وزیراعظم کے دورہ ایران کے موقع پر شاہ محمود کو عوام کو مخاطب کرکے ایران سے شکایت نہیں کرنا چاہیے تھی، رانا ثناء اللہ

اسلام ٹائمز: کپتان نے ملک میں تبدیلی کی بجائے کابینہ میں ہی تبدیل کر دی ہے، آپکے خیال ایسا کیوں ہو رہا ہے۔؟
رانا ثناء اللہ:
 عمران خان کا سارا ویژن اور نعرے ناکام ہوچکے ہیں، سب سے زیادہ انہیں بھروسہ تھا اسد عمر پہ، انہیں ہی نہیں چلا سکے، اکانومی ہی آگے نہیں بڑھ سکی۔ یہ پہلی قربانی نہیں بلکہ ایک غلطی کو سدھارنے کیلئے دوسری غلطی جس طرح کی جاتی ہے، یہ اس کی ایک مثال ہے۔ عمران خان کے اندر فیصلے کی صلاحیت ہی نہیں، پوری ٹیم کے ناکام ہونے سے مراد خود کپتان یعنی وزیراعظم کی ناکامی ہے، لیکن ہم تو شروع سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ تو ہیں ہی کٹھ پتلی اور ڈمی۔ پھر جو رہی سہی کسر تھی، وہ اسد عمر نے نکال دی، آئی ایم ایف جانے میں اتنی دیر کی کہ اس کے بعد روپے کی قدر کم کرنیکا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ نقصان ہوا۔ سرکاری کارپوریشنز کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکے، اس وجہ سے پانچ سو ارب کا نقصان ہوا، جس کی بنیادی وجہ اسد عمر کے فیصلے نہ کرنے کی صلاحیت یا ہر فیصلہ تاخیر سے کرنا تھا۔ اب اتنے پیچھے جا چکے ہیں کہ جو بھی آ جائے، معیشت کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔

اسلام ٹائمز: وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں فقط کارکردگی کیوجہ سے ہوئی ہیں، یا اسکی کوئی اور بھی وجوہات ہیں۔؟
رانا ثناء اللہ:
 کارکردگی بھی اہم چیز ہے، لیکن ناکامی نے مایوسی کو حد سے بڑھا دیا ہے، اب یہ سلسلہ رکے گا نہیں، پنجاب میں بھی تبدیلی کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پی ٹی آئی کوئی جماعت نہیں، مختلف دھڑے ہیں، جنہیں جمع کیا گیا تھا، جس ایمپائر کے اشارے پہ یہ لوگ لائے گئے ہیں، اسی کے اشاروں پر تبدیلی بھی لائی گئی ہے، دوسرا دھڑے بندی اور مفادات کی بنیاد پہ حد سے بڑا ہوا اختلاف اسکی وجہ ہے، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین ایکدوسرے کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ یہ پورا سیٹ اپ ہی کسی کے اشارے پر چل رہا ہے، جس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ یہ کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ یہی دو بڑی وجوہات ہیں ناکامی کی۔

اے ٹی ایم کی طاقت اور ایمپائر کے اشاروں پہ چلنی والی جعلی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ پھر آپ صوبوں کو دیکھیں، پنجاب اور کے پی کے حکومتوں کا بھی یہی حال ہے، نہ کوئی فیصلہ نہ کوئی کارکردگی ہے انکی، یہ کچھ دن مزید نکالنے کیلئے لوگوں کو تبدیلیوں کے نام پہ جھانسہ دے رہے ہیں، جیسے انہوں نے حکومت میں آنے کیلئے تبدیلی کے خواب دکھائے، پھر جب سے آئے ہیں، ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ اپوزیشن کرپٹ ہے، اب اپنی ہی کابینہ کی نااہلی اور کرپشن ثابت ہوگئی ہے، اب کوئی اور بہانہ بنا لیں گے، جتنے دن حکومت میں رہینگے، ملک کا نقصان ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا حکومت ناکامیوں کے باوجود کسی نادیدہ قوت کے سہارے پانچ سال پورے کر جائیگی۔؟
رانا ثناء اللہ:
 ہونا تو نہیں چاہیئے، لوگ بالکل مطمئن نہیں ہیں، اپنی زبان اور اعمال سے مسلسل اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ یہ انکے بس میں نہیں ہے، ملک چلانا۔ عوام بھی دیکھ رہے ہیں، آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ان سے چھٹکارا ملنا چاہیئے۔ یہ تو ایک سادہ سی بات ہے کہ جب حکومت پرفارم نہیں کر پاتی تو عوامی سطح پر بے چینی تو ہوتی ہے، پنجاب میں دیکھیں تو انہیں تنکوں کا سہارا ہے، اب تو نئی ترجمان بھی کہہ رہی ہیں کہ اپوزیشن رہنماؤں کو کرپٹ نہیں کہہ سکتے، ان پر کرپشن کے الزامات زیر سماعت ہیں، ثابت نہیں ہوا کہ وہ کرپشن میں ملوث ہیں، یہ بھی ایک کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، یہ بات عمران خان کے بیانات کے منافی ہے، کوئی بیانیہ تو ہے نہیں اس حکومت کا، جس سے کوئی اختلاف کرے، بس نعرہ تھا سب کے کرپٹ ہونے کا، سوائے ان لوگوں کے جو پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہو جاتے۔

اب آدھی سے زیادہ کابینہ میں اپوزیشن جماعتوں اور سابقہ حکومتوں میں شامل رہنے والے لوگ آگئے ہیں، حقیقت میں تو صرف ایک چہرہ ہی ہے، عمران خان کا جو باقی ہے، ورنہ حکومت تو ختم ہوگئی اور کیا ختم ہونی ہے۔ سب عوامی نمائندے ایک طرف کرکے غیر منتخب شدہ لوگوں کو لا کر بٹھا دیا گیا ہے، فیصلے وہ کرینگے، یہ مسلط شدہ نظام کی نئی سے نئی شکل سامنے آرہی ہے۔ پہلے ہی چند ووٹوں پہ کھڑی ہے حکومت، اب جن لوگوں کو کابینہ سے نکالا ہے، وہ بھی ناراض ہیں، اگر وہ چھوڑ جائیں تو کیا بچ جاتا ہے۔ پھر انہوں نے کوئی ریلیف نہیں دیا، لوگ دباؤ میں ہیں، کہیں سے آغاز کرنیکی ضرورت ہے، دھڑام سے گر جائیں گے، ایک ہلے کی ضرورت ہے، انکی بنیادیں ختم ہوچکی ہیں، اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کو خود مستعفی ہونا چاہیئے۔ یہ اصلاحات بھی نہیں لاسکے، چلیں اس سے لوگوں کو کچھ امید بندھتی ہے کہ اب نہیں تو کچھ عرصے بعد ہی حالات میں بہتری آئیگی، لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں کرسکے۔

اسلام ٹائمز: عام آدمی کی مشکلات اور ملکی اکانومی میں بہتری کیلئے حل کیا ہے، ان تبدیلیوں سے فرق نہیں پڑییگا۔؟
رانا ثناء اللہ:
 انہوں نے ہمیشہ یہ کہا ہے سابقہ حکومتوں نے پانچ پانچ سال لوٹا اور کھایا ہے، لیکن اسد عمر کے مقابلے میں اسحاق ڈار صاحب کو دیکھیں، انہوں نے آسانی سے اور بروقت فیصلے لیے، کابینہ میں پیش کیے جاتے تھے، انکی منظوری ہوتی تھی، عمل درآمد ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں اسد عمر وزیر خزانہ تھے، انکے ساتھ ایک ٹیم نتھی کی گئی تھی، جہانگیر ترین صاحب سے بھی مشورے لیے جاتے تھے، لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا، ان کا کسی چیز پر کبھی اتفاق ہی نہیں ہوا، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچتے رہے، لیکن ملک کی حالت خراب ہوگئی۔ انہوں نے ایک آیسے آدمی کو اکانومی دے دی تھی کہ جسے خود آزمانا چاہتے تھے، پھر اسے اندر سے مخالفت کا بھی زبردست سامنا تھا۔

تبدیلی کے خواہشمند جوگیوں نے اسد عمر کا نام لیکر جو پشین گوئیاں کی تھیں، ان میں سے تو کوئی پوری نہیں ہوئی، اب جو بظاہر تبدیلی لائی گئی ہے، اس میں کوئی پالیسی تو سامنے نہیں آئی کہ پہلے اس وجہ سے ناکامی ہوئی اور اب ہم یہ راستے اور طریقہ کار کو بدل کر دوسرا طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں، جس سے مشکلات سے نکل آئیں گے یا معیشت درست سمت میں چل پڑیگی، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، صرف ایک بندے کو ہٹا کر باہر سے دوسرے آدمی کو لا کر بٹھا دیا گیا ہے۔ اب بھی ان کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں ہے اور اس کی کیا ضمانت ہے کہ اب جہانگیر ترین گروپ اور رزاق داود جیسے لوگ نئے آنے والے مشیر خزانہ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دینگے۔ انہوں نے نہیں بتایا کہ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں کیسے نیچے لائیں گے، مہنگائی کیسے کم کرینگے، برآمدات کیسے بڑھائیں گے، روپے کی قدر کیسے بہتر کرینگے، ڈٹ ٹو جی ڈی پی کیسے کم کرینگے۔

سوائے اس کے کہ یہ پہلے کی طرح قرضے لیں گے، اس سے کوئی بہتری کی امید رکھنا ممکن نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ انہیں خود اپنے ہی مستقبل کا علم ہی نہیں، میں وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو متبادل مشیر خزانہ لایا گیا ہے، اسکا بھی عمران خان خو علم نہیں ہوگا۔ انکے سامنے پیمانہ ہی ایک تھا، جو لوگ انکو گارنٹی دیکر لائے تھے، وہ شروع میں ہی انکے ساتھ یہ طے کرکے آئے تھے کہ آپ صرف معیشت کو دیکھیں گے، باقی معاملات جیسے خارجہ پالیسی ہے یا داخلی طور پر سکیورٹی جیسے ایشوز ہیں وہ خود دیکھ لیں گے، صرف یہی ایک ٹاسک تھا، جو عمران خان اور جو لوگ انکے ساتھ جوڑے گئے تھے، وہ پورا نہیں کر سکے، اب ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، سب کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں، کسی کوکچھ سمجھ نہیں آ رہا، اب اس کٹھ پتلی حکومت سے معیشت بھی واپس لے لی گئی ہے۔ سوائے اس کے کہ وزیراعظم ہی تبدیل کر دیا جائے، اس کے بعد کچھ بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کے دورہ ایران کے متعلق ایک گروہ کا خیال ہے کہ سعودی عرب کیساتھ قریبی تعلقات کیوجہ سے انہیں ایران نہیں جانا چاہیئے تھا۔؟
رانا ثناء اللہ:
 یہ پاکستان کیخلاف ایک سازش ہوسکتی ہے، ایسے لوگ ملک کے دوست نہیں، یہ بھارتی موقف کو تقویت دینے والی بات ہے۔ میرے خیال میں یہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرنیوالے جذباتی اور سطحی سوچ رکھنے والے لوگوں کی رائے ہوسکتی ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، ہماری آپس میں کوئی دشمنی نہیں، ایران پاکستان کو غلط فہمیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے، یہ دونوں ملکون کے مفاد میں ہے۔ عین اسوقت جب وزیراعظم ایران جا رہے ہیں، وزیر خارجہ کو بھی عوام کو مخاطب کرکے ایران سے شکایت نہیں کرنا چاہیے تھی، اسی طرح کی شکایات ایران کو بھی ہیں، وہاں سے بھی ایسا انداز اختیار نہیں کیا جانا چاہیئے۔ دونوں ممالک کو چینلجز کا ملکر مقابلہ کرنا چاہیئے، صورتحال زیادہ اچھی نہیں، بہتری پیدا کرنے لیے تعلقات کو استوار کرنیکی ضرورت ہے، دونوں ممالک کے حکام کی آپس میں ملاقاتیں اور وزٹس اچھی چیز ہے، اس سے قربتیں بڑھتی ہیں اور دوریاں ختم ہوتی ہیں۔

بشکریہ :اسلام ٹائمز

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.