تازہ ترین

ٹرمپ دوست ہیں،ان کا بیان غلط فہمی پر مبنی ہے، سعودی ولی عہد

—فوٹو:بشکریہ بلومبرگ

—فوٹو:بشکریہ بلومبرگ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شاہ سلمان کے حوالے سے دھمکی آمیز بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی دوست اگر اچھی یا بُری بات کرے تو قبول کرنا پڑتا ہے۔

امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ‘کوئی دوست اچھی بات کرے یا بری بات کرے آپ کو قبول کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایسا ہرگز نہیں کہ آپ کے تمام دوست صرف اچھی باتیں کرتے ہوں’۔

ٹرمپ کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ اپنے خاندان کے بارے میں بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ سب آپ کے حوالے سے اچھی رائے رکھتے ہوں، آپ کو غلط فہمی ہوسکتی ہے اور ہم اس بات کو اسی کٹیگری میں رکھتے ہیں’۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت امریکا کی فوج کی مدد کے بغیر 2 ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔

امریکی ریاست مسیسیپی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکا سے سوال کیا کہ ’ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں، کیا اب بھی آپ کہیں گے کہ وہ امیر ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں شاہ سلمان سے محبت کرتا ہوں، اور میں نے ان سے کہا تھا کہ ہم آپ کی حفاظت کرتے ہیں، ہماری مدد کے بغیر آپ کی حکومت 2 ہفتے بھی نہیں چل سکتی، آپ کو اپنی فوج کے لیے ادائیگی کرنا ہوگی‘۔

سعودی ولی عہد نے انٹرویو کے دوران کینیڈا اور ترکی سمیت دیگر ممالک کے ساتھ معاملات پر بھی بات کی۔

محمد بن سلمان سے جب پوچھا گیا کہ امریکا کی طرح جرمنی اور کینیڈا بھی دوست تھے اور وہ ان سے کم تکبر تھے تو انہوں نے کہا کہ ‘یہ بالکل مختلف ہے، کینیڈا نے سعودی عرب کو اندرونی معاملات میں حکم دیا اور انہیں سعودی عرب کے بارے میں رائے دوسرے ممالک کی طرح نہیں رکھنی چاہیے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ یہ بالکل مختلف معاملہ ہے کیونکہ ٹرمپ امریکا کے اندر کسی معاملے میں اپنے لوگوں سے مخاطب تھے’۔

سیکیورٹی اخراجات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘درحقیقت ہمیں سیکیورٹی پر کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ ہم امریکا سے جتنا بھی اسلحہ لیتے ہیں اس کی ادائیگی کرتے ہیں’۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب سے سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات قائم ہوئے ہیں ہم نے ہر چیز مفت نہیں بلکہ پیسوں سے خریدی ہے۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ جب ٹرمپ صدر بنے تو ہم نے اگلے 10 سال کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی، جو سعودی عرب اور امریکا دونوں کے فائدے میں ہے اور اس سے سیکیورٹی صورتحال بھی بہتر ہوگی۔

ترکی میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور وہ سعودی شہری ہیں اس لیے ترک حکومت سے اس معاملے پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔

جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے میں سعودی عرب کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق وہ سعودی سفارت خانے میں آئے تھے لیکن واپس چلے گئے، میں اس بارے میں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا تاہم وزارت خارجہ کے ذریعے ہم اصل واقعے کی تفتیش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ترک حکام ہماری حدود میں انہیں تلاش کرنا چاہتے ہیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ ہم بھی جمال خشوگی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ممتاز سعودی صحافی جمال خشوگی 3 روز قبل استنبول میں قائم سعودی سفارت خانے کے دورے پر گئے اور اس دوران وہ لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

بلومبرگ کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق ایک اور سوال پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہمیں امریکی صدر کے ساتھ کام کرکے بہت خوشی ہوتی ہے، ہم نے نہایت مختصر وقت میں مشرق وسطیٰ اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کے دوران امریکا کی مدد سے ہم نے مشرق وسطیٰ اور خصوصی طور پر عراق میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو کمزور اور ان کے مؤقف کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم مشرق وسطیٰ میں شدت پشندی، دہشت گردی اور ایران کے منفی اقدامات سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کررہے ہیں۔

About یاور عباس

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful