نیا پاکستان بھی آئی ایم ایف اور امریکی اتحاد کا محتاج(2)

تحریر: عرفان علی

پاکستان کی موجودہ کمزور اقتصادی صورتحال کے پیش نظر امکانات یہ ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی پاکستان کو پھر کسی افغان سوویت جنگ کے دور یا طالبان پراجیکٹ کی طرز کے کسی منصوبے میں استعمال کریں۔ ایسا سوچنے کی ٹھوس وجوہات بھی ہیں۔ ایک تو صدر ٹرمپ کی امریکی حکومت چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں مصروف ہے اور ایران پر نئی پابندیاں بھی لگا رہی ہے، جبکہ یہ دونوں ملک پاکستان کے پڑوسی ہیں تو دوسری طرف روس سمیت متعدد ممالک کے خلاف الفاظ کی جنگ میں مصرروف ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے روایتی اتحادی ممالک کو بھی بلیک میل کر رہی ہے کہ وہ امریکہ کی مہنگی خدمات کا بل ٹھیک طرح سے ادا کریں، یعنی زیادہ مالی فوائد پہنچائیں۔ ایک طرف یہ امریکی پالیسی ہے تو دسری طرف پاکستان کی گیس کی ضروریات کا ایک تہائی حصہ ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن سے پورا ہونا ہے، لیکن امریکی و سعودی دباؤ پر تاحال یہ گیس پائپ لائن پاکستان کی حدود میں نہیں بچھائی جاسکی ہے اور زرداری و نواز حکومتوں کی طرح عمران کی انصافین حکومت سے بھی یہی چاہا جائے گا کہ وہ اس منصوبے سے باز رہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے آئی ایم ایف کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو قرضہ دیتے وقت خیال رکھے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ پاکستان چینی قرض دہندگان کے قرضوں کی قسط کی مد میں ادا نہ کرے۔ امریکی حکومت سی پیک کی مخالف بھی ہے، لیکن جنرل الیکٹرک سمیت بعض امریکی کمپنیاں چینی حکومت کے اس بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کہ سی پیک جس کا حصہ ہے، اپنی مشینری اور آلات کی فروخت سے اس منصوبے سے فائدہ بھی اٹھا رہی ہیں۔

امریکی حکومت چین، ایران، روس کے خلاف ہے جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات و قطر و بحرین وغیرہ امریکی اتحادی ممالک ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی و اماراتی دورہ تھا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ میں جو دو ملاقاتیں کیں اور وہاں جو بات چیت ہوئی، اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ اقتصادی بحران پھر کسی نئی افغان پالیسی کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگا، کیونکہ اس مرتبہ شام اور یمن میں امریکہ کے مسلمان اتحادی حکمران امریکی اسرائیلی اتحاد کے ایجنڈا پر کام کر رہے ہیں۔ یمن پر فوجی جارحیت کرنے والے سعودی اماراتی فوجی اتحاد کے میزبان ملک سعودیہ نے تو سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو ہی ملازمت پر رکھ لیا ہے، حالانکہ ان کو نواز حکومت کی وفاقی کابینہ نے اجازت بھی نہیں دی تھی اور نہ ہی انہوں نے وہ اجازت مانگی تھی۔ بجائے اسکے کہ عمران خان کی انصافین حکومت راحیل شریف کو وطن واپس بلواتی اور ان سے یہ مطالبہ کرتی کہ وہ اس غیر قانونی نوکری کو چھوڑ دیں، اس کے برعکس انصافین حکومت راحیل شریف کو نوکری دینے والوں سے مدد مانگنے پہنچ گئی۔ یعنی پہلے پچاس دنوں ہی عمران خان کی انصافین حکومت نے اپنے اقدامات سے اپنے نئے پاکستان کو زرداری اور نواز کے پرانے پاکستان سے زیادہ سنگین و گھمبیر بحرانوں میں پھنسانے کی طرف سفر شروع کر دیا۔

حکومت نے ملک کی خارجہ پالیسی کو مجموعی طور پر جس سمت میں کھڑا کیا ہے، وہ کم تشویشناک نہیں ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں امریکی صدر کے مشیر برائے امور قومی سلامتی جون بولٹن سے وائٹ ہاؤس میں اور امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں 2 اکتوبر کو جو ملاقاتیں کیں اور وہاں جو طے پایا ہے یا حسن ظن رکھتے ہوئے یہ کہیں کہ امریکہ پاکستان سے جو چاہتا ہے، اس کی جو فہرست (وش لسٹ) پیش کی ہے، اس حوالے سے مکمل تفصیلات ذرایع ابلاغ کو جاری نہیں کی گئیں۔ شاہ محمود قریشی کی ملاقات سے پہلے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر امریکہ کے عرب اتحادی حکمرانوں کا اجلاس اور قریشی کی پومپیو سے ملاقات کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے مختصر اعلامیے میں معنی خیز نکات، اس ملاقات کے دو روز بعد زلمے خلیل زاد کا پانچ ملکی دورہ پر نکل پڑنا، یہ سب کچھ ظاہر کر رہا ہے کہ امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت جی سی سی ممالک کے ساتھ ساتھ مصر اور اردن کو ملا کر مشرق وسطیٰ اسٹرٹیجک الائنس کے نام سے جو نیا تزویراتی اتحاد بنا رہا ہے، اس حوالے سے بھی پاکستان کی خدمات درکار ہیں۔ آئی ایم ایف کا قرضہ اور سعودی و اماراتی سرمایہ کاری وغیرہ کن شرائط پر ہیں، غیر تحریری و غیر رسمی شرائط یقیناً ماضی کی طرح راز ہی رہیں گی۔ البتہ آئی ایم ایف کے قرضے کے لئے پاکستان حکومت کو سی پیک منصوبوں کی تفصیلات اس ادارے کو فراہم کرنا ہوں گی، کیونکہ آئی ایم ایف بھی جاننا چاہے گا کہ چین نے کن منصوبوں پر کن شرائط پر کتنا قرضہ دیا ہے اور اسکی ادائیگی پاکستان کس آمدنی سے کر رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی کی ملاقاتوں کی تفصیلات نہ تو جون بولٹن کے دفتر کی جانب سے تفصیلات جاری ہوئیں اور نہ ہی بولٹن یا مائیکل پومپیو نے پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اسکے اگلے روز پومپیو نے پریس بریفنگ دی تو اس میں ایران، عراق اور امریکی وزارت خارجہ کی از سرنو فعالیت وہ تین نکات تھے، جن پر بات کی اور ذرایع ابلاغ کے نمائندگان سے کہا کہ چوتھا کوئی بھی ایشو جس پر وہ چاہیں سوال پوچھ سکتے ہیں۔ نہ پومپیو نے شاہ محمود قریشی سے ملاقات پر کوئی بات کہی اور نہ ہی میڈیا نمائندگان نے کوئی سوال کیا۔ اگر پاکستان کا کردار افغانستان کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے اور امریکی میڈیا میں بسا اوقات پاکستان کا میڈیا ٹرائل بھی کیا جاتا ہے تو یہ بہترین موقع تھا کہ امریکی میڈیا پاکستانی وزیر خارجہ سے براہ راست یا ان دو حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے وقت یا پھر پومپیو کی بریفنگ میں ان ملاقاتوں سے متعلق معلومات لیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ہوا یہ ہے کہ ان ملاقاتوں کے بعد امریکہ کی جانب سے افغان مفاہمت کے لئے مقرر کئے خصوصی نمائندے و سابق سفارتکار افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد پانچ ملکی دورے کے لئے نکل پڑے ہیں۔ نہ صرف افغانستان و پاکستان بلکہ وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی گئے۔ چار اکتوبر تا 14 اکتوبر کا یہ دورہ بھی اس حوالے سے کم اہم نہیں۔

شاہ محمود قریشی کی پومپیو سے ملاقات پر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کی جانب سے تین پیراگراف پر مشتمل جو مختصر اعلامیہ جاری ہوا ہے، اس کے مطابق پومپیو نے اس ملاقات میں مشترکہ ترجیحات پر پیش قدمی کے لئے پاکستان اور امریکہ کے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی اور تسلیم کیا کہ دو طرفہ تعاون دونوں کے لئے سود مند ہے اور جنوبی ایشیاء میں استحکام کا ایک فیکٹر ہے۔ خاص طور پر افغان مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حل میں پاکستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ افغان امن عمل کی پیش قدمی پر اتفاق کیا اور یہ کہ افغان طالبان مکالمے کے اس موقع کا فائدہ اٹھائیں۔ دونوں نے مذکورہ معاملات اور دیگر ایشوز پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں مصروف رہنے پر اتفاق ظاہر کیا اور اس خواہش کو دہرایا کہ وہ مفادات جن میں دونوں حصے دار ہیں، ان کو آگے بڑھانے کے لئے تعمیری مکالمے کو برقرار رکھیں گے۔ اس اعلامیہ میں جو اہم ترین دو نکات ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ نہ صرف افغانستان بلکہ وسیع تر خطے میں امن و سلامتی کے لئے پیش قدمی دونوں ملکوں کا مشترکہ مقصد ہے۔ دوسرا نکتہ پہلے لکھا جاچکا کہ افغانستان اور جنوبی ایشیائی معاملات ہی نہیں بلکہ ’’وسیع تر خطے میں امن و سلامتی‘‘ امریکہ کی نظر میں مشترکہ مقصد ہے اور پومپیو نے کہا کہ دیگر ایشوز پر بھی ایک دوسرے سے انگیجڈ رہیں گے۔ یعنی یہ وسیع تر خطہ کہاں تک ہے اور یہ دیگر ایشوز کیا ہیں، جن پر پاکستان کی نئی حکومت اور امریکہ ساتھ ہوں گے۔؟

امریکہ نے افغانستان میں جس نوعیت کا امن قائم کیا ہے، اگر اس طرح کا امن و سلامتی وسیع تر خطے میں قائم کرنا مقصد ہے تو یہ پاکستانیوں کے لئے بہت ہی بری خبر ہے۔ امریکی تھنک ٹینک یو ایس آئی پی سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے پومپیو سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ امریکہ، افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی سوچ میں نئی مماثلت آئی ہے، جس سے افغانستان کے مسئلے کے سیاسی طور حل ہونے کا موقع پیدا ہو رہا ہے۔ جس طرح ڈونالڈ ٹرمپ جیسا صدر امریکیوں کے لئے کچھ مختلف اور نیا سا ہے، اسی طرح عمران خان جیسا وزیراعظم بھی پاکستانیوں کے لئے نیا اور مختلف ہے، لیکن دونوں کی حکومتوں کا سفر ایک ہی سمت میں ہے کہ پرانے تزویراتی منصوبوں کو نئے انداز میں جاری رکھیں۔ افغان طالبان کی دوستی، سہولت کاری، میزبانی، سرپرستی، جو بھی اسکا عنوان رکھ لیں، یہ الزام پاکستان پر بھی ہے تو قطر پر بھی اور کسی حد تک ترکی پر بھی۔ لیکن امریکہ کو نقصان پہنچانے والے افغان طالبان کی مدد کرنے کا الزام تو ایران پر بھی امریکہ لگاتا آیا ہے۔ کیا ایران پر یہ الزام امریکہ کا جھوٹ تھا؟ اور اگر سچ تھا تو جس طرح پاکستان سے مدد طلب کر رہا ہے تو ایران سے بھی بالواسطہ مدد طلب کی جاسکتی تھی کہ ماضی میں بین الاقوامی سطح کے مکالموں یا مذاکراتی عمل میں ایران، چین سبھی شامل کئے جاتے رہے ہیں اور اب انکو مائنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے وسیع تر خطے اور دیگر ایشوز کی بات پاکستان کو اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف امریکی اتحاد کے غیر قانونی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک اور مرتبہ صف آرا کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ امریکی اتحاد کی پرانی پالیسی ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو امریکی و سعودی و صہیونی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے۔

جو امریکہ امن قائم کرنے کے بہانے افغانستان پر تاحال قابض ہے اور وہاں تاحال امن قائم نہیں کرسکا، جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فلسطین، کشمیر و برما (میانمار) کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی بجائے یمن کے مظلوم مسلمانوں پر بلاجواز جنگ مسلط کرکے مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں، جو شام میں امریکی اتحاد کے سہولت کار بن کر وہاں کی فلسطین دوست حکومت کو ہٹانے کے اسرائیلی ایجنڈا کی تکمیل میں مصروف ہیں، وہ سعودی بادشاہ سلمان جس نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو اعلیٰ ترین سعودی اعزاز دیا ہے جبکہ مودی نے گجرات و مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے، ان ممالک کے قدموں میں پاکستان کو جھکا دینا انصاف نہیں ہے اور کوئی عمران خان اینڈ کمپنی کو بتا دے کہ صرف نام تحریک انصاف رکھ لینے سے انصاف نہیں ہو جاتا بلکہ عدلیہ کی اصطلاح میں انصاف یہ ہے کہ نہ صرف انصاف ہو بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے!

اس صورتحال کے پیش نظر موجودہ حکومت کو ابھی سے متوجہ ہو جانا چاہئے۔ عمران خان کی بڑھکوں اور ڈینگوں کی وجہ سے عوام کی امیدیں اتنی زیادہ ہوگئی تھیں کہ حکومت پر ابھی سے تنقید کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، ورنہ سبھی کو معلوم ہے کہ کسی بھی نئی حکومت کو کم از کم دو سال درکار ہوتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی دکھا سکے، لیکن آتے کے ساتھ ہی جنرل ضیاء الحق و جنرل پرویز مشرف کی خارجہ پالیسی کا آمیزہ نافذ کرنا، اپنے بڑے بڑے دعووں سے یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف سے قرض لینا، سعودی و اماراتی در پر سر جھکانا، گیس کی قیمتوں میں تاریخ ساز اضافہ کرنا، یہ صرف سیاسی ناقدین ہی نہیں بلکہ عوام الناس کو بھی ابھی سے ہی عمران خان کی انصافین حکومت پر تنقید پر مجبور کرچکا ہے۔ عمران خان حکومت کو کوئی بتا دے کہ جب بے نظیر اور نواز پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے، تب موجودہ صورتحال سے زیادہ خراب صورتحال تھی اور انکی دو اڑھائی سال کی دو دو حکومتوں کے بعد پرویز مشرف کی نو سالہ حکومت بلا تعطل جاری رہی تھی۔

تب کون سا ہن پاکستان پر برسا تھا اور عمران خان کے ڈارلنگ مشرف نے زرداری حکومت کے لئے آئی ایم ایف کے قرض کے علاوہ کونسا آپشن چھوڑا تھا؟ جبکہ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی حکومتوں پر تو امریکہ اور سعودی عرب بہت زیادہ مہربان تھے۔ اب وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ فوجی حکومتوں نے سات مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احمد ملک نے کہا کہ پاکستان اب تک آئی ایم ایف سے 22 مرتبہ قرض لے چکا ہے۔ یہ جملے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قرض لینے کی جو بھی توجیہ موجودہ حکومت بیان کرے گی، اس سے خود بخود پچھلی حکومتوں کا دفاع ہوگا اور اب یہ حکومت قیمتوں میں اضافے، مہنگائی پر اور روپے کی قدر میں کمی سمیت ہر ایشو پر جو بھی موقف اپنائے گی، اس سے نواز اور زرداری حکومتوں کے ان سارے اقدامات کا دفاع ہوتا رہے گا کہ جن پر عمران خان اور انکی جماعت نے ماضی میں تنقید کی تھی۔ قوم یوتھ کو اب لگ پتہ گیا ہوگا کہ کہنے اور کرنے کے درمیان میں کتنی طویل مسافت ہوا کرتی ہے!
۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful