پیغام پاکستان نامی بیانیہ دراصل دہشتگردوں کے حامیوں کو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے، مفتی راغب نعیمی

علامہ راغب حسین نعیمی جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلٰی اور شہیدِ پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے فرزند ہیں۔ علامہ صاحب 12 اکتوبر 1973ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ایف اے تک تعلیم پرائیویٹ طور پر حاصل کی، اسکے بعد گورنمنٹ کالج لاہور (جی سی یونیورسٹی) سے گریجوایشن کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے اکنامکس، عربی اور اسلامیات میں ایم اے کیا۔ ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ جامعہ نعیمیہ سے دینی تعلیم بھی مکمل کی اور آٹھ سالہ درس نظامی یہیں سے مکمل کیا۔ اتحاد بین المسلمین کیلئے سرگرم ہیں۔ مختلف ممالک کے دورہ جات بھی کرچکے ہیں۔ سیاسی معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

: پیغام پاکستان بیانیہ سے مطئمین ہیں، اس میں تکفیر کا علاج تو کہیں نہیں ڈھونڈا گیا۔ اس ساری پریکٹس کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 میں اس بیانیہ سے پہلے اس بیانیے کی بات کرتا ہوں، جس میں نیکٹا کا اہم رول تھا اور گذشتہ تین سال سے اس پر کام کر رہا تھا، اچھا ہوتا کہ اسے سامنے لایا جاتا۔ نیکٹا کے زیراہتمام ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا، جس میں آٹھ مختلف گروپوں نے کام شروع کیا، ان آٹھ گروپس میں سے ایک مذہبی گروپ بھی شامل تھا، جس میں وفاق کی پانچوں تنظیمات شامل تھیں، یہ بیانیہ دراصل پانچوں وفاق کے سربراہان نے تیار کیا تھا۔ کچھ ترامیم کے بعد یہ بیانیہ نیکٹا کے حوالے کر دیا گیا اور نیکٹا نے بڑی عرق ریزی کے بعد آٹھوں گروپوں کے بیانیہ کو ملاکر ایک مشترکہ بیانیہ ترتیب دیا، جو بہت ہی محنت کے بعد ہوا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ نیکٹا نے جو بیانیہ تیار کیا تھا، اسے سامنے کیوں نہ لایا گیا؟، نیکٹا کے کردار کو اسلامی یونیورسٹی کی جانب منتقل کر دیا گیا، اس یونیورسٹی کے ایک خاص شعبے نے اس پر کام کیا۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ آٹھ سو یا ایک ہزار افراد جن کے نام درج دہشتگردوں کی لسٹ میں شامل ہیں، انہیں چک تو کریں کہ اکثریت کا تعلق کس مسلک سے ہے۔؟ آپ ان کا مسلک چک کریں گے تو آپ پر حقیقت کھل جائے گی اور اصل معاملے کا پتہ چل جائیگا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ کس طریقے سے وہ افراد جو پہلے دہشتگردی کی جنگ میں شریک رہے یا دہشتگردوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے، انہیں کلئیر کر دیا گیا۔ آپ یہ اندازہ لگائیں کہ حکومت کے اس بیانیہ کو وہ قبولیت حاصل نہیں ہوئی، جو ماضی میں انفرادی فتووں کو قبولیت حاصل ہوتی تھی۔ یہ بہت اہم چیز ہے کہ تقریباً 18 سو سے زائد افراد نے ملکر بیانیے پر دستخط کئے اور ان کے سامنے یہ بیانیہ پیش کیا گیا لیکن اس کو قبولیت نہیں ہوئی۔

 آپکی دانست میں کیا چیز مس ہوئی ہے، جسکی وجہ سے حکومت کے بیانیہ کو قبولیت نہیں ہوئی۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ وہ افراد جو دہشتگردوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے تھے، وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، اس بیانیے کا بنیادی مقصد ایسے لوگوں کو کلئیر کروانا ہے، ایک لحاظ سے انہیں کلین چٹ دیدی گئی ہے، انہیں ہر جرم سے کلئیر کروا دیا گیا ہے، اب تکفیر کا لبیل نئی آموز جماعتوں (تحریک لبیک یارسول) پر چسپاں کیا جا رہا ہے، اس میں ان کا اپنا عمل دخل بھی ہے، وہ طبقہ جو اپنے اعتدال کی وجہ سے پاکستان میں تمام مسالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اب ایسی گیم چل رہی ہے کہ اس معتدل طبقے کو پہلے شدت پسند اور پھر دہشتگرد ڈکلئیرڈ کروایا جائیگا۔

اسلام ٹائمز: آپکو تعجب نہیں ہو رہا کہ جو دہشتگردی میں ملوث رہے، انہیں کلئیر کروایا جا رہا ہے اور جو معتدل تھے، انہیں دہشتگرد ڈکلیئرڈ کروایا جا رہا ہے۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 جی بالکل، میں یہی سمجھتا ہوں کہ ایک سسٹم ایسا بنایا جا رہا ہے، جس کا رزلٹ یہی نکلے گا، جو میں نے بتا دیا ہے، میں اس کے پیچھے مقاصد تو نہیں جانتا، لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ نادیدہ طاقتیں اس طبقے کو استعمال میں لا رہی ہیں۔ میں فیض آباد دھرنے کے حوالے سے بات کر رہا ہوں۔

اس عمل سے ایک پورا مکتب بدنام ہو رہا ہے تو اس مکتب کے صاحب سند علماء کو کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ اس دھبے سے بچا جا سکے۔؟
علامہ راغب نعیمی:
 جی اس مکتب کے صاحب سند لوگ خود مل گئے ہیں، فیس سیونگ کے چکر میں وہ خود اس میں شامل ہوگئے ہیں، وہ کیا اس حوالے سے کام کریں گے۔؟ ایک بہت ہی بڑے مکتب اہل سنت کے مفتی ان (خادم رضوی) کے بارے میں چار کالم لکھ کر توثیق کر رہے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے۔؟ اب بھلے یہ فیس سیویگ ہے یا کسی کے کہنے پر ایسا کیا گیا ہے۔

جن لوگوں نے اپنے اسٹینڈ بہت ہائی رکھے تھے، پھر وہ شہباز شریف کی ایک ملاقات پر ڈھیر ہوگئے، اسکی کیا وجہ نظر آتی ہے۔؟
علامہ راغب نعیمی:
 میں سمجھتا ہوں کہ سب manipulate ہوئے ہیں، یا انہیں کوئی manipulate کر رہا ہے یا کوئی انہیں رام کر رہا ہے، اس سے اہل مذہب کا بہت نقصان ہوا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب اہل مذہب کی سیاسی بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔
آپ پر الزام ہے کہ آپ نواز شریف کے قریب ہیں، اس لئے خاموش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ (ن) لیگ کیساتھ شروع سے کھڑے ہیں، اس لئے موقف بیان نہیں کرتے۔؟
علامہ راغب نعیمی:
 دیکھیں، ایک بات بہت واضح کر دوں کہ ہمارا نون لیگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، بنیادی طور پر ہمارا شریف خاندان کے ساتھ تعلق رہا ہے، جامعہ نعیمیہ کی بنیادوں میں شریف خاندان کا اہم کردار ہے، جب جامعہ نعیمیہ کی پہلی کمیٹی بنی تھی تو میاں عبدالعزیز اس کمیٹی کے رکن تھے، میاں عبدالعزیز نواز شریف صاحب کے تایا جی تھے، یہ ادارہ ان بزرگوں کی کوششوں اور محنتوں کا نتیجہ ہے، یہ تعلق عقیدت اور شاگردی کا ہے۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ یہ تعلق آج تک نبھائے چلے آ رہے ہیں۔ مجھے بتائیں کہ نواز شریف صاحب وزیراعظم ہوتے ہوئے کتنے مدرسوں میں جاتے رہے ہیں؟، اگر وہ جامعہ نعیمیہ میں آتے ہیں تو اس کا تعلق وہ عقیدت ہے، جو برسوں سے چلی آرہی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس ادارے کا شاگرد سمجھتے ہیں۔ جتنا بھی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ بےبنیاد ہے۔

نواز شریف پر آپکے ادارے میں آپکے سامنے جوتا پھینکا گیا، آپ اسے سازش قرار دینگے یا وہ احباب جنہوں نے یہ حرکت کی، وہ کسی پروپیگنڈے کا شکار ہوئے ہیں۔ خاص طور پر جو صورتحال فیض آباد دھرنے کے بعد بنی۔؟
علامہ راغب نعیمی:
 میں سمجھتا ہوں کہ وہ پروپیگنڈے کا شکار ہوئے ہیں، میں اسمبلی میں ہونے والی تمام چیزوں کو حوالے سے کلئیر ہوں، میں اس حوالے سے بھی کلئیر ہوں کہ کس طرح ان معاملات کو سیاسی رنگ دیکھ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسمبلی میں نہ تو عقیدہ ختم نبوت یعینی آرٹیکل 298 کو چھیڑا گیا، نہ ہی قانون امتناع قادیانیت کو چھیڑا گیا۔ اس قانون کو کسی نے نہیں چھیڑا اور نہ ہی کوئی چھیڑ سکتا ہے، اگر کوئی چھیڑے گا تو ہم بیٹھے ہیں۔ بات ہے حلف نامے میں تبدیلی اور قومی اسمبلی کے سجدہ سہو کی، حلف نامے میں تبدیلی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے 34 ارکان موجود تھے، میں پوچھتا ہوں کہ فقط کیوں ایک جماعت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا جبکہ اس میں تو تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے اور اتفاق رائے سے اس کو منظور کیا گیا، سوال یہ ہے کہ فقط ایک ہی جماعت کو کیوں نشانہ بنایا گیا، حالانکہ باقی جماعتیں بھی شامل تھیں۔

 اہل سنت جماعتوں کا اتحاد بھی سامنے آرہا ہے، کئی اور جماعتیں بھی مسلک کی چھاپ کیساتھ الیکشن میں نظر آ رہی ہیں، کیا آپ اس میں خیر کا کوئی پہلو دیکھ رہے ہیں۔؟
مفتی راغب نعیمی: 
دیکھیں ایک وقت تھا کہ ہم بھی مذہبی نرگسیت کا شکار تھے۔ لیکن اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا، ورنہ مذہب کی بنیاد پر ہونے والی سیاست مزید تفریق کا باعث بنے گی، جب مذہب کی نام پر سیاست کی جاتی ہے تو اس بنیاد پر تکفیر کی بنیاد بھی رکھ دی جاتی ہے، ماضی میں ایسا ہوا ہے، آپ دیکھیں کہ جب بھٹو کے خلاف تحریک چلی تھی تو وہ تکفیر کی بنیاد پر ہی چلی تھی، اس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو ہوا۔ بھٹو کے ساتھ جو ہوا، اسے عدالتی قتل کہتے ہیں۔ اس میں اہل مذہب نے ماحول بنایا اور آج بھی اسی منظر کو آئندہ آنے والے الیکشن میں دیکھ سکتے ہیں، جس میں مذہب کو بےدردی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ فقط ایک سیاسی جماعت کے سیاسی قتل کیلئے۔

 مذہب کو سیاست سے جدا کرنا، اس نتیجے پر کیسے پہنچے ہیں۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 دیکھیں چیزیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں، انسان اپنے تجربات، مطالعات اور مشاہدات کے ساتھ اپنی سوچ اور رائے کو بدلتا رہتا ہے۔ پاکستانی آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل کا وجود اہل مذہب کیلئے ایک بڑی نعمت ہے، بجائے یہ کہ اہل مذہب اسمبلی میں ٹھوکریں کھا کر پہنچیں۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل میں آکر قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کیا اسلامی نظریاتی کونسل میں انتخاب کا طریقہ کار ٹھیک ہے۔؟
مفتی راغب نعیمی: 
دیکھیں اس بار جو اسلامی نظریاتی کونسل بنی ہے، وہ اچھی کونسل بنی ہے اور پہلے سے بہتر لوگ آئے ہیں، رکنیت کی ضروریات پر کوئی کمپرمائز نہیں کرنا چاہیئے۔

آئندہ الیکشن کس طرح دیکھ رہے ہیں۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 آئندہ Hung Parliament دیکھ رہا ہوں، آپ سینیٹ الیکشن دیکھ لیں کہ عددی اکثریت والی جماعت اپنا چیئرمین سینیٹ نہ بنوا سکی، آپ دیکھیں کہ کس طرح سے جمہوریت کیساتھ مذاق کیا گیا کہ ایک شخص جو آزاد امیدوار تھا، وہ چیئرمین بن گیا۔ آپ تصور کریں، جس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے بھی نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی اس وقت پرو اسٹیبلشمنٹ جماعت بن گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں چاہتی، جو ایک خاص مقبولیت کے پیمانے سے اوپر چلا جائے۔ جہاں پر بھی کوئی لیڈر ایک خاص مقبولیت کے پیمانے سے اوپر گیا، اس کے پر کاٹ دیئے گئے۔ آپ کے سامنے ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کی مثال سامنے ہے، اب نواز شریف صاحب ہیں، باقی نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ اب عدالت نے ہی کرنا ہے۔ جب مقصد یہ ہو کہ ہر معاملے کو منفیت میں لانا ہے تو پھر انصاف کسی خاص مقصد کو سامنے رکھ کر نہیں ہوسکتا۔

فوج کے سعودی عرب بھیجنے پر کیا موقف رکھتے ہیں، پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 اس بارے میں فوج بھیجنے والے ہی صورت کلیئر کرسکتے ہیں، باقی میں یہی کہوں گا کہ اگر بھیجی ہے تو غیر جانبداری قائم رکھیں، کسی محاذ میں شریک نہ ہوں، لیکن ہمیں فی الحال یہی محسوس ہو رہا ہے کہ ابتدائی طور پر غیر جانبداری ہوگی، لیکن آگے چل کر نگران حکومت کے وقت جانبدار ہو جائے گی، ماضی کی طرح ہم نے نقصان اٹھایا ہے اور اب بھی فصلیں کاٹیں گے۔

مشرق وسطٰی کی صورتحال پر کیا کہتے ہیں۔؟
مفتی راغب نعیمی:
 مشرق وسطٰی بہتری کی طرف دکھائی دے رہا ہے، لیکن یہ رفتار بتدریج بہتر ہوگی۔ آپ نے شام کے علاقہ غوطہ میں دیکھا کہ جب دہشتگردوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ مکمل طور پر کیموفلاج ہوگئے تھے، اس میں اموات زیادہ ہوئیں، جو نہیں ہونا چاہیے تھا، اس جنگ نے مشرق وسطٰی کے چہرے کو داغ دار کر دیا ہے۔ میں نے شام کو دیکھا ہے، جب یہاں زندگی جھلکتی تھی، حمس، دمشق، خالدیہ اور حلب سمیت کئی تاریخی علاقے دیکھے ہیں۔ ثقافی اعتبار سے بہت امیر علاقہ ہے۔ میں نے حضرت ایوب علیہ السلام کا مقام بھی دیکھا ہے، کئی مقدس جگہوں کا وزٹ کیا ہے، اب وہ سارے کا سارا کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس جنگ میں بڑے بڑے ممالک ملوث ہیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful