گذشتہ صوبائی حکومتوں نے بلوچستان کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے وفاق کیساتھ مفاہمتی پالیسیاں اپنائے رکھیں، بشریٰ رند

بشریٰ رند خاتون رکن بلوچستان اسمبلی اور وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال کی ترجمان ہین۔ وہ 1970ء کو کراچی میں پیدا ہوئی۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنماء ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 2018ء کے عام انتخابات میں حلقہ پی بی 55 سے خواتین کی مخصوص نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور بعدازاں رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ ایم پی اے بننے کے بعد وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال نے انکو اپنا ترجمان مقرر کیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے حکومتی اقدامات، پارٹی پالیسی اور افغان مہاجرین سے متعلق “اسلام ٹائمز” نے ایک مختصر انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو محترم قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: میر حاصل خان بزنجو کہتے ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں تمام وہ لوگ ہیں، جو ہمیشہ اقتدار کیساتھ رہے ہیں، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گی۔؟
بشریٰ رند:
 حاصل بزنجو صاحب کا اپنا ایک نظریہ ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک نئی جماعت ہے اور خود نیشنل پارٹی کے اپنے بہت سے افراد ہماری جماعت میں شامل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی میں کوئی نیا چہرہ نہیں، بلکہ اکثر پرانے سیاستدان شامل ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے ورکروں کو جبراً اپنا بنائے نہیں رکھتی، بلکہ ہر کوئی آزاد ہوتا ہیں۔ یہ ہر شخص کا اپنا جمہوری حق ہے کہ وہ کسی بھی جماعت میں شامل ہو۔ آج آپ کو پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی بلوچستان بھر میں کسی جگہ نہیں نظر نہیں آتی، جس کی وجہ پارٹی کی پالیسیوں کا تبدیل ہونا ہے۔ جب آپ اقتدار میں نہیں ہوتے تو آپکی پالیسیاں کچھ اور ہوتی ہے، جبکہ اقتدار میں آنے کے بعد آپکی پالیسیاں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سیاست کا مقصد عام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ چاہے وہ شخص کسی بھی جماعت میں ہو، اس سے فرق نہیں‌ پڑتا۔

اسلام ٹائمز: آپکی جماعت کے زیادہ تر افراد کا تعلق ماضی میں مسلم لیگ (ن) سے تھا، لیکن نواز شریف پر کیسز کھلنے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ چھوڑ دیا۔ کیا مشکل حالات میں یہی افراد دوبارہ بلوچستان عوامی پارٹی کا ساتھ تو نہیں چھوڑینگے۔؟
بشریٰ رند:
 بلوچستان نیشنل پارٹی کا موقف یہ ہے کہ اس صوبے کی محرومیوں میں سے سب سے بڑی محرومی سیاسی ہے۔ بلوچستان کے ارکان اسمبلی کو ہمیشہ نمبر گیم پورا کرنے کی حیثیت سے دیکھا جاتا رہا ہیں۔ ماضی میں جب حکومتیں تشکیل پاتی تھیں، تب صوبائی سطح پر چھوٹی جماعتیں کم تعداد میں نشستیں جیت کر آتی تھی، جس کی وجہ سے انہیں وفاق کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ وفاق بھی اسی وجہ سے بلوچستان کو نظر انداز کرتا تھا، کیونکہ ہماری قیادت یکجاء اور یک آواز نہیں‌ ہوا کرتی تھی۔ ہم نے اسی سوچ کو لیتے ہوئے اپنی نئی جماعت بنائی، تاکہ ہم صوبے کے مفادات کو وفاق کے سامنے ڈٹ کر رکھ اور اپنے جائز مطالبات منوا سکیں۔

اسلام ٹائمز: آپکے موجودہ وزیراعلٰی جام کمال صاحب خاندانی اعتبار سے صوبے میں حکومتیں تشکیل دے چکے ہیں۔ انکے والد اور دادا محترم دونوں وزارت اعلٰی کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں اور ہمیشہ بلوچ ہی صوبے کے وزیراعلٰی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ لیکن ستر سال گزرنے کے باوجود اگر بلوچستان کی حالت زار بہتر نہیں ہوئی، تو کیا اسکی ذمہ دار خود بلوچ قیادت نہیں۔؟
بشریٰ رند:
 دنیا کے کسی بھی ملک کے حکومتی ایوانوں میں نمبر گیم حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر ایک جگہ پچاس ایم این ایز ہوں اور دوسری جگہ پندرہ ایم این ایز ہوں، تو اسی لحاظ سے آپ کیساتھ برتاؤ رکھا جائے گا۔ آپکے صوبے کو اسی وقت اہمیت ملتی ہیں، جب آپ کے پاس زیادہ طاقت ہو۔ یہ سوچ بدقسمتی سے بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو تباہی کی جانب لے جا رہی ہے۔ یہ وفاق کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تعداد کو نظرانداز کرتے ہوئے پورے ملک میں یکساں نظام متعارف کرائیں۔ ہم نے ہر صوبے پر توجہ دینی ہے۔ 2013ء سے لیکر 2018ء تک وفاقی پی ایس ڈی پی فنڈز میں پانچ ہزار ارب روپے خرچ ہوئے اور بلوچستان کو ان پانچ سالوں میں چار سو ارب روپے بھی نہیں ملے۔ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ نو فیصد بنتا ہے، جبکہ گذشتہ پانچ سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق ہمیں ساڑھے تین فیصد ملا تو کیا ایسے حالات میں آپ محض بلوچ حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھرائیں گے۔؟

اسلام ٹائمز: اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کو رقبے کے لحاظ سے کم فنڈز ملتے ہیں، لیکن جتنے فنڈز دیئے جاتے ہیں، وہ بھی تو کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں۔؟
بشریٰ رند:
 ان غلطیوں میں بھی وفاق قصور وار ہے۔ جب نواز شریف کی حکومت آئی تو انہوں نے اپنے طور پر ایک فارمولا بنایا کہ ڈیڑھ سال ڈاکٹر عبدالمالک اور ڈیڑھ سال ثناء اللہ زہری وزیراعلٰی رہینگے۔ چاہے یہ حضرات کام کریں یا نہ کریں، چاہے ڈیلور کر پائیں یا نہیں، وفاق انہیں وزیراعلٰی رکھے گا۔ اسی وجہ سے بلوچستان عوامی پارٹی نے آواز بلند کی کہ صوبے کے وہ افراد جو کام نہیں کرتے، انہیں اعلٰی منصوبوں پر فائز رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کرپشن چاہے جو بھی کرے، اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: چاہے مذہبی انتہا پسندی ہو یا آزادی کے نام پر مسلح جدوجہد، بلوچ نوجوان اس تشدد کے راستے پر کیوں نظر آتے ہیں۔؟
بشریٰ رند:
 صرف یہ کہنا نا انصافی ہوگا کہ محض بلوچ نوجوان ہی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگر آپ فاٹا، پنجاب یا کراچی کو دیکھ لیں، تو وہاں پر بھی آپ کو ایسی کارروائیاں ہوتی ہوئی نظر آئیں گی۔ دشمن کو جس معاشرے میں بھی اور جس صوبے میں بھی موقع ملے گا، وہ اپنی کارروائیاں کرینگے اور اس علاقے کے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرینگے۔ اینٹی اسٹیٹ سرگرمیاں 2006ء کے بعد زیادہ زور و شور سے شروع ہوئیں، اس کی وجہ بھی ایک ڈکٹیٹر تھا۔ جب ریاست غلطیاں کرے گی تو دشمن اسکا فائدہ اٹھائے گا، یہی کام بلوچستان میں بھی ہوا، جبکہ بلوچستان میں جو قیادت گذشتہ دس سالوں میں رہی ہے، اس نے ہمیشہ وفاق کیساتھ مفاہمتی پالیسیاں اپنائی ہیں۔ جب وفاق سے صوبے کے وزیراعلٰی کو یہ باور کرایا جائے گا کہ آپ جو بھی کریں، وزارت اعلٰی کے منصب سے آپ کو کوئی ہٹا نہیں سکتا، تو یہ صوبے میں ہر قسم کے جرائم کو پیدا کرے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا نواب اکبر بگٹی کے قتل کیوجہ سے بلوچستان کے حالات مزید خراب ہوئے اور کیا آپ پرویز مشرف کے اس اقدام کو غلط سمجھتی ہیں۔؟
بشریٰ رند:
 پاکستان کے حکمرانوں کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا پاکستان میں رہنے والے مختلف افراد کیلئے مختلف قوانین ہونے چاہیں۔؟ ایک شخص کو آپ بہت جلد سزا دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو آپ آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ قانون سب کیلئے یکساں ہے اور اسے ہر شخص پر لاگو ہونا چاہیئے۔ دنیا کے ہر ملک میں ریاست کی اپنی ایک مخصوص لائن ہوتی ہے، اگر کوئی اس لائن سے آگے نکل جاتا ہے تو آپ کو اس کے اثرات برداشت کرنا ہونگے۔

اسلام ٹائمز: افغان مہاجرین سے متعلق بلوچ قوم پرست جماعتیں عمران خان کے موقف سے متفق نہیں ہیں، اس حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی کیا موقف رکھتی ہے۔؟
بشریٰ رند:
 افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان میں آنے والے مہاجرین سالوں سے یہاں آباد ہیں اور وہ معاشرے میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ چاہے تعلیم کا میدان ہو، کاروبار ہو یا کوئی اور میدان، ہر جگہ افغان مہاجرین ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن شہریت دینے کے حوالے سے پاکستان کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔ پاکستانی ہونے کیلئے ریاست کو ایک واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر آج میں کابل چلی جاؤ یا دبئی چلی جاؤں اور وہاں جاکر چالیس یا تیس سال کا عرصہ گزاروں، تب بھی وہ مجھے شہریت نہیں دینگے، بلکہ واپس پاکستان بھیج دیں گے۔

اسلام ٹائمز: اگر اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو آپکا ردعمل کیا ہوگا۔؟
بشریٰ رند:
 ابھی تک تو ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ اٹھارویں ترمیم تمام صوبوں کو خود مختار کرنے کا ایک اچھا اقدام تھا۔ بہت ساری چیزوں کو اب بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں مزید اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، بجائے اسکے کہ ہم اسے رول بیک کریں، اگر ایسا کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو ہم اس کی مخالفت کرینگے۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز

About یاور عباس

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful