میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔

آپ کی شان اقدس میں یہ حدیث بھی ملتی ہے کہ
یعنی علی کے چہرے کی زیارت عبادت ہے اور فرمایا کہ ”میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے۔ (حاکم) اس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ فیضان اعلیٰ منہاج العلم فقط در ولایت علیؓ سے ہی ممکن ہے کہ دروازے سے گزر کر ہی مکان میں داخل ہو جاتا ہے۔ خود مولائے کائنات ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کے ساتھ ہر مقام و جگہ پر سجدہ ریزی کی ہے جہاں حضور نے سجدہ فرمایا علیؓ نے بھی وہاں سجدہ فرمایا اس ازلی اور ابدی عظیم ہستی کی عظمت حضور کے پہلے خطبہ نبوت سے عیاں ہو گئی حتیٰ کہ جب آپ نے حکم الٰہی کے تحت پہلی مرتبہ کوہ صفاءپر کھڑے ہو کر اہل مکہ/ قریش کو اعلان اور دعوت توحیدی دی تو سب نے مذاق اڑایا اور ناگواری کا اظہار کیا تو اس پہلے خطبہ نبوت کی تصدیق اور لبیک کیا کیوں نہ کہتے کہ پرورش گود رسالت میں پائی تھی۔ حضرت عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ ”ذات العشیرہ،، میں حضرت علیؓ اور میں ایک دوسرے کے ساتھ تھے پس جب حضور اس جگہ آئے اور وہاں تمہاری کیا رائے ہے اگر ہم ان لوگوں کے پاس جائیں اور دیکھیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ پس ہم ان کے پاس آئے اور ان کے کام کو کچھ دیر تک دیکھا پھر ہمیں نیند آنے لگی تو میں اور حضرت علیؓ وہاں سے چلے اور کھجوروں کے درمیان مٹی پر ہی لیٹ کر سو گئے پس اللہ کی قسم ہمیں حصور نبی اکرم کے علاوہ کسی نے نہ جگایا۔ آپ نے ہمیں اپنے مبارک قدموں کے مس سے جگایا جبکہ ہم خوب خاک آلودہ ہو چکے تھے پس اس دن حضور نبی اکرم نے حضرت علیؓ سے فرمایا اے ابوتراب کیا میں تمہیں دو بدبخت ترین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاﺅں؟ ہم نے کہا ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا پہلا شخص قوم ثمود کا احمیر تھا جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹی تھیں اور دوسرا شخص وہ جو اے علیؓ تمہاے سر پر وار کرے گا۔ یہاں تک کہ (خون سے یہ) داڑھی تر ہو جائے گی۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے مسند میں اور امام نسائی نے ”السنن الکبرٰی“ میں روایت کیا ہے۔ اس طرح اس روایت کے تحت نبی اکرم نے کئی سال پہلے سیدنا علی شیرؓخدا کو ان کی شہادت عظمیٰ کی اطلاع فرما دی تھی جس کی بابت خود سیدنا علی شیرؓخدا اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بالضروریہ داڑھی خون سے خضاب کی جائے گی کہ حضور نے یہی فرمایا ہے۔ ابن عساکر کی روایت کے مطابق آپ کی شان میں قرآن حکیم کی 300 آیات کریمہ نازل ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ آج 19 رمضان شب ضربت سیدنا علی ہے ۔آج ہی کی صبح نماز فجر دوران ابن ملجم نے مسجد کوفہ میں شیر خدا کوحالت سجدے میں ضرب لگا کر زخمی کر دیا تھا اور 21 رمضان کو آپ کی یوم شہادت ہے

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful