پاکستان ایران کے خلاف کسی بھی طرح کہ جارحیت کی حمایت نہیں کرے گا

سلام آباد:امریکہ کا ایران کیخلاف جارحیت کا خدشہ، جنگ کی صورت میں پاکستان کس ملک کا ساتھ دے گا ؟ پاکستان نے غیر متوقع اعلان کردیا ۔۔۔وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی بھی طرح کہ جارحیت کی حمایت نہیں کرے گا۔جب کہ اننہوں نے ہمسایہ ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پر زور دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق علی زیدی کا پاک ایران تعلقات؛ چیلنجز اور امکانات کے نام سے منعقد ہونے والے سیمنار کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کاروائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے دورہ تہران کے دوران ایرانی لیڈر شپ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان دوری کو ختم کیا۔انہوں نے کہا عمران خان کا یہ دورہ بہت مثبت رہا۔دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑی برف پگھلی اور بہتر تعلقات کی نئی بنیاد رکھی گئی۔ اور اسی بنیاد پر ہمیں اپنے تعلقات استوار کرنا ہے۔علی زیدی نے ایران پر امریکی پابندی کے باجود دنیا کے چند ممالک کی تہران کے ساتھ جاری تجارت کا حوالہ دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ پاکستان کو بھی اپنے مفادات بالاتر چاہئیں اور تہران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو پورا کرنا چاہئیے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بینگنگ نہ ہونے کی وجہ سے تعلقات کو بہتر کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تاہم ایک طریقہ کار وضع کرنے سے متعلق بات چیت جاری ہے تاکہ دو طرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستان کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے تیل و گیس فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی تھی۔ ایرانی صدر نے اعلان کیا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت ایران پاکستان کی سرحد تک اپنے حصے کی پائپ لائن تعمیر کر چکا ہے۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.