پریوں کی مسکن وادی نگر کے مکین پینے کے صاف پانی سے محروم

نگر (اقبال راجوا) پایاصاف پانی میں ندی کا پانی ملانے سے عوام بد ہضمی،پیچس اور معدے کی دیگر مختلف بیماریاں پیدا ہونے لگیں ،ٹاؤن ایریاء کی ہزاروں آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ۔زرایع کے مطابق ٹاؤن ایریاء کو فایا چشمے کے صاف پانی فراہمی منصوبے میں واٹر سپلائی ملازمین نے پانی کی کمی کا بہانہ بنا کر ،چھلت بالا،سونیکوٹ،اکبر آباد او ر رابٹ پائین کی ہزاروں آبادی کو صاف و شفاف پانی منصوبے میں نالے کے گدھلے پنی کو شامل کیا جس سے پانی کی شفافیت ختم ہو گئی اور پانی میں نالے کے گدلے پانی کی ملاوٹیں شامل ہو گئی ہیں ۔ علاقے کی عوام نے اپنے علاقوں کی تنظیمات کی اہم اجلاس بلا کر اس معاملے کو ایگزیکٹیو انجینئیر نگر او ر ڈپٹی کمشنر نگر کے پاس اٹھائی جائے گی۔ علاقے کی تنظیمات کے نمائندوں نے پانی میں ملاوٹ کو واٹر سپلائی ملازمیں کی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملازمین فایا چشمے کے صاف پانی کو کنٹرول کر کے نلکے میں پہنچانے کے بجائے نالے کے گدلے پانی کو پائیپ میں ڈال دیا ہے جس باعث عوام میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فایا واٹر سپلائی پر مامور تمام ملازمین کو ایک سٹور بنا کر پانی کی مقدار کو برابر رکھنے کے لئے استعمال ہونے والے اوزار او ر سامان رکھوائے تا کہ ملازمین کو سامان نہ ہونے کا بہانہ بنانا نہ بنانا پڑے۔ ٹاؤن ایریاء کی ان تنظیمات کے عہدیدارن نے بعد از آں ایگیزیکٹیو انجینئیر نگر اقبال حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔ایگزیکٹو انجینئیر نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کے حل کے لئے آر ای کو ہدایات دیں ہیں ۔

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.