وکلاء تنظیموں کا آئینی حقوق کیلئے باضابطہ تحریک چلانے کا اعلان

 

گلگت ::::) گلگت بلتستان کے اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ کے تمام تنظیموں نے مشترکہ طورپر آئینی حقوق کیلئے باضابطہ تحریک چلانے کا اعلان کردیاہے اس مقصد کیلئے اٹھارہ رکنی ایکشن کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو کہ آئینی حقوق کی تحریک کیلئے لائحہ عمل طے کریگی ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز وائس چیئرمین گلگت بلتستان بار کونسل شہباز خان ایڈووکیٹ ، ہائی کورٹ بار کے صدر اور نمائندگان نے دو روز کنونشن کے اختتام پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے دو روزہ کنونشن کا جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا ،وکلا کنونشن کے اعلامیہ کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیڈریشن آف پاکستان بلا تاخیر گلگت بلتستان کو تافیصلہ تنازعہ کشمیر پاکستان کا عبوری صوبہ بنائے بصورت دیگر ایک آئین اور دستور کے تحفظ کیساتھ کم از کم آزادکشمیر یا پھر مقبوضہ جموں کشمیر جیسانظام حکومت دیاجائے کیونکہ گلگت بلتستان کا خطہ بین الاقوامی طورپر متنازعہ ہے یہاں کے عوام متنازعہ نہیں عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے ،گلگت بلتستان کے اس حساس ترین خطہ میں وزارت امور کشمیر گلگت بلتستان اسلام آباد کے مسلط کردہ نوآبادتی نظام کے تسلسل کی شدیدی الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اس خطہ میں رائج نظام حکومت و عدل کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر UNCIPکی تنازعہ کشمیر سے متعلق قراردادوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے 99ء میں الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق پاکستان میں دئیے گئے فیصلہ اور احکامات کی روشنی میں حق حکمرانی ، حق ملکیت اور آزاد عدالیہ کے قیام کو یقینی بنایاجائے ،انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا بغیر کسی بیرونی امداد کے لڑی جانیوالی جنگ آزادی اور اس کے نتیجہ میں یکم نومبر 47ء میں قائم ہونیوالی اسلامی جمہوریہ گلگت بلتستان کی ریاست کی انقلابی حکومت کا پاکستان سے غیر مشروط الحاق کو 68سال گزر جانے کے باوجود اس الحاق کو تسلیم اور منظور کرنے سے گریز اور گلگت بلتستان کے اس اہم ترین خطہ کو مسئلہ کشمیر سے منسلک اور متنازعہ قرار دیکر خود پاکستان کے اس خطے سے وابستہ مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے اور یہاں کے عوام کو آئینی اور جمہوری حقوق سے مسلسل محروم رکھکر درحقیقت گلگت بلتستان کی جنگ آزادی ،معرکہ کارگل اور سوات ،وزیر ستان میں ضرب عضب میں پاکستان کے تحفظ و بقا کی جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے اور نشان حیدر پانیوالے گلگت بلتستان کے شہدا کی قربانیوں اور اس خطہ کے عوام کی پاکستان سے وفاداری اور وابستگی کی انتہائی توہین و تذلیل ہے پرہجوم پر یس کانفرنس میں وکلا نے کہا کہ گلگت بلتستان کا یہ خطہ بلاشبہ دفاعی ،اقتصادی ،جغرافیائی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے اور سٹریٹیجک اثاثہ ہونے کے باوصف اور بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود اس خطے کے ایک مفتوحہ علاقہ اور کالونی اور پاکستان کی معیشت پو بوج سمجھنے کی اسلام آباد کے حکمرانوں کی منفی سوچ اور مسئلہ کشمیر کی آڑ لیکر گگلت بلتستان کے عوام کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے 47ء سے ہی FCRجیسے کالے قوانین کا نفاذ لیگل فریم ورک آرڈر ،گورنس آرڈر 94ء اور گگلت بلتستان گوررننس آرڈر 2009ء جیسے وزارت امور کشمیر کے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ گلگت بلتستان کے عوام کو محکوم اور غلام اور ابتک تیسرے درجہ کے شہری رکھنے کی وفاق کی پالیسی نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ حیران کن اور پریشان کن ہے کیونکہ اس طرز سلوک کے نتیجہ میں اس خطے میں پاکستان سے دوری کے اسباب پیدا ہونے کے علاوہ علیٰحدگی پسند رجحانات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے مزید یہ کہ فیڈریشن آف پاکستان کی سیاسی حکومتوں کی اس خطہ کی بابت چشم پوشی ،بے حسی ،غفلت اور وفاقی افسر شاہی کی آمرانہ روش اور اس خطہ کو اپنی نو آبادی سمجھ کر یہاں کے عوام کو آئینی و جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کی مذموم پالیسی اس خطہ میں شدید مایوسی بے چینی اور ہیجان کا باعث بنی ہے لہٰذا اس صورتحال میں گلگت بلتستان کے وکلا پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سنگین صورتحال کے عواقب اور نتائج کا ادراک کرینگے اور اس معاملہ پر بالکل اسی طرح فوری اور سنجیدہ نوٹس لینگے ،جس طرح امریکن لوگر ترمیم کے معاملہ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا گیا تھا بالکل اسی طرح گلگت بلتستان کے معاملات میں فوری مداخلت کرتے ہوئے یہاں کے عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے طوفان ،بے چینی اور شدید ترین احساس محرومی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سیاسی حکومت اور وفاقی سول بیورورکریسی کو مجبور کیاجائے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے احساسات اور خواہشات کے مطابق بلا تاخیر اور جمہوری حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے ، وکلا رہنماؤں نے کہا کہ وزارت امور کشمیر و جی بی اسلام آباد کے ابتک کے جملہ اقدامات بشمول پاکستان میں مروج قوانین کا گلگت بلتستان میں اپنے ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعہ اطلاق اور لیگل فریم ورک آرڈر LFOاور گورننس آرڈرز کے انتظامی احکامات کے ذریعہ گلگت بلتستان پر ریموٹ کنٹرول حکمرانی نہ صر ف غیر قانونی ،بلاجواز اور بلااختیار ہے بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 90اور 91کے تحت جاری و نافذ کردہ رولز آف برنس 73ء کے انٹری نمبر 19کی بھی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے کیونکہ اس رول کے تحت وزارت امورکشمیر و جی بی اسلام آباد ،گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی بابت قانون سازی کا کوئی بھی اختیار نہیں رکھتی اور اسے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں بھی دخل اندازی کا کوئی اختیار حاصل نہیں لہٰذا وزارت امور کشمیر و جی بی اسلام آباد کے انتظامی احکامات کے ذریعہ قائم کئے گئے اداروں اور ان اداروں کے جملہ اقدامات کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، گلگت بلتستان ایم پاورمنٹ اینڈسیلف گورننس آرڈر 2009ء جو کہ نہ تو قانون کا درجہ رکھتا ہے اور نہ ہی آئین بلکہ وزارت امور کشمیر اسلام آباد کاتدوین کردہ اور اور نافذ کردہ SRO786(1)2009کی صورت میں محض ایک نوٹیفکیشن ہے جو کہ اس کے نام کے اعتبا ر سے دنیا بھر کے لئے ایک دھوکہ اور پاکستانی عوام اورعدلیہ کے لئے مس گائیڈنگ انسٹرومنٹ ہے کیونکہ یہ گورننس آرڈر درحقیقت گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں اور عوام کوباختیار بنانے کے بجائے صرف اورصرف وزارت امورکشمیر اسلام آباد اور اس کے ذیلی ادارہ گلگت بلتستان کونسل کو بااختیار بناتا ہے گورننس آرڈر 2009کی یہ دستاویزات وزارت امور کشمیر کے سرکاری افسروں کی مرتب کردہ اورنافذ کردہ ایک ایسا ایگزیکٹو آرڈر ہے جس میں اس دستاویز کی ترمیم کا بنیادی اور کلیدی اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے جملہ اختیارات بھی اپنے پاس رکھ کر گلگت بلتستان کی منتخب قانون سازاسمبلی اوراس کے

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful