کتب بینی

مطالعے کا شغف وشو قِ ادب ،جمالیاتی ذوق کے رمق میں اضافہ اورذہنی و قلبی سکون کا سبب بنتا ہے۔ فرصت کے لمحات کو کتابیات و ادبیات میں صرف کرنے اور علمی و ادبی دنیا کے مایہ ناز شخصیات کے شہرہ آفاق کالموں،جو درجنوں کے حساب سے روزانہ اردو و انگریزی اخبارات میں چھپتے ہیں ،کے مطالعے سے راقم کو جو ثمرات میسر آئے اس کے مقابلے میں کوئی چیز ثانی نہیں رکھتی۔اسی لیے دل میں خیال آیا کہ حلقہ اربابِ ذوق ،پڑھنے والے قارعین اور علمی و ادبی شوق رکھنے والے طالب علموں سے دل کی بات شیر کی جائے۔ہو سکتا ہے علم وادب کے گہرے سمندر میں غوتے کھانے والے طالب علم اور ہم کلام و ہم خیال دوستوں کے کچھ پلے پڑے۔
ذنگ آلود، ہنود شدہ اور پرلے درجے کی زہنیتوں وقدامت پسند اور بنیاد پرست نظریات کے خاتمے اور ان کو حقیقی نظریاتی،علمی اور فلسفیانہ محاذوں کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کتابوں سے قربت ،مطالعے کا شغف اور تعلیم و تربیت کو گلی کوچوں میں آم کیا جائے۔ہمارے معاشرے میں تعلیم دوستی اور قربتِ مطالعہ و لا ئیبریوں کا رجحان قدرے ناپید اور بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔جس کی وجہ سے دہائیاں بید گئی مگر کوئی منٹو،اسمت،شہب ،اشفاق احمد اور بانو قدسیہ و قراتلعین جیسی ادبی شہسوار پیدا نہ ہو سکے۔ اورہمارے مسلے خواہ ذاتی ہو ںیا قومی دلائیل،شواہد اور فہم و فراست کے پیمانوں سے ماورہ لڑھائی ،جگڑے اور جاہلانہ بحث مباحثوں کے بھیڑ چڑھا دئے جاتے ہیں ۔ بہ این وجہ نئی نسل ذہنی و نفسیاتی طور پر انتشار ،خلفشار ،کنفوژن کاشکار اور سہی سمت کا تعین کھو چکی ہے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ کوئی بھی قوم بغیر تعلیم اور نئی نسل کی سہی تربیت کے ترقی کے عظیم منا ذل طے نہیں کر سکی ۔ہمارے ہی خطے کے مختلف ممالک جن میں چین،جاپان، کوریا، ملیشیااور سنگاپورکی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے قلیل عرصے میں یعنی پاکستان سے بھی کم عرصے میں ترقی اور انسانی عروج کے جو ریکارڈ توڈے ہیں وہ سب تعلیم و تر بیت کے بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔مگر اس سب کے بر عکس وطن عزیز میں گذشتہ ستر سالوں کے دوران میں صرف مادی ترقی پر زور دیاگیا۔جس کی وجہ سے آج تعلیم اور کتاب دوستی سے لوگ نابلد نظر آتے ہیں ۔جو معاشرے میں ناانصافی ،رشوت،اقرباپروری اور تعلیم دشمنی کے نظریات کی فراوانی کے سبب بنے۔اور یہی ہماری قوم کا اجتماعی دانش کا بین ثبوت نظر آتا ہے۔
اس لیے قلم کار دوستوں اور خاموش مطالعاتی شخصیتوں سے خاکسارانہ گزارش ہے کہ اپنے قلم کو معاشرتی اصلاح ،تعلیم وتربیت کی اہمیت ،مطالعے کا شوق، ادبی زوق اور کتاب دوستی پیدا کرانے والے عوامل کو اجاگر کرنے میں استعمال کریں اور اپنی نئی نسل کو جہالت کے اندیروں میں غرق ہو نے سے بچانے میں اپنا کر دار ادا کریں ۔تاکہ نئی نسل دہشت گردی اور انتہاہ پسندی کی طرف راغب ہونے سے بچے اورتعلیم دوستی و کتب بینی اختیار کرے جس میں ذہنی و قلبی سکون ہے۔تابناک اور درخشاں شخصیت کی تعمیر کا سامان ہے اور سیرت و بصیرت اور فصاحت و بلاغت کی مضبوطی کاواحد ذریعہ ہے۔

(یاورعباس ہولہ،گلگت بلتستان)

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful