سری لنکا کے ایسٹر بم حملے دولت اسلامیہ کی شکست کا بدلہ ہیں: ابو بکر البغدادی

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما قرار دیے جانے والے ابوبکر البغدادی کی پانچ سال بعد ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ اپنی ریاست چھن جانے کا بدلہ لینے کا کہہ رہے ہیں۔

ابوبکر البغدادی کو سنہ 2014 کے بعد سے دیکھا نہیں گیا جب انھوں نے شام اور عراق کے علاقوں پر مشتمل موصل سے خلافت کا اعلان کیا تھا۔

اس تازہ ویڈیو میں وہ اپنے آخری گڑھ باغز میں شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اپریل کی ہے۔

یہ فوٹیج گروپ کے الفرقان میڈیا گروپ پر شائع کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بغدادی کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ سری لنکا میں ایسٹر کے روز ہونے والے حملے باغوز میں ہونے والی ان کی شکست کا بدلہ تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ برکینا فاسو اور مالی میں ان کے شدت پسند تنظیموں سے اتحاد ہو چکا ہے اس کے علاوہ انھوں نے سوڈان اور الجیریا میں ہونے والے مظاہروں کی بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ظالموں‘ کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے جہاد۔ یاد رہے کہ ان دونوں ممالک میں طویل عرصے میں موجود حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کیا گیا ہے۔

اگرچہ ویڈیو کے آخر میں بغدادی کی تصویر منظر سے غائب ہو گئی اور صرف آواز سنائی دی جس میں وہ سری لنکا کے حملوں کے بارے میں بات کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ حصہ باقی کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد اس میں شامل کیا گیا۔

Baghdadi addressing crowd in Mosul, 2014تصویر کے کاپی رائٹAFP
بغدادی کو سنہ 2014 کے دیکھا نہیں گیا تھا

ابو بکر البغدادی ایک عراقی ہیں جن کا اصلی نام ابراہیم اوواد ابراہیم البدری ہے۔ ان کی آواز آخری مرتبہ اگست میں سنائی دی گئی تھی۔

بی بی سی کے مشرق وسطی کے نامہ نگار مارٹن پیشنز کے مطابق اس وقت وہ اپنی گروہ کی شکست سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن اس تازہ 18 منٹ کی ویڈیو میں انھوں نے شکست کے بارے میں بات کی۔

ان کا کہنا تھا ’باغوز کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔ لیکن اس جنگ کے بعد بہت سے جنگیں آئی گی۔‘

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.