وزیراعظم صاحب دعوے بہت ہوچکے اب عمل کا وقت ہے عبدالحسین آزاد

نئے پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب کے پہلے خطاب سے عوام میں ایک خوشی کی لہر جاگ اٹھی تھی ۔لوگوں کے چہروں پر خوشی کے اثرات واضح نظر آرہے تھے ۔لوگ بہت خوش تھے کہ اب ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے اور ہماری زندگی میں بھی تبدیلی آئے گی ۔خان صاحب کا قوم سے پہلے خطاب کے بعد میڈیا چینلز میں لوگوں کو یہاں تک بھی کہتے سناکہ آج ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور آج ہم دنیا کو پاکستان کا ایک روشن چہرہ دیکھانے کے قابل ہوگئے ہیں ۔آج یہ بات واضح ہوئی کہ پاکستانی قوم سیاسی بصیرت رکھتی ہے اور یہ قوم انقلابی قوم ہے ۔پاکستانی قوم مستقبیل کے فیصلے خود کرتی ہے ۔اس بات کا واضح ثبوت ملک سے مورثی سیاست کا خاتمہ ہے تو ساتھ ہی قوم کا فیصلہ بطور وزیر اعظم عمران خان کو بنانا نہایت ہی سیاسی فہم فہراست کا ثبوت ہے ۔اس طرح کے جذبات سوشل ،پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں دیکھنے اور سننے کو ملے ۔یقینا اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ عمران خان کی پہلی تقریر لائق تحسین تھی ،یہی وجہ تھی کہ پہلی بار پاکستان کے منتخب وزیراعظم کی تقریر کو انٹرنیشنل میڈیا میں براہ راست کورئج ملی اور خان صاحب کی اس تقریر کو پاکستانی سمیت تمام دنیا کے دانشوروں نے قدر کی نگا ہ سے دیکھا اور تعریف کی ۔عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب میں ملکی مسائل کا نہ صرف ذکر کیا بلکہ ان کے حل کی تدابیر بھی بتادی اور ملک کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے لائحہ عمل بھی طے کیا جس سے عرف عام میں ہم حکومت کی پالیسی یا عمران خان کی پالیسی کہتے ہیں ۔عمران خان کی تقریر میں ان تمام دعوں اور وعدوں کا ذکر اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ ایک غیر معمولی انسان ہیں اور وہ خود کو پاکستان کے سابقہ روایتی حکمرانوں سے بلکل الگ اور منفرد پیش کرتے ہیں ۔پس اس کیلئے ضروری تھا کہ اس کاقوم سے پہلا خطاب بھی الگ اور منفرد ہو تاکہ قوم کو کسی حد تک یقین آجائے کہ ان کا انتخاب غلط نہیں ہے ۔ان تمام پہلوں کو مدنظر رکھ کر عمران کا بطور وزیر اعظم پہلا قوم سے پہلا خطاب کامیاب رہا ۔ ملکی و غیر ملکی سطح پر بھی پزیرائی ملی ،وہ وقت گزرچکا اب وقت آپہنچا ہے قوم سے کئے گئے ان وعدوں اور دعووں کو عملی جامہ پہنانے کا ،اصل کام اب شروع ہو ا ہے ۔اب معلوم ہوگا کہ خان صاحب کے قول وفعل میں کتنا تضاد ہے ۔اب یہ بھی معلوم ہوگا کہ خود کو ایک اچھا کیپٹن کے طور پر پیش کرنے والے عمران خان کیا واقعی ایک اچھے اور سمجھ بوجھ رکھنے والے کیپٹن ہیں ؟یا یہ بھی بوگس دعوے ہیں ۔
قوم سے خطاب میں تو عمران خان بہت کچھ کہ گئے مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا عمل بھی اسی قدر گرم جوشی سے کرپائینگے جس گرم جوشی سے وعدے کیے ہیں ۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ خان صاحب کے دعوے کس قدر سچے اور جھوٹے ہیں ۔اگر موجودہ وزیر اعظم اپنے کئے ہوئے وعدوں پر 50فیصد بھی عمل کرانے میں کامیاب ہوئے تو یقینا پاکستان کیلئے پاکستانی قوم کیلئے نہایت ہی نیک شگون ہوگا ۔پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار پر براجمان ہوئے ابھی کچھ ہی دن گزرے ہیں اور ان کی کارکردگی بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہے ۔اس لیے ان چند دنوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر پی ٹی آئی کی حکومت کو برا بھلا کہنا اور خان صاحب کو ایک ناکام وزیر اعظم کا لقب دینا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ چند دنوں کی کاکردگی کو بنیاد بنا کر ناکام یا کامیاب حکومت کا اعزاز بخشا جائے ۔البتہ تنقید اور اظہار رائے کا حق ہمیں آئین پاکستان نے دیا ہے ۔اس حق کو ہم سے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی ۔مگر افسوس اس حق سے بھی پاکستانیوں کو محروم کیا جارہا ہے ۔خیر بات کررہے تھے حق اظہار آزادی اور تنقید کا تو راقم سمیت تمام اہل قلم اور صحافیوں کو چاہیے کہ وہ اس حق کا بے جا استعمال نہ کریں،تنقید برائے تنقید نہ ہو تنقید برائے تعمیر ہو ۔کیونکہ انسان خطا ءکا پتلا ہے ،خطائیں ہوتی رہتی ہیں ۔چاہیے وہ صحافی ہوں یا اقتدار اعلیٰ میں براجمان لوگ سب سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ۔اس لیے کوشش تعمیری تنقید کی ہونی چاہیے ۔عمران خان اور ان کی ٹیم کی ان چند دنوں کی کارکردگی پر نظر دوڑاتے ہیںتو مایوس کن صورتحا ل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔عمران خان روز اول سے ہی ناکام خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے تھے اور تو ساتھ ہی یہ یقین بھی دلا رہے تھے کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی خارجہ پالیسی بنا کر دینگے کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہوگا اور پاکستان کا امیج عالمی سطح پر بہتر ہوگا ۔اس حوالے سے انہوں نے انڈیا ،امریکہ ،سعودی عربیہ ،ایران اور افغانستان کا خصوصی ذکر کیا کہ ان ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے اور متوازن تعلقات قائم کرنے ا ور ساتھ ہی اس بات کا بھی عہد کیا کہ پاکستان کسی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اپنی فوج اور پاکستان کی سرزمین کو کسی کیخلاف استعمال ہونے دے گا ۔مگر خان صاحب وعدہ وفا نہ کر سکے ۔حالیہ سعوی عرب کا دورہ ناکام خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عمران خان ایک جمہوری مملکت کے حکمران ہیں اور ان کو چاہیے تھا کہ ان کا پہلا دورہ کسی جمہوری ملک کا ہو مگر ایسا نہ ہوسکا اور عمران خان نے سعودی عرب کی یمن پر جاری جارحیت کا ساتھ دینے کا اعلان کرکے اپنے ہی کئے ہوئے وعدے کو پائمال کیا کہ پاکستان کی سرزمین اور فوج کسی ملک کے خلاف کسی بیرونی ملک کی آلہ کار نہیں بنے گی ۔عمران خان کے اس خطرناک اقدام سے پرائی جنگ جس کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں وہ اس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور اس سے ملک انتشار اور بد امنی کی لپیٹ میںآئے گا ۔جو کہ کسی بھی طرح پاکستان کے حق میں نہیں ۔دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کا یہ قدم آئین پاکستان کے خلاف جارہا ہے جس کے مطابق ا گر برادر اسلامی ممالک کے درمیان بگاڑآجائے تو پاکستان ثالثی کا کردار اداکرے گا اور اسلامی ممالک میں امن کی فضاءکو برقرار رکھنے میں اپنا قلیدی کردار اداکرے گا ۔دوسری طرف وزیر اعظم صاحب نے مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر آپ کے وزیر خزانہ اسد عمر صاحب جس تیزی کے ساتھ آگے جارہے ہیں اس میں ایسا لگتا ہے کہ نئے پاکستان میں غریبو ں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔دن بہ دن پیڑول،ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قمیت بڑھتی چلی جارہی ہے تو دوسری طرف اشیائے خوردنوش کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں مگر مہنگائی کے جن پر قابو پانے والے میسحا ہاتھ پر ہاتھ درے منتظر فردا ہیں ۔کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس کا قیام ابھی تک ہوتا نظر نہیں آرہا ۔پروٹوکول کا خاتمہ اور سادگی اپنا نے کے وعدے پر بھی خان صاحب کی ٹیم ناکام نظر آرہی ہے اور صدر مملکت پہلے پروٹوکول لیتے ہیں پھر پروٹوکول دینے والوں پر برس پڑتے ہیں ۔اگر قول وفعل میں تضاد نہیں ہے تو پیشگی اطلاع دی جائے سیکیورٹی اداروں کہ پروٹوکول کی ضرورت نہیں مناسب سیکیورٹی فراہم کی جائے تو سیکیورٹی ادارے من عن عمل کرئینگے ۔بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے وعدے اور 2کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ تو اپنی جگہ من وعن قائم ہے جس کیلئے ابھی کوئی واضح پلان حکومت کی طرف سے سامنے نہیں آیا ہے ۔وزیر اعظم صاحب نے کراچی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے جو وعدے کئے ہیں اس پر ایک فیصد بھی کام کراچی میں ہوتا نظر نہیں آتا ،وزارت خزانہ اور صدر مملکت کا قلمدان کیلئے شہرکراچی کا انتخاب برا نہیںہے ۔مگران عہدوں پر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کراچی کے سیاستدان فائز رہ چکے ہیں مگر کراچی کا حال وہی پرانا ہے کوئی تبدیلی نہیں آئی اس لئے ضروری ہے کہ کراچی کیلئے عملی کام کیاجائے پانی کا مسلہ حل کیا جائے ،بجلی کا مسلہ کیا جائے ،امن وامان کی صورتحال کو بہتر کیا جائے ،روزگار کے مواقعے فراہم کئے جائیں اورشہر کراچی کی خستہ حال گلیوں ،سڑکوں کو از سر نو بنایا جائے اور سیوریج کا سسٹم بہتر کیا جائے ۔عوام کیلئے آبادی کے تناسب سے سہولیات فراہم کی جائیں ۔مضبوط پاکستان کیلئے ترقیافتہ کراچی کا ہونا ضروری ہے اور نیا پاکستان کا نظریہ اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوگا جب جناب وزیراعظم آپ اور آپ کی ٹیم اپنے کیے ہوئے وعدوں پر عمل پیرا ہوں ۔خدا آپ کو اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق دے آمین ۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful