مودی نما لوگ اور عوامی ایکشن کمیٹی کا فیصلہ۔

یہ بات تاریخی حقیقت ہے کہ بھارتی وزیراعظم نرئندر مودی سے اظہار نفرت ہمیں ورثے میں ملی ہے کیونکہ ہم ہی تو وہ لوگ تھے جنہوں ایک تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے جب مہاراجہ ہری سنگھ نے جب ریاست جموں کشمیر کا بھارت سے الحاق کیا تو الحاق بھارت نامنظور کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی غیر مقامی اور غیر ریاستی امداد کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یکم نومبر 1947 کو جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ ہمارے ہیروز کو دیوار سے لگا کر اس وقت کے مودیوں نے ہماری آذادی کو سازشوں کا شکار بنایا اور ہم سے پوچھے بغیر برطانوی سامراجی ایجنٹوں نے ایک غیر مقامی رابطہ آفیسر کے ساتھ ملکر الحاق کا ڈرامہ رچا کر یہاں ایف سی آر جیسے کالا قانون نافذ کیا۔ اس وقت سے لیکر آج تک ہمارے خطے پر مودی مزاج لوگ حاکمیت کرتے چلے آرہے ہیں جو نعرہ پاکستان کا لگاتے ہیں لیکن مطلب صرف عہدے سے ہیں۔ آج گلگت بلتستان میں جو بھی لوگ مراعات کی خاطر حب الوطنی کا ڈرامہ رچایا رہے ہیں یہی لوگ ہی دراصل مودی کے حمایتی ہیں جو مودی کو گلگت بلتستان کے بارے میں بولنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ورنہ مودی کا کیا مجال کہ وہ اس عظیم خطے کے بارے میں ہماری ترجمانی کرنے کی کوشش کریں۔ اس وقت جو بھی حکومت گلگت بلتستان میں قائم ہے اور جو بھی لوگ اسلام آباد میں بیٹھ کر متازعہ خطے پر من مانی کے فیصلے مسلط کرتے ہیں وہی لوگ دراصل پاکستان دشمن ملک کو موقع فراہم کرتے ہیں۔ ورنہ گلگت بلتستان کا مسلہ صاف اور شفاف ہے کہ آپ تمام مسائل اور مجبوریوں کو ایک طرف رکھ کر اپنے ملک کی آئین میں ترمیم کرکے اس خطے کو آئینی دائرے میں شامل کریں بصورت دیگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس خطے کو مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے مکمل داخلی خود مختاری دیکر تمام تر اختیارات مقامی حکومت کے حوالے کریں ۔ یہ سب کچھ آپ کرنے کیلئے تیار نہیں تو بتائے پاکستان کے اصل دشمن کون ہیں؟ آج عوامی ایکشن کمیٹی ایک بار پھر عوامی حقوق کیلئے برسرپیکار ہیں لیکن مقامی اور وفاقی حکومت طاقت کے بل بوتے پر عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک ایک مطالبہ قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہونے کے باوجود مقامی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو بتائے مودی کے دوست کون اور دشمن کون۔؟ عوامی ایکشن کمیٹی کو سپورٹ کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ لہذا عوام الناس آگاہ رہے کہ اگر قومی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کو آج بھی غداری سمجھتے رہے تو آپکی شہریت این سی پی ہے جسے کوئی قانونی اور آئینی تحفظ حاصل نہیں ۔ لہذا آنے والے نسلوں کی خاطر اپنے وطن کی خاطر جھوٹ سے انکار اور سچ سے پیار حب الوطنی کی ایک عظیم دلیل سمجھ فیصلہ کیجے ورنہ اگلے سو سال تک یہ مودی مزاج کے لوگ ہم پر مسلط ہو کر ہمارے حقوق غصب کرتے رہیں گے۔

شیر علی انجم

acc gb

1911646_622959867788031_2797492497306371981_n

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful