مکہ کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا: الحوثی

صنعا (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب نے جھوٹ پر مبنی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایئر ڈیفنس فورسز نے پیر کے روز طائف کی فضاؤں میں دو بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔حوثیوں نے سعودی عرب کے دعوے کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔ سعودی حکومت عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے اور یہ سعودی عرب کے ہتھکنڈے ہیں۔

دوسری جانب یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا ہےکہ ہم جہاں حملہ کرتے ہیں اس جگہ کا اعلان کرتے ہیں ۔ لیکن سعودی عرب جھوٹ بول کو رائے عامہ کو منحرف کرنے کی کوشش کررہا ہے اور مکہ و مدینہ کے مقدس شہروں کی آڑ میں اپنے مکروہ اور بھیانک چہرے کو چھپانے کیکوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ تمام مسلمانوں کے لئے قابل احترام ہیں اور ہم مکہ و مدینہ کے علاوہ سعودی عرب کے ہر شہر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی حکام نے کل من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی الزام عائد کرتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ طائف کے علاقے میں دو میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا، ایک میزائل کا رخ مکہ اور دوسرے کا رخ جدہ کی جانب تھا۔سعودی اتحاد کی فورسز کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے شہر نجران میں بھی دھماکہ خیز مواد کے حامل ڈرون طیارے کے ذریعے ایک اہم تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس مقام کو سعودی شہری اور غیر ملکی مقیم افراد استعمال کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔