نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرنا تو فائل بند کردیتے ہیں، جسٹس جواد ایس خواجہ

جسٹس جواد خواجہ کی حکومت کو پیش کش؟؟؟
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق پیشرفت رپورٹ پر عدم اطمینان کااظہارکردیا‘ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ نیشنل ایکشن پلان کامقصدغیرریاستی عناصر کی طرف سے ریاست پر مسلط جنگ کا دفاع تھا‘اٹھ ماہ گزرنے کے باوجود جوائنٹ انوسٹی گیشن ڈائریکٹوریٹ قائم نہیں ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ سمری 8ماہ سے ادھر ادھر پھر رہی ہے ‘اگرنیشنل ایکشن پلان پرعمل نہیں کرنا چاہتے تو یہ فائل بندکردیتے ہیں۔

جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں این جی اوز کی رجسٹریشن سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجدالیاس بھٹی نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق پیشرفت رپورٹ پیش کی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہارکردیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ چوبیس دسمبر 2014 ء کو جوائنٹ انوسٹی گیشن ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں آنا تھا،آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ جے آئی ڈی کیلئے سمری 18 مارچ 2015 ء کو وزیر اعظم کوبھیجی گئی جس پر کچھ مشاہدات دیئے گئے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے 2 ارب روپے بجٹ کا مشروط مطالبہ کیاگیا۔ اس کی منظوری دی گئی یا نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بجٹ میں اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful