نواز شریف کا ملک دشمن بیانیہ

تحریر: سردار تنویر حیدر

پاکستان مسلم لیگ جو بعد میں جسکا ایک حصہ نواز شریف کے نام کی نسبت سے نون لیگ بن گیا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی تو پاکستان میں بھٹو کی مخالفت اور حمایت کی بنیاد پہ ہونے والی سایست کے اختتام کا آغاز ہوا۔ زرداری حکومت کے خاتمے کیساتھ نون لیگ اقتدار میں آئی۔ پاکستان میں دہشت گردی کا زور تھا، 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ مخالف جماعتوں کو دہشت گردوں نے انتخابی مہم سے بعض رکھا، نواز شریف حکمران بن گئے، انکے چھوٹے بھائی شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے، انہوں نے اعلانیہ طور پر کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پنجاب کو نشانہ نہ بنائے، ہم تو ہم خیال ہیں۔ مسلم لیگ نون کے قریب ترین سمجھے جانے والی مذہبی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشنز میں شہید ہونے والے پاکستانی سپاہیوں اور افسروں کو مردار قرار دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کے سرغنہ حکیم اللہ محسود کو شہید کہا۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز ہوا، اس وقت بھی نواز شریف نے آپریشن کی مخالفت کی۔ جس سے پاک فوج اور موجودہ حکمران جماعت کے درمیان اختلافی نوعیت کی فضاء محسوس کی جانے لگی۔

اس تناؤ کے پیچھے دیگر عوامل میں سے اہم وجہ 2014ء میں ہونے والے حکومت مخالف دھرنے تھے، جن سے لیگی حکومت لڑکھڑا گئی تھی۔ اس وقت زرادری نے حکومت کو سہارا دیا۔ زرداری اور نواز شریف جمہوریت کے تحفظ اور ترقی کے نام پہ ایک دوسرے کی کرپشن کو چھپا رہے تھے، سامنے یہ ایشو تھا کہ ہم آمریت کے قدم روک رہے ہیں۔ اب زرادری یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے مجھے ورغلایا اور میں گمراہ ہو گیا تھا، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کیخلاف بیان بازی کرتا رہا۔ دراصل پانامہ لیکس نواز شریف کی ساکھ کو ختم کر کے رکھ دیا ہے، اب کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت انکے ساتھ نہیں کھڑی، خود انکے نام سے موسوم لیگ بھی تقسیم ہو چکی ہے، چوہدری نثار آئے دن اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں۔ نواز شریف کو مسلسل پیشیاں پڑ رہی ہیں، انکے ساتھی نااہل ہو چکے، باقیوں کیخلاف تلوار لٹک رہی ہے۔ سعودی عرب کے حامی ہونے کی وجہ سے بریلوی اور اہل تشیع عوام نون لیگ سے نالاں ہیں، رہی سہی کسر ختم نبوت کے حوالے سے ممکنہ ترمیم نے نکالی دی ہے۔ کچھ لوگ کا خیال ہے کہ اسکی وجہ نواز شریف کا غرور اور تکبر ہے۔ ایک دوسری رائے کے مطابق نواز شریف چونکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں، اب وہ انکی حمایت کھو چکے ہیں، تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل کرنے کیلئے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ لیکن نتائج حاصل نہیں کر پائے، لہذا ایک طرف نیب کیسز اور دوسری طرف مقتدر حلقوں کی مخالفت کا سامنا ہے، اس دباؤ میں وہ کہیں تک جا سکتے ہیں۔

آج وہ قومی سلامتی کے انہی اداروں کو متوازی حکومت قرار دے رہے ہیں ، جنکے بل بوتے پہ کئی عشروں تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ جیسا کہ انہوں نے ملتان میں انکی نااہلی کے خلاف نکالی گئی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے دوران دیے گئے انٹرویو میں اپنے اور اہل خانہ کے خلاف جاری احتساب کے عمل کے بارے میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے، ا س کے لیے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ جانے والے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابقہ اراکین کے بارے میں کہا کہ وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے، اُنہیں لے جایا گیا ہے اور ساتھ ہی سوال کیا کہ انہیں کون لے کر گیا؟۔ جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

اقتدار سے محرومی ایک طرف لیکن نواز شریف کا بھارت میں کاروبار ہے، مودی کے قریبی ہیں۔ اسی لیے اچکزئی سمیت بھارتی لابی پاکستان میں انہیں سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف منظور پشتین اور دوسری طرف نواز شریف مکمل طور پر پاکستان مخالف ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش اسکیم کے تحت امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ افغان سرحد عبور کر کے کوئٹہ، فاٹا اور ملک کے دیگر حصوں میں پاکستانی عوام اور مسلح افواج کیخلاف دہشت گردی میں ملوث گروہوں کی غارت گری کیساتھ ساتھ سیاسی طور پر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک حصہ افغانستان سے جڑا ہوا ہے، فاٹا کو کے پی کے میں شامل کرنے کی مخالفت اسی وجہ سے کی جا رہی ہے۔ اگر فاٹا صوبے میں شامل ہو جائے تو ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا، حفاظتی بند وبست بھی آسان اور موثر ہو جائیگا، افغانستان سے مداخلت کا راستہ بند کرنا بھی ممکن ہو جائیگا، اس طرح بلوچستان میں سرکشی اور تشدد پر قابو پایا جا سکے گا۔ لیکن بھارتی ایجنسیاں اور پاکستان میں بھارت کے ایماء پہ سرگرم مسلح، مذہبی اور سیاسی گروہ پاکستان کے مفاد کیخلاف کام کر رہے ہیں، کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی رہنماء اور گروہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک طرف ملک میں موجود اداروں کیخلاف محاذ آرائی اور دوسری طرف ملک دشمنوں کے بیانیہ کو تقویت دیکر نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں، اب حالات انہیں اس چیز کی اجازت نہیں دینگے، نہ اسکی کوئی گنجائش ہونی چاہیے۔ جہاں پاکستان اداروں، عدالتوں اور سیکورٹی ایجنسیوں کو انکے خلاف ایکشن لینا چاہیے وہیں عوام کو بھی آئندہ الیکشن میں محمود اچکزئی جیسے لوگوں کے ذریعے بھارت کی زبان بولنے والوں کو مسترد کرنا چاہیے۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful