نشان حیدر، علی(ع) اور ھم

 

آج پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز حاصل کرنے والے شھید کے ماں اور باپ اس بات پر فخر سے سر بلند کرتے ہیں کہ ھمارے بیٹے کو شجاعت کا سب سے بڑا اعزاز ’’نشان حیدر (علیہ السلام)‘‘ ملا ھے!
ھر اس فوجی کی اولاد کہ جسے میدان جنگ میں اُس کی شجاعت کے عوض پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز جو عالم اسلام کی سب سے عظیم اور شجاعت ترین ہستی یعنی علی المرتضیٰ(ع) کے نام سے منسوب ھے، ملتا ھے تو وہ نسلوں تک افتخار کرتی ھے اور ملک کی فوجی تقریبات میں اُس شھید کے والدین اور بچوں کو وی آئی پی پروٹوکول ملتا ھے اور ان کی بڑی آؤ بھگت کی جاتی ھے۔
ذرا سوچئے کہ وہ ماں کتنی خوش نصیب ہو گی کہ جسے آرمی چیف سلیوٹ مارتا ھے اور وہ باپ کتنا خوش قسمت ہو گا کہ جس سے مصافحہ کرنے کیلئے آرمی چیف بذاتِ خود آگے بڑھتا اور گلے لگاتا ھے!
جب ایک شھید کے والدین اور بچوں کی خوشی کا یہ عالم ہوتا ھے کہ ان کے بیٹے یا والد کو پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز دیا جاتا ھے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے تو اندازہ کیجئے کہ
اس ماں کا کیا عالم اور رتبہ ہو گا کہ جس کی کوکھ سے حضرت علی مرتضیٰ (ع) نے جنم لیا ہو گا اور اس باپ کی عظمت کتنی زیادہ ہو گی کہ جس کی صلب سے یہ حیدر فخر آسمان و زمین دنیا میں پیدا ہوا ہو گا!
شجاعت کا عالمی نشان و علامت یعنی ’’حیدر‘‘ کے والدین کس قدر خوش نصیب ہیں کہ ان کے بیٹے کی شجاعت کے نام پر ملنے والے فوجی اعزاز کو لوگ فخر سے سینے پر سجاتے اور صدیوں فخرو مباہات کرتے ہیں!
ھمارا سلام پو پاکستان کے ان تمام شھداء پر کہ جنہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ سے نوازا گیا ھے!
ھمارا سلام ھو ان شھدا کے ورثاء، والدین اور اولاد پر!
ھماری سلام ھو دنیا کی سب سے بہادر پاک فوج کے جوانوں پر!
ھمارا سلام ھو پاک فوج کی شجاعت پر!
فاطمہ بنت اسد اور ابو طالب علیھما السلام کو ھمارا سلام ھو!
سلام ھو اس ماں پر جس نے علی(ع) کا نام حیدر رکھا!
اس فخر شجاعت یعنی علی مرتضائے حیدر کی دادِ شجاعت کیلئے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اُس کا استاد، مربی، دین، عقیدہ، ایمان، امام و مقتدیٰ، نبی، رسول خاتم، ابو الزوجہ اور چچا زاد بھائی محمد عربی(ص) مسکرا کر اسے دیکھ لے!
یہ شجاعت ماں اور باپ کی طرف سے علی ابن ابیطالب(ع) کو نصیب ہوئی ھے!
ھم جس ہستی کے نام پر ملنے والے فوجی اعزاز پر فخر کرتے ھیں یعنی علی مرتضیٰ، یہ وہ ہستی ھے جس کی شجاعت،ایمان اور عمل دیکھ کر اللہ نے
اُسے ’’قسیم النار والجنۃ‘‘،
اس کی زوجہ کو ’’سیدۃ النساء العالمین من الاولین و الآخرین‘‘
اور اُس کے بچوں کو امت کیلئے’’امامِیْن شریفَیْن‘‘ اور ’’ھما سیدان شباب اھل الجنۃ‘‘ قرار دیا ھے!
اُس علی(ع) کیلئے اُس کے چچا زاد بھائی محمد بن عبداللہ(ص) نے فرمایا:
انا و علی من نورٍ واحدٍ
میں اور علی(ع) ایک ہی نور سے خلق ہوئے ہیں!
آج اُس عظیم انسان کی دیکھی اور بقدر ظرفیت انسانی سمجھی جانے والی نیز انسانی عقل و فہم سے ماوراء اور مافوق البشر خدا داد ان دیکھی صفات میں سے ایک صفت شجاعت سے منسوب نشان حیدر پر دنیا فخر کر رھی ھے!
اب ابو طالب اور اھل تشیع کو کافر قرار دینے والے
نشان حیدر،
اِسے پانے والے شھدائے پاکستان،
اس فوجی اعزاز پر صدیوں فخر کرنے والے والدین اور اولاد
اور سب سے بڑھ کر پاکستانی فوج پر
کفر اور کافر کافر کے فتوے لگائیں کہ یہ کیوں ایک شیعہ کے نام پر نشان شجاعت دے رھے ہیں!
اب وہ کیسے راضی ہیں کہ ایک نعوذباللہ کافر گھرانے میں جنم لینے والے اور ایک کافر باپ کا کھا کر پروان چڑھنے والے علی(ع) کے نام ’’حیدر‘‘ پر سب سے بڑے فوجی اعزاز کو سینے سے لگائیں!
وہ علی(ع) کہ جس کیلئے سرکار دوجہاں (ص) نے فرمایا:
یا علی انت و شیعتک ھم الفائزون!
اے علی تم اور تمھارے شیعہ(پیروکار) روز قیامت مرتبہ مرضی خدا پر فائز اور کامیاب ھیں!!
مگر علی(ع) والوں کو خواہ وہ کسی بھی مسلک و مذھب سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں، دنیا کے بنائے ہوئے فوجی اعزاز کی ضرورت بہیں ہوتی بلکہ اُن کیلئے تو لب ھائے علی مرتضیٰ پر سجنے والی ایک مسکراھٹِ رضایت ہی دوجہانوں کی دولت سے افضل ھوتی ھے!
اس لئے کہ علی(ع) کی مسکراھٹ میں رسول عربی(ص) کی رضایت شامل ھے اور رسول عربی کے تبسم میں مرضی خدا کا خلاصہ موجود ھے!

تحریر:صادق تقوی

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful