کیا میں رکھیل ہوں؟؟

کیا میں رکھیل ہوں؟؟

 

 

تحریر: یاور عباس

یہ سوال ہم سے گلگت بلتستان کا تھا جس کے جذبات کا استحصال ایک وقتی محبت کے ہاتھوں کیا گیا اب اس کے اندر پتھر اگ گئے ہیں اور ان پتھروں کی دیواروں کے اندر اس نے اپنا آپ مقید کر لیا ہے تا کہ اب کوئی اس کے پاکیزہ جذبات کو پامال نہ کر سکے۔ہم اس پتھر کے مجسمے کو دیکھ کر قلم اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔۔۔

رکھیل کا پاکستان میں کوئی مقام نہیں یہ دل بہلانے کا کھلونہ جو مختلف داموں پر دستیاب ہوتا ہے اس کی کوئی عزت نہیں۔

ایک رکھیل ہوتی جو پیشہ ور ہے جو اپنے داموں کے لیے خوب داؤ پیچ لگاتی یا پھر معاشرے یا معاش کے ہاتھوں تنگ آئی ہوئی حوا زادیاں اس کھیل کا حصہ بننے پر مجبور ہوتی ہیں۔

لیکن دوسری طرف اس رکھیل کے ساتھ جو کچھ ہو رہا وہ صرف اور صرف ریاست مدینہ کی بقاء و بالادستی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہے یہ رکھیل اس اسلامی ریاست کا جنسی خواہشات کے تکمیل گزشتہ 72 سالوں سے کرنے کے بعد اب سمجھ آیا ہے کہ محب کے نام پر اب تک اس کی عظمت دری ہو رہی ہے۔

گزشتہ 72سالوں میں اسلام، دین، مذہب اور کلمہ کی بنیاد پر اس کی جو عظمت دری ہوئی ہے شاید ہی اس دنیا میں کسی کے ساتھ ہوئی ہو، میرا سوال ایسے سربراہان مملکت سے یہ ہے کیا وہ کسی کوٹھے پر تشریف لائے ہیں جو اس نام نہاد محبت کا پرچار کرتے ہیں جس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔ کیا وہ سامنے والی محبت کو رکھیل سمجھتے ہیں جو اس سے دل بہلانے آتے ہیں یا سامنے والا پتھر کا بت ہے جس کو جب اور جیسے کی بنیاد پر استعمال کیا جاتا ہے؟ اور اپنی حقیقی محبت کا وجود پاتے ہی ان کا وقت اور انسیت تمام ہو جاتی ہے؟

اس چکر میں بعض دفعہ سامنے والے کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ اس کو ایک رکھیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جب یہ تعلق عذاب بننے لگتا ہے تب آشکار ہوتا ہے کہ آپ تو بلاے جان ہیں ہم تو زبانی کلامی محبت فرما رہے تھے آپ تو سنجیدہ ہی ہو گئی اور اس سنجیدگی کو اگلے کے ماتھے پر مار کر ہوا ہو جاتے ہیں۔

بلکل ایسے جیسے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے
کیا ہر رکھیل اپنا آپ دنیا کے سامنے رکھ دیتی ہے کہ آؤ مجھے استعمال کرو یا ان سو کالڈ محبت کے پجاریوں ( زرداری، نواز شریف، عمران خان) کے بھی کچھ داؤ پیچ ہوتے ہیں یا وہ خود جذباتی طور پر اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ اپنے غم غلط کرنے کے لیے ان کا ان کے جذبات کا استعمال کرتے ہیں اور پھر سکون سے اللہ حافظ بھی بول لیتے ہیں کیا ان کے ضمیر ان کو سکون کی نیند سونے دیتے ہیں؟

گلگت بلتستان کے دوستوں ذرا سوچئے گا آج ہم کہا کھڑے ہیں جس دھرتی کو ہم ماں کہتے ہیں وہ ماں آج ہم سے سوال کرتی ہے “کیا میں رکھیل ہوں” اور ہمارے پاس جواب کوئی نہیں۔

پروین شاکر نے یہ شاعری شاید ہمیں دیکھ کر ہی لکھی تھی۔

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے
پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے

نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو
اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہئے

ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہو
مقتل میں اب یہ طرز دگر جانا چاہئے

کیا چل سکیں گے جن کا فقط مسئلہ یہ ہے
جانے سے پہلے رخت سفر جانا چاہئے

سارا جوار بھاٹا مرے دل میں ہے مگر
الزام یہ بھی چاند کے سر جانا چاہئے

جب بھی گئے عذاب در و بام تھا وہی
آخر کو کتنی دیر سے گھر جانا چاہئے

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے

About یاور عباس

یاور عباس
یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔