نیا پاکستان اورگلگت بلتستان عبدالحسین آزاد ‏

جب سے عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم بن گئے ہیں یعنی عوام نے منتخب کیا ہے تب سے پاکستانی قوم نیا پاکستان کی منتظر ہے ۔وہی پاکستان کا ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں کی 36لاکھ کی آبادی گزشتہ 70سالوں سے خود کو پاکستانی کہلانے کے منتظر ہیں ۔مگر افسوس ان کی یہ امنگ کبھی بھر نہ آئی ۔دنیاکی یہ پہلی انوکھی تحریک ہے جو خود کو اپنے ہی ملک میں شامل کرنے کیلئے چلائی جاتی ہے۔یہ تحریک عام روایات کے منافی چلی آرہی ہے ۔وہ اس لیے کہ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں اٹھتی ہیں وہ آزادی کیلئے اٹھتی ہیں اپنے ملک یا اسٹیٹ کے خلاف بغاوت کرتی ہیں ،جیسے ہمسائیہ ملک انڈیا میں آزادی کی 56مختلف تحریکیں چل رہی ہیں۔چین میں آزادی کی تحریکیں چل رہیں تو امریکہ میں بھی کئی اسٹیٹس امریکہ سے علحٰیدگی کی آرزومند ہیں ۔لیکن گلگت بلتستا ن کی یہ وہ واحد تحریک ہے جو پاکستان میں مکمل آئینی حیثیت کے ساتھ الحاق کی خواہاں ہے اوریہاں کی عوام پاکستان میں مکمل آئینی شناخت کے ساتھ شامل ہونے کے آرزومند ہیں ۔یکم نومبر 1947ء کو اپنی مدد آپ کے تحت 28ہزار مربع میل کا وسیع و عریض خطے کو ہندووں اور ڈوگروں سے آزاد کرانے کے گلگت بلتستا ن کے آبا واجداد نے اس خطے کو اسلام اور پاکستان کی محبت میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام خط لکھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں ،اور اس نو زائیدہ مملکت کو مظبو ط ملک بنانے کیلئے آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔خطہ کے جواب میں میرے قائد اور بابائے قوم محمدعلی جناح نے 16نومبر کو ایک پٹواری کو اپنا نمائیندہ بنا کر گلگت بلتستان کی جانب روانہ کیا اور 16نومبر کے بعد خطہ گلگت بلتستان براہ راست وفاق پاکستان کے زیر تابع آیا اور آج تک اسی شکل میں موجود ہے ۔گلگت بلتستان کے محب وطن لوگ اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں مگر افسوس جب بھی اس خطے سے آواز اٹھتی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں تو وفاق سے کبھی ہمارے وفاقی وزیر نشریات واطلاعا ت پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت کا موقوف جاری کرتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے یہ پاکستان کا آئینی حصہ نہیں تو کبھی دفتر خارجہ میڈیا ٹاک میں بتاتے ہیں کہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہی ہے ۔جب بھی کوئی آواز یا کوئی ادارہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ غلطی سے بھی کہ ڈالے تو ردعمل اس قدر جلدی آجا تا ہے کہ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ کسی نے ملک کے کیخلاف بہت بڑی بات کی ہوگی جس کا جواب دینے پر حکومت اور دفتر خارجہ مجبورہو جاتے ہیں ۔لیکن کبھی وفاقی ادارے سمیت حکومت کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ گلگت بلتستان سے حاصل ہونے والے وسائل کااستعمال صرف اور گلگت بلتستان پر ہی کیا جائے گا ۔کبھی دیامر بھاشا ڈیم بناتے وقت ہماری حکومت یہ سوچتی کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے ،سی پیک جس کا دروازہ ہی گلگت بلتستان ہے ،اس میں گلگت بلتستان کو وہ حقوق حاصل نہیں اور وفاق نے نہیں دیئے ہیں جو گلگت بلتستان کاحق ہے اس وقت وفاق یہ بھو ل جاتا ہے کہ اس نے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا ہے ۔یہ سب پرانے نظام میں ہوتا ہوا آرہا ہے ۔لیکن اب تو نیا پاکستا ن ہے ،نئے حکمران ہیں ،نیا پاکستان بنانے والے اقتداراعلیٰ میں براجمان ہیں تو ایسے میں گلگت بلتستان کی عوام کی نظریں بھی وزیرا عظم پاکستان عمران خان پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دئینگے جو کہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے ،یہ بنیادی حق آئین پاکستان اور اقوا م متحدہ کے منشور کے تحت ہر فرد کو حاصل ہیں مگریہ الگ بات کہ گلگت بلتستان والوں کو بنیادی آئینی حقوق اور شناخت سے محروم رکھا گیا ہے ۔عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ عمران خان انہیں 70سالہ محرومیوں سے نکالینگے اور انہی مکمل آئینی حقوق دے کر انہیں شناخت دئینگے ۔مگر راقم کو کوئی آس اور امید عمران خان سے نہیں،اگر تھی بھی تو وہ اب مٹ چکی ہے ،وہ اس لیے کہ عمران خان کے کسی بھی عمل سے نہی لگتا کہ وہ اس خطہ بے آئین کو بھی آئینی شناخت دینگے ۔عمران خان نے الیکشن سے پہلے لاہور مینار پاکستان میں ایک عظیم المشان جلسہ کیا ،جو کہ ہر لحاظ سے تاریخی تھا ،ایک تو یہ کہ عوام کا ایک ایسا سمندر وہاں امنڈ آیا تھا کہ مخالفین کی آنکھیں دنگ رہ گئی تھی ،شائدہی تاریخ پاکستان میں کوئی ایسا لیڈر نہیں نکلا ہوگا جس کیلئے عوام اتنی بڑی تعداد میں باہر آئی ہو،لہٰذا اس کو تاریخی جلسہ کہنا غلط نہ ہوگا ،دوسری بات یہ کہ یہ جلسہ اس لیے بھی تاریخی تھا کی اس جلسہ میں عمران خان اسی جوش ولولے سے تشریف فرما تھے کہ جیسے انہیں یقین تھا کہ وہ ہی نیا پاکستان کا 22واں وزیر اعظم ہیں ۔خان صاحب کی اس جلسے کی تقریر میں جو 11نقاط پیش کئے تھے وہ نہ صرف نقاط تھے بلکہ وہ نیا پاکستان کو چلانے کیلئے پی ٹی آئی کی پالیسی تھی ۔خان صاحب کی تقریر کے 11نقاط میں ملک کے تمام مسائل کا زکر کیا گیا تھا ،بلوچستان ،سندھ ،پنجاب اور کے پی کے کے مسائل اور وفاق کے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ۔اچھی بات ہے لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوامی مسائل کو جانتا ہوں مگر مجھے بے حد افسوس ہوا کہ خان صاحب نے خطہ گلگت بلتستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ۔حالانکہ سی پیک ،دیامر بھاشاڈیم ،پاکستان چین دوستی ،ملکی دفاع ،سیاحت اور منرلز کے ذخائر سے لیس اس خطے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ۔جو کہ ہونا نہیں چاہیے تھا ،گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کا مطلب پاکستان کو نظر انداز کرنا ہے ،وہ اس لیے کہ خطہ گلگت بلتستان، پاکستان کیلئے نہ صرف دفاعی ،دیگر ذخائر کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اس کی جو جغرفیائی اہمیت ہے شائد وہ کسی اور خطے میں نہ پائی جاتی ہو ۔یہی وہ خطہ ہے جہاں سے پاکستان کی سرحدیں 4ممالک چین ،انڈیا ،افغانستان اور ترکمنستان سے جاملتی ہیں ،چین اور پاکستان کی دوستی کو آگے بڑھانے میں پل کردار اداکرنے والا خطہ اور سی پیک جیسا پروجیکٹ پاکستان کو دینے والے اس خطے کو نظر کر کے اگر نیا پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن کرنا اگر کوئی چاہتا ہے تو یہ خلا میں تیر چلانے اور خیالی پلاو پکانے کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔عمران خان کی طرف سے وزارت عظمٰی کے منصب کو سنبھالنے کے بعد بھی اس خطے کی محرومیوں کو ختم کرنے کے بارے میں کسی پالیسی کااعلان نہ کرنے کا مطلب عمران خان نیا پاکستان میں وفاق ،پنجاب اور کے پی کے کو لے کر چلنے کے خواہاں ہیں گلگت بلتستان کی طرف عمران کی نظر نہیں ۔پی ٹی آئی کی حکومت جن کا دعوی ٰ ہے کہ وہ ایک مضبوط وفاق پاکستان کو دئینگے ،مگر ان کے علمی اقدامات سے نہیں لگتا کہ وہ مضبوط وفاق بنانے میں کامیاب ہونگے ۔گلگت بلتستان پاکستان کی شہ رگ حیات ہے ۔اس کیلے ضروری ہے کہ اس خطے کے مسائل کو ترجحی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔اگر عمران اس خطے کی ترقی وتعمیر کے بارے میں مخلص ہیں تو ابھی تک اس خطے میں اپنا گورنر منتخب کرنا چاہیے تھا جو کہ عمران خان نے نہیں کیا ،حالانکہ عوام مسلم لیگ ن کے منتخب کردہ موجودہ گور نر سے سخت متنفر ہیں اور مطالبہ بھی کرتے ہیں جلد از جلد اس گورنر کو عہدے سے ہٹا یا جائے ،دوسری طرف گلگت بلتستان میں سابقہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے جو انسانیت سوز قوانین رائج کئے تھے ،نیا پاکستان میں اب تک ان قوانین کو ختم ہونا چاہیے تھا جو کہ ابھی تک نہیں کیا اور آج بھی گلگت بلتستان میں حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو فورتھ شیڈول لسٹ میں ڈالا جاتا ہے اور ان پر غداری اور دہشتگردی کے مقدمات ڈال کر انہیں بے گناہ قید کیا جاتا ہے اور اس کا ایک نہ ختم ہونے والا
سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے ،مگر نیا پاکستان کے دعویدار خاموش کھڑے ہیں ،کہاں گیا انصاف اور عدالت والا نیا پاکستان ؟؟دوسری طرف عمران خان روز اول سے کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے آرہے ہیں ،اورجناب وزیر اعظم صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں نیب کے دائرے کو ملک کے تمام شہروں تک پھیلانے کا کہا تھا مگر خطہ گلگت بلتستان میں کرپشن کی بھر مار ہے وہاں نیب کی کسی کیخلاف کوئی کاروائی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔موجودہ حکومتی اراکین اختیارات کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں میرٹ کی دھجیاں بکھیر ی جاتی ہیں ۔مگر نیا پاکستان کے دعویداروں کو اس خطے میں ہونے والی کرپشن اورعوام پر کیے جانے والے مظالم نظر نہیں آرہے ہیں ۔گلگت بلتستان میں عوامی نمائیندوں کو اور آئینی حقوق وحکومت کی کرپشن اور عوام پر کیے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلندکرنے والوں اور کالمزلکھنے والے اور عوام کو ان کے حقوق سے آگا ہ کرنے والوں کو بے جا قید کیا جاتا ہے ۔گلگت بلتستان میں اپنے حقوق کیلے آواز اٹھا نا اب جرم تصور کیا جاتا ہے اور حق آزادی اظہار کو دبایا جاتا ہے ۔اب تک ہمارے کئی نوجوان اسی آزادی اظہار کی سزا میں پابند سلاسل ہیں ۔یہ سب پہلے بھی چلا آرہا تھا مگر دکھ اس بات کا ہے کہ ان کاروائیوں میں جب سے نیا پاکستان کے انصاف پسند حکمران آئیے ہیں ان کاروائیوں میں مزید تیزی آئی ہے ۔جوکہ کسی بھی طرح نہ ہی حکومت کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے مفاد میں کیونکہ جب بے جا ظلم بڑھ جاتا ہے تو عوام کے اندر ریاست مخالف جذبات ابھر آتے ہیں اور اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔گلگت بلتستان پر لاگو تمام قوانین وفاق کے دئیے ہوئے ہیں ہمیں امید ہے عمران خان سابقہ حکومتوں کے ان انسانیت سوز قوانین کو ختم کرئینگے اور گلگت بلتستان کوپاکستان کا پانچواں صوبہ تسلیم کرکے سچ مچ نیا پاکستان بنائیں گے اور ہر وہ فیصلہ جو ملک کے مفاد میں ہو وقت پر کرئینگے ۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful