چیف جسٹس جمہوریت کا علم پارلیمنٹ کے پاس ہی رہنے دیں

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور خبروں میں رہنے کے شوقین سیاست دان شیخ رشید کی طرف سے ملک میں غیر جانبدارانہ انتخابات کروانے  کے لئے ’جوڈیشل مارشل لا‘  نافذ کرنے کی تجویز اس قدر  پریشان کن نہیں تھی، جتنا ملک کے چیف جسٹس کی طرف سے اس پر تبصرہ حیران کن ہے۔   شیخ رشید نے ساری سیاسی زندگی  اقتدار میں رہنے کی جد و جہد کی ہے اور اب بھی وہ اسی خواہش کی تکمیل کے لئے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ خود ایک عدد سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں ۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان کی سیاسی پارٹی کا سوائے اس کے نہ کوئی مقصد ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ اس کی کوئی ضرورت ہے کہ اس کے طفیل یہ واضح ہو سکے کی شیخ رشید بھی  ایک پارٹی کے سربراہ ہیں۔  وہ ماضی میں نواز شریف کی حکومتوں کے علاوہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی حکومت میں بھی وزیر کے عہدے پر فائز رہے ہیں ، اس لئے پھر سے وزیر بننے کی خواہش انہیں بے چین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نواز شریف کے سخت دشمن ہیں کیوں کہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے بہت لوگوں کو ’معاف‘ کردیا اور برے وقت میں دھوکہ دینے کے باوجود اپنے ساتھ ملالیا لیکن انہوں نے شیخ رشید کو واپس مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی۔  اس طرح بیچارے شیخ صاحب گزشتہ دس برس سے اقتدار کا مزہ چکھنے سے محروم ہیں ۔ اسی محرومی  میں وہ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں ۔ سننے والوں کو ان کی لچھے دار گفتگو اچھی لگتی ہے اور خود شیخ رشید غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کی  وجہ سے میڈیا کی آنکھ کا تارا بنے رہتے ہیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful