ٹرمپ کے بیان پر ایرانی وزیرخارجہ کا ردعمل

ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے کئی سال قبل ہی یہ فتوی جاری کردیا تھا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا یا رکھنا حرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے کئی سال قبل ایٹمی ہتھیار بنانے کو حرام قرار دینے کا فتوی جاری کرکے اعلان کیا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ ٹیم بی یعنی بولٹن، اسرائیلی وزیراعظم  بنیامین نتنیاہو، سعودی ولیعہد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے ولیعہد بن زائد پر مشتمل ٹیم بی  کی اقتصادی دہشت گردی ایرانی عوام کو نشانہ بنائے ہوئے ہے اور علاقے میں کشید گی کو ہوا دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات نہیں بلکہ ان کے اقدامات اس بات کو ثابت کریں گے ان کا مقصد یہی ہے یا کچھ اور ہے؟

پیرس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے بھی کہا ہے کہ ایران کی دفاعی پالیسی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کبھی کوئی جگہ نہیں رہی ہے۔ پیرس میں ایران کے سفیر بہرام قاسمی نے فرانسیسی سینیٹ میں خلیج فارس میں کشیدگی کو کم کرنے کے زیرعنوان ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی ایران کی دفاعی پالیسی میں کبھی کوئی جگہ نہیں رہی ہے اور اس بات پر جہاں رہبرانقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق عمل ہورہا ہے وہیں ایٹمی معاہدے کے تحت بھی ایران اپنے وعدوں پر کاربند ہے جس کی تصدیق آئی اے ای اے نے اپنی چودہ رپورٹوں میں بھی کی ہے اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہ تو ماضی میں کی تھی اور نہ اب کر رہا ہے۔

پیرس میں ایرانی سفیر نے کہا کہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادہ جس پر ایٹمی معاہدے میں بھی زور دیا گیا ہے ایران کا مسلمہ حق ہے اور یہ  پوری طرح ایک شفاف موضوع ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو ٹوکیو میں جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے کے مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ایران کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی تکرار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا واحد مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی سے روکنا ہے۔ ٹرمپ نے ساتھ ہی اپنے مضحکہ خیز دعوے میں یہ بھی کہا کہ وہ ایران کو اقتصادی اعتبار سے خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ دعوی ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایٹمی توانائی کی عالمی تنظیم آئی اے ای اے نے بارہا اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کیا ہے۔

About VOM

وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔