مہدویت اور انسانیت کا مستقبل

تحریر: محمد اشرف ملک

انسانیت کی موجودہ حالت

اپنے آپ کو سپر طاقت کہنے والے ممالک، عالمی ادارے اس وقت دنیا میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ افغانستان، عراق، شام، یمن اور پاکستان میں لاکھوں افراد کو مارا گیا ہے۔ لاکھوں افراد  کے گھروں کو تباہ کر دیا اور خود ان کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے مسلم ممالک تو کیا پوری دنیا کو تقسیم کر رکھا ہے، فرقہ واریت کا فتنہ ان کی وجہ سے دنیا میں پھیل رہا ہے۔ ظلم و ستم کے سائے، ان عالمی بشری قوتوں اور طاقتوں کا نتیجہ ہیں۔ بہت سارے مغربی مفکرین بھی اس ظلم و ستم کی طرف متوجہ ہوچکے ہیں۔ آج عالم انسانیت کے سامنے یہ سوال ہے  کہ مادی و تجربی علوم کی وسعت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیوں دنیا کو رفاہ و عدالت نہیں دے سکی؟ ہر روز غربت کی لکیر کے نیچے ممالک کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں آج کا انسان مضطرب اور بے سکون ہے؟ موجودہ اور زمان حال کی یہ صورتحال ہے۔ جب یہ حالت ہے تو انسانیت اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہے کہ آیندہ کیا ہوگا۔؟

مستقبل کی اہمیت
مستقبل کے بارے میں جاننا آج کل مختلت یونیورسٹیوں میں ایک علم کے طور پر جانا گیا ہے۔ مختلف ادارے، مختلف تنظیمیں، مختلف کمپنیاں اور تقریباً ہر ملک کسی جگہ پر تغییر و تحول  ایجاد کرنے کے لئے پلاننگ بناتا ہے۔ آیندہ کی تصویر اجمالی طور ذہن میں رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق منصوبہ بندی بنائی جاتی ہے۔ اس منصوبہ بندی کے اندر یہ طے کیا جاتا ہے کہ  آیندہ کونسی مشکلات پیش آسکتی ہیں، مشکلات کا مقابلہ کرنے کے بعد جب کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس وقت ہماری کیا حیثیت ہوگی، ہمیں کس قدر نفع مل سکتا ہے اور معاشرہ کے  اندر جو تبدیلی کرنا چاہتے ہیں، وہ کس قدر ہوسکتی ہے۔؟

اپنے مستقبل کے بارے میں دنیا کو پریشانی
آج تمام ممالک اس حوالے سے پریشان ہیں کہ آیندہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق طبیعی منابع سے کیسے استفادہ کیا جائے گا، بطور مثال تیل، پیٹرول، گیس اور پانی وغیرہ کی کیا تقسیم ہوگی۔ حکومت کرنے کا انداز کیا ہوگا، پوری دنیا میں کیسے ایک ہی حکومت ہوگی۔ کیمونیزم، سوشلیزم، لیبرالیزم، کپیٹلزم حتی سکولاریزم کی ساری شکلوں سے گزرنے اور ان کے نواقص سے آگاہ ہونے کے بعد انسانیت پریشان ہے کہ آیندہ کی حکومت بنے گی تو کیسے۔ اس کی شکل کیا ہوگی، منابع کیا ہوں گے، انصاف اور عدل کے تقاضے کیسے پورے ہوں گے؟ بعض مغربی لوگوں کا کہنا ہے کہ انسانیت کا مستقبل تاریک ہے، انسان نے اپنی خود ساختہ ترقی سے اپنی موت خود خرید رکھی ہے۔ ہمارے ہاتھوں سے بنایا ہوا اپنا ایٹمی اسلحہ ہماری تباہی کا سب سے بڑا سامان بنا ہوا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ انسان اپنی موت آپ ہی مر جائے گا۔

عقیدہ مہدویت اور ہم
ساری دنیا ایک منجی برحق کے انتظار میں ہے، اس کے آنے میں اور اس پر عقیدہ رکھنے میں سوائے محدود لوگوں کے سب کا اتفاق ہے، اختلاف صرف مصداق اور شخصیت میں ہے۔ انسان چاہے آسمانی ادیان جیسے اسلام، مسیحیت اور یہودیت کا پیروکار ہو یا ہندوئیسم، بودائیسم  کا ماننے والا ہو، پوری کی پوری انسانیت ایک ہی مشترکہ سوچ رکھتی ہے اور وہ سوچ ایک عالمی نجات دہندہ کی سوچ ہے۔ یہ سوچ، یہ نظریہ لوگوں نے کہیں سے باقاعدہ کسب نہیں کیا بلکہ اللہ نے اپنے لطف خاص سے لوگوں کے ذہنوں میں رکھ دیا ہے۔ پوری دنیا کے سامنے اگرچہ ایک اجمالی حد تک امام مہدی کا تصور ہے، لیکن ہمیں اسے زیادہ سے زیادہ روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے علمی طور پر اور وقت کے تقاضوں کے مطابق بیان کرنا ہے، لوگوں کو ظہور کے زمانہ کے لئے تیار کرنا ہے۔ استعماری طاقتوں کے ظلم سے لوگ تھک چکے ہیں، عادل حکمران کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن ہمیشہ دھوکہ  کھاتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے عدل اور ظلم کا مفہوم واضح اور روشن ہے، لیکن عدل اور ظلم کی حقیقت واضح اور روشن نہیں ہے، جسے علمی حوالے سے حل ہونا چاہیے۔ ہمیں صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرنا کہ  چند غریب اور فقیر لوگوں کی مدد کرنی ہے بلکہ یہ کوشش کرنی ہے کہ ان کی غربت اور فقر  کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ معاشرہ اور پوری دنیا سے بلکہ  پوری انسانیت سے ظلم کا، غربت اور فقر کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس کام کے لئے ہم نے لوگوں کو آمادہ اور تیار کرنا ہے، تاکہ صرف چند شیعہ ہی نہیں بلکہ انسانیت امام کے آنے کے لئے بے تاب ہوچکی ہو اور پوری پوری آمادگی رکھتی ہو۔ اس کام کے لئے ہمیں مہدویت کے دور میں انسانیت کے مستقبل کو زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

انسانیت کے مستقبل کا حال سے تعلق
امام  زمانہ (ع) کے ظہور کے اندر فقر ختم ہوچکا ہوگا، کوئی غریب نہیں ہوگا، وہ زمانہ عین عدل ہوگا، لیکن یہ زمانہ اس شخص کو نصیب ہوگا کہ جس کی نگاہ صرف اپنی ذات، اپنی قوم یا اپنے علاقے تک محدود نہ ہو۔ اس کی نگاہ عالمی ہو، پوری انسانیت کے لئے ہو، سوچنے کا انداز جہانی ہو، یہاں تک کہ اگر وہ دعا مانگے تو دعا بھی ہر انسان کے لئے ہو اور یہ وہ طریقہ  اور تربیت ہے، جو خود معصومین نے تعلیم فرمایی ہے:”اللَّهُمَّ أَغْنِ كُلَّ فَقِیرٍ، اللَّهُمَّ أَشْبِعْ كُلَّ جَائِع، اللَّهُمَّ فَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَكْرُوب‏، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ كُلَّ فَاسِد” ایسا انسان، مہدویت کے زمانہ کو اپنی نگاہوں میں رکھنے والا ہے، اس کا ہدف اور آئیدیل زمانہ اس دنیا کے اندر وہی مہدویت کا دور ہے۔ یہ انسان اس حوالے سے جتنے کام کرتا ہے، اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ عالمی سطح کے ہوں۔ یہی انسان اپنے حال کو مستقبل کے لئے علت بناتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہوتا ہے۔ مہدویت کا زمانہ وہ ہے، جس کو پانے کے لئے معصومین (ع) نے اپنے ماننے والوں کو اس طرح دعا کرنے حکم دیا ہے:”اللھم انا نرغب الیک فی دولة کریمة تعز بھا الاسلام واھلہپروردگار! ہم تجھ سے ایسی عظیم حکومت میں زندگی گزارنے کی دعا کرتے ہیں، جس میں اسلام اور مسلمانوں کو عزت و رتبہ حاصل ہو۔ “وتذل بہاالنفاق واھلہاور اس میں منافقوں کو ذلت و رسوائی ملے گی۔

مہدویت کے زمانہ کے ذمہ دار افراد/امام کے ساتھی
امام زمانہ (ع) کے ساتھی وہ لوگ ہیں، جو آج اپنے امام کے سامنے، شریعت کے سامنے، قرآن مجید کے سامنے سر تسلیم خم ہیں۔ امام ہم سب کی کیفیت سے آگاہ ہیں، یا جب بھی آگاہ ہونا چاہیں آگاہ ہوسکتے ہیں۔ مہدویت کا زمانہ ڈرپوک، بزدل اور بے بصیرت لوگوں کا زمانہ نہیں ہے۔ جو لوگ گناہگار ہیں، ظالم ہیں، فاسق اور فاسد ہیں، جن پر اللہ کی یہ آیات صدق کرتی ہیں  کہ:تَنازَعْتُمْ، عَصَیْتُم، فَشِلْتُمْ ایسے افراد امام (ع) کے ساتھی نہیں بن سکیں گے۔ امام (ع) کے ساتھی جو انسانیت کی خدمت کرنے ہوں گے وہ، وہ لوگ ہیں کہ جن پر مومنون، خاشعوں، معرضون، حاٖفظون، قانتوں جیسی صفات صدق کرتی ہیں۔ مہدویت کے زمانے میں امام (ع) کے ساتھی آہن کی طرح حق پر سخت ہوں گے، جن کو کہا گیا ہے کہ مانند زُبَرِ الْحَدِید ہوں گے۔ مہدویت کے زمانے میں انسانوں کے فلاحی اور سماجی کام کرنے والے، امام کے ساتھی ایسا نہیں ہے کہ شاید متقی ہوں، شاید ہدایت پانے والے ہوں، شاید رشد کرنے والے ہوں یعنی لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُونَ اور لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُونَ کی منزلوں سے گزر کر أُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ، هُمُ الْمُتَّقُون‏ اور أُولئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ کی منزل تک پینچ چکے ہوں گے۔

مہدویت، انسانیت کا شاندار اور روشن مستقبل
مہدویت کے زمانے میں زمین پر حکومت اللہ کے صالح بندوں کی ہوگی، جو نیک ہوں گے، پاک و پاکیزہ ہوں گے، ان کے اندر حکومت کرنے کی صلاحیت ہوگی اور یہ استعداد و صلاحیت اللہ کی بندگی سے حاصل ہوچکی ہوگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ نتیجہ اور انجام مومنین اور متقین کے حق میں ہے۔ یہی وہ بات ہے، جو انسان کو تمام مشکلات کے باوجود مہدویت کے شاندار اور روشن مستقبل کے لئے امیدوار کرتی ہے۔ کس قدر ظالم لوگ امام حق یعنی مہدویت کی حکومت کے لئے رکاوٹ بنتے رہے ہیں اور بن رہے ہیں، لیکن اس صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے اور مٹ رہے ہیں۔ ابو جہل و ابو سفیان اپنے اہداف کے ساتھ مر مٹ گئے،  محمد مصطفٰی کی تعلیمات بھی باقی ہیں اور اہداف بھی باقی ہیں۔ ابن زیاد و یزید تاریخ میں ایک فحش بن کر رہ گئے، جبکہ علی کی بیٹی حضرت زینب (ع) کے خطبات اور مولا امام حسین (ع) کے اہداف اب بھی باقی ہیں۔ شاہ و صدام کا نام اور ان کی حیثیت کجا اور امام  خمینی (رہ) کا نام اور مقام عظمت کجا۔ یہ ساری باتیں انسان کو حوصلہ دیتی ہیں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مایوسی گناہ ہے، اللہ نے ہمارے سامنے ایک شاندار اور روشن مستقبل رکھا ہے، جسے روایات میں مہدویت کا زمانہ کہا جاتا ہے۔

مہدویت کا زمانہ اور انسانیت کا کمال
انسانیت اپنے کمال کو پہنچ چکی ہوگی، حسد، بغض اور نفاق نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ آپس میں محبت، ہمدردی اور ایثار، اخوت اور برادری کی فضا ہوگی۔ اس زمانے میں معاملات اور بینکاری میں سے سود کا نظام ختم ہوچکا ہوگا، جب کسی مومن کو کوئی ضرورت ہوگی تو وہ اپنے مومن بھائی کی جیب سے نکال لے گا اور اس کو وہ مومن کوئی ممانعت بھی نہیں کرے گا بلکہ اس عمل سے خوش ہوگا۔ ہر جگہ پر امن ہوگا، لوگ اچھی اور خوشحال زندگی گزاریں گے۔ امام زمان بہت زیادہ بخشش اور عطا کرنے والے ہوں گے، کوئی شخص غریب اور تنگ دست نہیں ہوگا۔ زمین کے محصولات بہت زیادہ ہوں گے۔ مہدویت وہ شاندار زمانہ ہے، جس میں ہر صاحب حق، کا حق اسے ملکر رہے گا۔ اگر کسی نے ایک مومن کے حق پر ناجائز قبضہ کر لیا ہوگا تو امام اسے اس کا حق واپس لیکر دیں گے۔ جبار اور مستکبر حاکموں کی حکومتیں ختم ہو جائیں گی اور منافق و خائن لوگوں کی سازشیں کارگر نہیں ہوں گی۔ زمانہ مہدویت میں اور حکومت امام مہدی (ع) میں انسانیت اس قدر رشد کرے گی کہ پوری دنیا کے 30، 50 یا 70 فی صد لوگ نہیں بلکہ سب کے سب لوگ اہل علم ہوں گے، یہاں تک کہ خواتین اپنے گھروں میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب اور پیغمبر اکرم کی سنت کے مطابق فیصلے کریں گی۔ تمام مرد اور خواتین امام مہدی کی برکت سے عقل اور حکمت کی بلندی پر پہنچ جائیں گے۔ مومنین میں سے ایک ایک مرد کی طاقت عام طور پر چالیس مردوں سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ دنیا پر امام (ع) کی حکومت امام کے مخلص پیروکاروں کے توسط سے ہوگی۔ امام لوگوں میں مساوی طور پر دولت کو تقسیم کریں گے اور کسی کو کسی پر کوئی امتیاز نہیں دیا جائے گا۔ اللہ کی نعمات فراوانی سے پائی جائیں گی، جانور اور حیوانات بہت زیادہ ہوں گے، زمین سے فصلیں بہت زیادہ اگیں گی، نہروں کا پانی بہت وافر مقدار میں ہوگا، زمین کے اندر جتنے معادن ہیں، انکو نکالا جائے گا اور زمین اپنی تمام برکات او ر نعمتوں کو پیش کر دے گی۔ مہدویت ایک بہت بڑا انقلاب ہے۔ اس دوران معیشت، زراعت اور اقتصاد، ان تمام میدانوں کے اندر ایک بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔

مہدویت، باطل قوتوں کی شکست
آج عالم انسانیت کے سامنے یہ سوال ہے کہ مادی و تجربی علوم کی وسعت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیوں دنیا کو رفاہ و عدالت نہیں دے سکی؟ ہر روز غربت کی لکیر کے نیچے ممالک کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں آج کا انسان مضطرب اور بے سکون ہے؟ اسی طرح کے دسیوں دیگر سوالات عالمی استکبار کی عنقریب حتمی شکست کی نشانیاں ہیں۔ مہدویت کا نظریہ ایک محدود علاقے کا نظریہ نہیں بلکہ عالمی نظریہ ہے اور یہ دنیا کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے جامع، بنیادی اور عملی منصوبہ رکھتا ہے۔ دنیا بھی اس طرح کے نظام اور فکر کی تشنگی محسوس کرتی ہے اور ہمارا  ایمان ہے کہ عصر حاضر کے انسان کو جو نظام مطمئن کرسکتا ہے اور اس کی مادی و معنوی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے، وہ صرف اور صرف نظام مہدویت ہے۔ اُس دور میں پوری دنیا میں واحد حکومت امام زمان (ع) اور اسلام کی ہوگی، اس کے علاوہ کوئی اور دین اور سیاست نہیں ہوگی۔ یہودیت، مسیحیت اور باقی ادیاں کا جہاں سے خاتمہ ہو جائے گا، دنیا کے ہر خطہ سے اشهد ان لا اله الاّ الله، و اشهد انّ محمّدا رسول الله کی صدا آئے گی۔ لوگوں کے آپس کے داخلی اختلافات ختم ہو جائیں گے، دونوں طرف سے دنیاوی اور مادی امور میں کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ اگر کوئی نزاع یا جنگ ہوئی بھی تو کچھ عرصہ کے لئے ہوگی اور وہ حق اور باطل کے درمیان ہوگی۔ امام مہدی کے زمانہ میں حکومت آج کی طرح نہیں ہوگی کہ اپنی خواہشات نفسانی کی وجہ سے جس پر حملہ اور تسلط کرنا چاہیں کرسکیں۔ نہ اس طرح نہیں ہوگا، ہوا پرستی کی جگہ پر خدا پرستی آچکی ہوگی۔ نظریات، تھیوریاں، افکار سب قرآن مجید کو پیش کر رہے ہوں گے۔ آج کے زمانے کی طرح نہیں ہوگا کہ حکمران اور طاقتور کو کوئی پوچھنے والا ہی نہ ہو بلکہ اس زمانہ میں امام کی طرف سے اپنے سپاہیوں اور جرنیلوں سے سخت حساب و کتاب لیا جائے گا۔ اس وقت انسان درک کرے گا کہ امام عادل اور سیرت عدل کیا ہے اور کتاب و سنت کو زندہ کرنا کیا ہے؟ مہدویت مغربی ثقافت پر اعتماد کو ختم کر  رہی ہے اور اس ثقافت میں امام زمانہ علیہ السلام پر اعتماد کرنا چاہیے، مہدویت سماجی، اخلاقی اور سیاسی آفات کے مقابلے میں اہم اور گرانقدر کردار ادا کرتی رہی ہے اور ان شاء اللہ کرتی رہے گی۔

امام کے سپاہیوں پر زمین کا افتخار
انسانیت کی بلندی اور کمال ہی کمال پوری دنیا میں پھیل چکا ہوگا، امام کے ساتھیوں کی ہر جگہ پر حکومت ہوگی، ہر چیز ان کی مطیع  ہوگی، یہاں تک کہ صحرا کے درندے اور شکاری پرندے بھی ان کے تابع ہوں گے اور امام کے سپاہیوں کی رضا اور خوشی کو طلب کرنے کے درپے ہوں گے۔ امام کے ان سپاہیوں، امام کے ان فوجیوں، امام کے لشکر کے ان تمام افراد کے تقویٰ، کمال، پیام صلح اور پیغام عدالت کی بنیاد پر جب یہ افراد چلیں گے تو زمین کا وہ حصہ فخر و مباحات کرے گا کہ امام مہدی کا سپاہی مجھ پر چل رہا ہے۔ ان افراد کا ہر عمل اللہ کی رضا کے مطابق ہوگا، حتٰی کہ ان کا تلواروں کو چلانا اللہ کی رضا کے لئے ہوگا، وہ اپنے ہاتھ سے تلوار کو نیچے نہیں لائیں، مگر یہ کہ اللہ ان سے راضی ہو جائے۔ امام مہدی کے زمانے میں انسانیت پر سوئی کی نوک کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا اور کسی کا دل نہیں دکھایا جائے گا، کسی کا دل شکستہ اور توڑا نہیں جائے گا۔ آخر پر دعا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو  امام زمانہ کا حقیقی سپاہی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ نهج البلاغه، چاپ فیض الاسلام، ص ۴۲۴-۴۲۵
2۔ نماز واجب  کے بعد کی دعا ماہ رمضان میں
3۔ اصول کافی، ج ۸ و ۲۹۴
4۔ الاختصاص، شیخ مفید، ص ۲۴
5۔ بحار الانوار ج ۱۰
6۔ مہدی موعود، ج ۱ ص ۲۷۹
7۔ بحار الأنوار، ج ۵۲، ص ۳۱۷
8۔ بحار الانوار ج ۵۲، ص ۳۲۷
9۔ ہماں

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful