مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایم ایم اے انتخابی دھاندلی کے خلاف 15 مارچ پہلے ہی کر چکی ہے جس سے عوام میں بیداری پیدا ہوئی (اے ایف پی)

ڈی جی آئی پی آر کے بیان پر فضل الرحمٰن نے کیا کہا؟

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے دیئے جانے والے مشورے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بیان تو کسی سیاستدان کو دینا چاہیے تھا۔‘

آزادی مارچ کے روح رواں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن یپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ رات گئے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گفتگو میں مجھ سے پوچھا ہے کہ میں بتاؤں ادارے سے میری مراد کیا ہے جبکہ آصف غفور صاحب نے خود ہی وضاحت میں بتایا ہے کہ پاک فوج ہمیشہ جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتی ہے اور الیکشن میں فوج نے قانونی اور آئینی کردار ادا کیا ہے۔

مولانا نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ پوری قوم اس حکومت کو غیر جمہوری کہہ رہی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس کو دھاندلی کی پیداوار کہہ رہی ہیں لہذا مجھ سے نہ پوچھا جائے کہ کون سے ادارے اس میں ملوث ہیں کیونکہ آصف غفور صاحب نے خود ہی اپنے بیان میں پوری تفصیل بتا دی ہے کہ میرے بیان سے مراد کون سا ادارہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کو سپورٹ کرنے کو جمہوریت میں تو کوئی پذیرائی نہیں مل سکتی ، جبکہ دنیا میں ہمارے وزیر اعظم کو پبلک کا نمائندہ نہیں مانا جاتا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پورے ملک سے جو عوام اس آزادی مارچ میں امڈ آئی ہے اس کا احترام ہونا چاہیے اور اس احترام میں فوری طور پر حکومت کو مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سے نہ ہمارے عزائم تبدیل ہونگے نہ ارادے تبدیل ہونگے نہ تحریک تبدیل ہوگی ، مارچ میں شریک جماعتوں میں اتفاق ہوا ہے کہ رہبر کمیٹی کا اجلاس ہفتے کو ہوگا جو مختلف آپشن پر غور کرے گا تاکہ ہم مستقبل کا لائحہ عمل بنا سکیں۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔