انکی زبوں حالی تو ایک علیحدہ داستان ہے، لیکن اگر سرکاری سکول اس زبوں حالی کا شکا ر نہ بھی ہوں تو بھی وہ جس طریقہ تعلیم کے تحت کام کر رہے ہیں وہ رٹا لگانے سے باہر ہی نہیں تکل پا رہے۔ بنے بنائے جوابات کو من و عن رٹا لگا کر اور انہیں جوابات کو امتحان میں دہرا کر آج کے عالمگیر دور میں کامیاب ہونے کا محض خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وہ پہلی وجہ ہے جو والدین کو مہنگے سکول منتخب کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ان سکولوں کے اساتذہ یہ مہارت رکھتے ہیں کہ وہ پڑھائے جانے والے موضوع کی مکمل وضاحت کریں اور سسٹم انکی مدد کرتا ہے کہ وہ بچے کو ایسا کام کرنے کو دیں جو اس موضوع کے متعلق انکی سمجھ کو اچھی طرح پرکھے اور خود سے کام کرنے پر مجبور کرے۔ یہ کام کرتے ہوئے بچے کو انٹر نیٹ کی مدد لینا پڑتی ہے اور اکثر مکمل رپورٹ بھی تیار کرنا پڑتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو کوئی بھی موضوع پڑھانے کے بعد ورک شیٹ کی مدد سے کافی وسیع مشق کروائی جاتی ہے جو بچے کو اس موضوع کو اچھی طرح سمجھنے اور اس کے متعلق کسی بھی طرح کے سوال کا جواب دینے کے قابل بناتی ہے۔ یوں اس سسٹم میں پڑھنے والے بچوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ ہر طرح کے سوالات کا سامنا کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

طلبا میں اعتماد پیدا کرنے اور انکی صلاحیتوں کو افشا کرنے اور پھر ان میں بہتر ی لانے کیلیے ابتدائی جماعتوں سے ہی بہت سی مصروفیات ڈیزائین کی جاتی ہیں اور بچوں کو آزادانہ طور پر انہیں کرنے کے کثیر مواقع مہیا کیے جاتے ہیں۔ اس کام کے سلسلے میں طلبا کو سکول کے بعد ایک سے دو گھنٹے تک روکا جاتا ہے۔ اس دوران انہیں سٹاف اور اساتذہ کی مکمل راہنمائی حاصل رہتی ہے۔ان مہنگے سکولوں میں سے زیادہ تر سکولوں میں بہترین سوئمنگ پول، آڈیٹوریم ،بہترین لیبارٹری اور لائبریری موجود ہے۔ طلبا کو باقاعدگی سے وقت ملتا ہے کہ وہ ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ سکولوں کی عمارتیں عموما بہت خوبصورت ہیں اور انکو خوبصورت رکھنے کیلیے کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ کوئی سکول ایسا نہیں ہوگا جہاں جنریٹر نہ ہو۔ اسی طرح فرنیچر بھی عمدہ اور صاف ستھرا ہوتا ہے۔ ان نجی سکولوں کے اساتذہ عموماً بہترین اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ او لیول یا اے لیول کے اکثر اساتذہ یورپ یا امریکہ کی کسی نہ کسی یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا مشاہدہ ، مطالعہ اور تجربہ وسیع ہوتا ہے اور انکا طلبا کیساتھ رویہ بھی شائستہ ہوتا ہے۔ کچھ مہینے گزرے مجھے ایسے ہی ایک سکول کی اے اور او لیول فیکلٹی سے تعارف کا موقع ملا۔ سینتیس اساتذہ میں سے اکتیس اساتذہ نے ملک کے اعلٰی تعلیمی اداروں سے پڑھنے کے بعد امریکہ یا یورپ کی اچھی شہرت کی حامل یونیورسٹیوں سے مزید تعلیم حاصل کی تھی۔نجی شعبے کے یہ سکول اپنے طلبا کی کسی نہ کسی سماجی خدمت کی عملی تربیت کا بند و بست بھی کرتے ہیں اور او لیول کرنے کے بعد اے لیول میں داخلے اور بعد ازاں بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں ان سماجی خدمات میں حصہ لیے بنا داخلہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ تعلیم و تربیت کا یہی عملی ماحول ان نجی سکولوں کے طلبا کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ کسی بھی نئے کام کو کرنے سے نہیں گھبراتے اور نہ ہی انہیں بیساکھیاں تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ ان نجی سکولوں سے پڑھے ہوئے سینکڑوں طلبا کو ہر سال دنیا کی اعلیٰ درسگاہیں وظائف دیتی ہیں اور انکے لیے علم کے دروازے وا کرتی ہیں۔

جن افراد نے ایسے سکول قائم کرنے کیلیے کثیر سرمایہ لگایا ہے وہ قابل قدر ہیں کہ انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو دنیا کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اپنا کثیر سرمایہ لگا کر اس سے مالی منافع حاصل کرنا بھی انکا حق ہے۔ اور یہی میرا دوسرا نکتہ ہے۔

میں ذاتی طور پر مثبت رہتے ہوئے میں انکے جذبے کی قدر کرتا ہوں کہ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں سکولوں کی سطح پر سرمایہ کاری کی اور پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے سکول قائم کیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سرمایہ کاری محض ایک کاروبار کے طور پر ہی کی گئی ہے ؟اور اگر ایسا ہو تو بھی اس منافع کو کیسے معقولیت کی حد میں رکھا جاسکتاہے۔ والدین اپنے بچوں کو اعلٰی معیار کی تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انکے بچے حصول تعلیم کے جدید طریقوں سے فائیدہ اٹھائیں اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بن سکیں۔ لیکن انکی اس خواہش کا استحصال نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے والدین اپنی دوسری ضروریات زندگی کو پس پشت ڈال کر ان نجی سکولوں کی بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔ یہ بھاری فیسیں ہلکی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہیں جب سکول مالکان اپنا نفع ہلکا کریں۔ یہ اپنا نفع کم کر دیں تو فیسوں میں خاطر خواہ کمی ہو سکتی ہے۔ اگر بھاری فیسوں والے نجی سکول مالکان فیس کم کرنے ہر آمادہ ہوں تو ہم حکومت سے درخواست کر سکتے ہیں ان کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔ اور ہر ممکن سہولیات مہیا کی جائیں۔ کیونکہ اس سطح کی تعلیم دینا اور اس معیار کے سکول پاکستانی بچوں کیلیے مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جس سے مسلسل اغماز برتا گیا ہے۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful