وزیرِ خزانہ بمقابلہ آرمی چیف: کون کتنا صحیح؟

(خرم حسین)

حال ہی میں آرمی چیف اور وزیرِ خزانہ کے درمیان الفاظ کا ایک غیر معمولی تبادلہ ہوا ہے۔ اِن دونوں کے الفاظ کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ سمجھا جاسکے کہ کس نے کیا کہا ہے، کیوں کہ اِس مسئلے پر زیادہ تر تبصروں میں بنیادی نکتے پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ 11 اکتوبر کو جنرل نے کراچی میں اپنے خطاب میں کیا کہا۔ انہوں نے تمہید باندھتے ہوئے کہا کہ ہمارے وقتوں میں، جب علاقائی خطرے بڑھ رہے ہیں اور تنازعات نئے چہرے اختیار کرتے جا رہے ہیں، تو “سلامتی ایک بار پھر ریاست کا اولین کام اور ذمہ داری بن چکی ہے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان اِس وقت “روٹی یا بندوق” کی بحث میں نہیں پڑسکتا کیوں کہ “ہم دنیا کے سب سے زیادہ عدم استحکام والے خطے میں رہتے ہیں اور ملک کی تشکیل سے لے کر اب تک کئی بحرانوں کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر گزشتہ 40 سالوں سے۔”

بھلے ہی اِن کے الفاظ میں “معیشت اور سلامتی کے درمیان توازن” کی بات کہی گئی تھی، مگر اِن کے خطاب کا بنیادی مقصد معیشت پر سلامتی کو حاصل ترجیح پر زور دینا تھا۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو، جب ریاست کے محدود مادی وسائل یعنی محصولات اور زرِ مبادلہ مختص کرنے کی بات آئی تو “توازن” تمام دیگر ترجیحات سے پہلے سلامتی کی طرف ہونا چاہیے۔

وزیرِ خزانہ نے 16 اکتوبر کی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج نے پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر تب سے جب جون 2014 میں آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرِستان تک پھیلایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے زور دیا کہ تمام مشکلات بشمول کولیشن سپورٹ فنڈ میں تیزی سے کمی کے باوجود “آپریشنز کے اخراجات ہیں اور ہم یہ اخراجات ادا کر رہے ہیں۔”

مگر انہوں نے ایک اور زاویے کا بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد حملوں میں کمی تو آئی ہے، مگر ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی آئی ہے۔ اِس سے اُن کی مراد اِس حقیقت پر روشنی ڈالنی تھی کہ سلامتی اور ترقی مشترکہ ترجیحات ہیں اور اِس طرح دونوں کا ہی ریاست کے وسائل پر یکساں حق ہے۔

چوں کہ خزانہ اور زرِمبادلہ پر مشتمل یہ مادی وسائل محدود ہیں اِس لیے دونوں ترجیحات والے فریقوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اُن کی ضروریات 100 فیصد پوری نہیں کی جاسکتیں۔ جب ’ریاست کے سب سے اہم کام اور ذمہ داری‘ کے تعین کی بات آئے گی تو سخت فیصلے لینے ہوں گے اور ہر کسی کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہوئے مسائل کے حل کی کوشش کرنی ہوگی۔

جنرل نے اپنے خطاب میں اِس دلیل کو سمجھنے کا تھوڑا اشارہ دیا، اور کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ الفاظ کا یہ تبادلہ 11 اکتوبر سے نہیں شروع ہوا بلکہ خفیہ میٹنگز میں سالوں سے جاری ہے۔ جب سے ملک کے اندر طرح طرح کے فوجی آپریشن، فوجی ساز و سامان کی اپ گریڈیشن اور سی پیک سیکیورٹی فورس کی تشکیل کا کام شروع ہوا ہے، تب سے فوج کو اپنے وسائل میں اضافے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے، خاص طور پر سی پیک فورس اِس سے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہے جتنا کہ ابتداء میں تخمینہ لگایا گیا تھا۔

11 اکتوبر کو جو چیز نئی ہوئی، وہ یہ کہ یہ بحث پہلی بار عوام میں آئی۔ مثال کے طور پر، یاد کریں کہ وزیرِ خزانہ ایک “غیر معمولی دفاعی خرچے” کی بات کر رہے تھے جسے پورا کرنا ضروری تھا، اور جس کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام میں متعین بجٹ خسارے کی حد میں نرمی کی ضرورت تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اِس “ایک دفعہ کے خرچے” کا سائز 140 ارب روپے بتایا۔

مگر یہ خرچہ ایک بار کا نہیں بلکہ معمول کا خرچہ تھا۔ یہ دفاعی بجٹ میں شامل نہی ہے اِس لیے جو تجزیہ کار دفاعی بجٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ دفاعی بجٹ تو سالوں میں تبدیل نہیں ہوا، وہ ہم سب کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اِس طرح کے کئی خرچے ضمنی گرانٹس اور دیگر بجٹ آپریشنز کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔

جنرل باجوہ نے ظاہر کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کے وسائل محدود ہیں۔ “اگر میں سیاستدان یا ماہرِ اقتصادیات ہوتا تو میں کہتا کہ یہ وقت ہے کہ ہمیں اپنی اقتصادی ترقی اور نشونما کو سب سے بلند ترجیح پر رکھنا چاہیے” جس کے بعد انہوں نے کہا کہ معیشت قومی سلامتی کونسل کی تمام بحثوں کے ایجنڈوں میں سب سے پہلا نکتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے ٹیکس بیس بڑھانے اور “معیشت میں نظم و ضبط” لانے کو اہم اقتصادی ترجیحات قرار دیا۔ “پاکستان ٹیکس اصلاحات، معیشت کا ریکارڈ رکھنے، برآمدات میں اضافے اور بچت کے ذریعے خزانے کو اتنا مضبوط بناسکتا ہے کہ آبادی میں اضافے سے زیادہ ترقی حاصل کرسکے۔”

ترجمہ: اگر ریاست کے وسائل محدود ہیں تو وسائل بڑھانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اور یہ وہ چیز ہے جو انہیں ضرور کرنی ہوگی۔ خاص طور پر اِس لیے کیوں کہ جیسا کہ جنرل باجوہ نے کہا، “آج کے دور میں سلامتی و دفاع سستا نہیں ہے۔”

بار بار انہوں نے سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا مستقبل “صرف ایک لفظ پر ٹکا ہوا ہے، ‘سلامتی’” اور “اگر ہمیں پائیدار ترقی چاہیے تو ہمیں ملک میں امن و امان کو یقینی بنانا ہوگا۔”

وزیرِ خزانہ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وسائل میں اضافے کے لیے بہت کچھ کیا گیا ہے۔ انہوں نے 2013 سے اب تک محصولات کے اعداد و شمار دیے، تب سے اب کے معاشی شرحِ نمو کا موازنہ پیش کیا اور توانائی کے شعبے اور ہائی ویز کے لیے شروع کیے گئے کئی منصوبوں کو اپنی حکومت کی وسائل بڑھانے کی کوششوں کے طور پر پیش کیا۔

ڈار اِس وقت سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مزید مالیاتی اور زرِمبادلہ کے وسائل مختص کرنے کے مطالبات کے شدید دباؤ میں ہیں اور اُنہیں اِن مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اِس وقت وہ بیک فُٹ پر ہیں کیوں کہ اُن کے استعفے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ رائے عامہ اُن کے خلاف ہے۔ مگر وہ اب بھی اپنے نکتے پر قائم ہیں کہ ریاست کے محدود وسائل کو سلامتی اور ترقی، دونوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔

جو لوگ انہیں اُن کی مشکلات کے لیے طعنے دے رہے ہیں، اور جو کابینہ اراکین اُن کی شخصیت کی وجہ سے خود کو اُن سے دور کرنے کے لیے بے تاب ہیں، اُنہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگلے وزیرِ خزانہ کو بھی اِسی بحث میں پڑنا ہوگا جو کہ دہائیوں پرانی ہے اور ہماری سول ملٹری فالٹ لائن کا مرکزی حصہ ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful