مولویوں کی دکانداری اور ہم عوام۔۔!

حفیظ الرحمن کو کشمیری ایجنٹ کہنے والوں مولوی سب ایک ہو کر ان کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کریں گے جنہوں سے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کے جائز حقوق کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رکھا ہے ۔
یوتھ آف گلگت بلتستان کو اب یہ سوچنے پر مجبور کیا جا رہا کہ کہی گلگت بلتستان کے مظلوم عوام کے دشمن ان کے درمیان ان مولویوں کی شکل میں تو نہیں جو ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کو تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔یہ مولوی کبھی گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے لئے کوئی مشترکہ احتجاج نہیں کرسکتے لیکن آج کشمیر کے لئے ایک ہو گئے کہا گئی ان کی مسلکی جنگ ،ان لاکھوں بیگناہوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے جن کو ان مولویوں نے مسلکی بنیاد پر قتل کروایا جن کا تعلق کسی بھی مسلک کسی تھا لیکن وہ ہمارے مسلمان بھائی اور اس سر زمیں بے آئین کا فرزندان تھے۔کبھی کسی مسجد سے آئین حقوق کے لئے کوئی ریلی نہیں نکلی کیا وجہ ہے کہ 5 فروری کو سارے مساجد کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالنے کی تیاریوں میں مصرورف ہیں کیا یہ سارے مسجد اسلام آباد یا مظفر آباد سے کنٹرول تو نہیں ہو رہیں۔جو لوگ آج مذہب کے نام پر دکانداری کر رہے ہیں وہ آج اپنے اماموں اور خلفائے راشدین کے ان اقوال کو نظر انداز کیوں کر رہیں جو انہوں مظلوم اور ظالم میں فرق کے لیے بیان فرمایا اگر کسی کو یاد نہیں تو میں حضرت علی کے ان آخری الفظ کو دہرانا چاہتا ہو جو انہوں نے اپنے شہادت سے چند گھنٹوں پہلے اپنے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین سے وصیت کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ہمیشہ ظالم کا دشمن اور مظلوم کا ساتھی بن کررہنا کیا کشمیری ظالم نہیں جو ہمیشہ ہمارے آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بن رہیں کیا ہم نے یکم نومبر 1947 کو کشمیریوں سے آزادی حاصل نہیں کی اگر آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ہم کشمیر کا حصہ ہے تو پھر بھارت بھی اپنی جگہ درست کہہ رہا کہ کشمیر ان کا حصہ ہے اگر ہم کشمیر کا حصہ ہیں تو کشمیر اسمبلی میں 67 سالوں سے ہماری نمائندگی کیوں نہیں تھی ہماری لیے بھارت کے لوک سبھا میں تو جگہ ہے لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی اور کشمیر کی اسمبلی میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ۔اگر پاکستان کو کشمیر زیادہ عزیز ہے اور کشمیریوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کے مظلوم اور باوفا فرزندوں پر کبھی مسلکی توکبھی سیاسی وار کرنے سے ان کو کشمیر مل جاتا تو میرے خیال میں ایک تک کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتاکسی کو حاصل کرنے کے لئے کسی اور پر اتنا زیادہ ظلم میرے خیال میں درست نہیں اب پاکستان کو اپنے ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق کے حصول میں رکاوٹ بن رہیں۔

تحریر:یاور عباس

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful