تازہ ترین

گلگت بلتستان آرڈڑ نامنظور

یوں تو گلگت بلتستان کو آزاد ہوئے 70سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزرچکا اور اتنا ہی عرصہ گلگت بلتستانیوں کو پاکستانی کہلاتے کہلاتے بھی گزرچکا۔مگر آج تک ان کی تمنا بس تمنا ہی رہی بلکہ اب یہ ان کی تمنا نہیں کہ وہ پاکستانی بنے اب پاکستانی بننا ان کیلے ارمان بن گیا ہے ۔وہ اس لیے کہ تمنائیں تو پوری ہوتی ہیں مگر ارمان کبھی پورے نہیں ہوتے ۔بقول شاعر
تمنا وہ تمنا ہے جو دل ہی دل میں رہتی ہے
جو مر کربھی نہ ہو پوری اس سے ارمان کہتے ہیں
پاکستانی بننے اور کہلانے کے ارمان لئے گلگت بلتستان کے آبا واجداد نے ہندوں اور ڈوگروں کیخلاف جنگ آزادی لڑی ۔اس وقت بے سروسامانی کے حالات میں بھی گلگت بلتستانیوں کے اندر پاکستانی بننے کا جذبہ اس قدر قوی تھا کہ ڈوگروں کیخلاف جنگ آزادی لڑی گلگت بلتستان کی قوم نے بغیر کسی ہتھیار کے۔نتیجہ میں ہزاروں جانی ومالی قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کر کے سکھ کا سانس لینا چا ہا مگر ان بد نصیبوں کو سکھ کا سانس لینا آج تک نصیب نہیں ہوا ۔گلگت بلتستان کے ہزاروں فوجی جوان خود کو پاکستانی کہلاتے ہوئے سیاچن ،گلتری،کارگل،ضرب عضب،پاک بھارت جنگ 1965سے لے کر 1999ءسے اب تک ملک کے دیگر شہروں کے نڈر نوجوانوں کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر اپنی جانیں قربا ن کی اور اپنے پسماندگان کو بے سہاراچھوڑ کر چلے گئے ۔وہ تمام نوجوان نہ صرف اپنی قبر میں پاکستانی پرچم لگوانے میں کامیاب ہوئے بلکہ اس سبز ہلالی پرچم کو میدانوں ،صحراوں،جنگلوں ،محازوںاور پر خطر جگہوں پر لہرانے میں کامیاب ہوئے اور اپنی جان نچاور کردی مگر ناکام ہوئے تو اس بات پر کہ اس تمام جذبہ وجنون کے باوجود ان کو پاکستانی تسلیم نہیں کیاگیا ۔انہیں وہ حقوق نہیں دئیے گئے جو عام شہریوں کو حاصل ہیں ۔وہ اپنی پہچان کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ستر سالہ محرومیوں اور قربانیوں کے باوجود آج بھی گلگت بلتستانی اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے پر فخر محسو س کرتے ہیں ۔جب کہ اس ملک کے بہت سے گوشہ کنار ایسے ہیں ،جہاں سے ملک مخالف صدائیں آئیے روز بلند ہوتی ہیں۔بات صرف یہی پر ختم نہیں ہوتی اس ملک کے سیاح وسفید کے مالک رہنے والے بھی آج جب اپنے مفادات کو نقصان پہنچتا دیکھتے ہیں تو پاکستان کی سا لمیت کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے پر اتر آتے ہیں ۔تو آپ ذرا تصور کریں۔اپنے جوان لعل بیٹوں کو اس دھرتی پر قربا ن کرنے کے بعد بھی آج گلگت بلتستانیوں کے لبوں پر اس وطن کیخلاف کوئی شکوہ تک نہیں ۔کیونکہ گلگت بلتستان والے جان چکے ہیں کہ اس وطن کی حفاظت دین کی حفاظت ہے جو کہ عین عبادت ہے ۔اب جبکہ گلگت بلتستان والے اپنے لیے حقوق مانگنے میدان میں اترے اور وقت کے سامراج کیخلاف علم بغاوت بلند کیا تو حکومتی و سیاسی اعوانوں میں یہ خلبلی مچی کہ گلگت بلتستان میں باغی سرگرم ہوئے ہیں ۔حد تو یہ کہ گلگت بلتستان کی نوازلیگی حکومت نے وفاقی حکومت کی ایما پر عوامی لیڈروں کو فورتھ شیڈول لسٹ میں ڈال کر اپنے سیاسی مفادا ت حاصل کرنا چاہتی ہے ۔جبکہ کہ یہ ان کی بھو ل ہے جب گلگت بلتستان کی قو م جفا کشی پر اترے تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی ۔وفاقی حکومت ،چاہیے وہ کسی کی بھی ہو نے آج تک گلگت بلتستان کے ساتھ کھیل کھیلا ہے ۔کبھی پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان آرڈر 2009جاری کرکے تو کبھی ن لیگ کے کٹ پتلی وزیر اعظم خاقان عباسی نے آرڈر 2018جاری کرکے ۔ عجیب اور بچگانہ حرکتیں یا پھر ان کی نظروں میں گلگت بلتستان کے 30لاکھ عوام کی کوئی حیثیت ہی نہیں کہ یہ جو چاہیے مرضی کریں ۔گلگت بلتستان آرڈر جاری کرنے کا حق ان کو کسی نے دیا اور وفاق سمیت ایک کٹ پتلی وزیر اعظم کیسے گلگت بلتستان آرڈر جاری کرسکتے ہیں جبکہ ان کو گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی کا حق ہی حاصل نہیں ۔گلگت بلتستان آرڈر وفاق اس وقت جاری کرسکتا ہے جب وفاق میں گلگت بلتستان کے نمائندے ہوں یا پھر پارلیمنٹ و سینیٹ میں گلگت بلتستان کی نمائندگی ہو ۔جبکہ 30لاکھ گلگت بلتستانیوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے ملک کے وزیر اعظم کے انتخاب میں اپنا ووٹ ڈال سکیں ،وہ ملک کی پالیسی ساز و آئین ساز اسمبلی کیلے اپنا ووٹ نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی ان کا کوئی نمائندہ قومی اسمبلی و سینیٹ میں موجود ہو تو پھر کیسے وفاق کو حق حاصل ہے کہ وہ ایک کٹ پتلی وزیراعظم کوایک آرڈر کے ذریعے گلگت بلتستان کی 30لاکھ عوام اور گلگت بلتستان کا سیاح وسفید کا مالک قراردے اوار ساتھ ہی اس آرڈر میں بنیادی انسانی حقوق کو بھی ریاستی سرپرستی میں پاوں تلے رونداگیا ہے ۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان کے سیاح وسفید کا مالک وزیر اعظم کو بنا دیا گیا ہے ۔وہ اپنی مرضی سے 30لاکھ عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلے آزاد ہوگا اور اس کے کسی بھی فیصلے کو گلگت بلتستان کی عوام ،گلگت بلتستا ن کی قانون ساز اسمبلی اور ملک کی اعلیٰ عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہو ا کہ جمہوری ملک میں جمہوریت تلے ایک شخص کو یہ اختیا رحاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی خطے میں جمہوری عامریت چلاسکے ۔عجیب ایک روایت اس ملک میں چلی آرہی ہے کہ کسی بھی مسلہ کو اس وقت تک مسلہ نہیں سمجھا جاتا جب تک وہ مسلہ شدت اختیا رنہ کرے عوام ملک کے خلاف نعرے لگانے پر مجبور نہ ہوں تب تک اس ملک کے نہ کسی ادارے کو یہ توفیق حاصل ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو سنے نہ ہی حکومتی مشینری کو پھر جب پانی سرسے گزرچکا ہوتا ہے تو پھر ایک دوسرے کیخلاف محازآرائی پر اتر آتے ہیں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹہراتی ہیں تو کوئی دفاعی اداروں پر اس بات کا الزام لگاتا ہے اس سے مسائل حل نہیں بلکہ بڑھتے ہیں ۔اب بھی یہی حالات گلگت بلتستان میں پیدا ہو رہے ہیں۔گلگت بلتستان پاکستان کیلے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اگرا خدانہ کرے ا س خطے میں ملک مخالف کوئی تحریک اٹھی تو پھر نہ سی پیک رہے گا اور نہ ہی پاک چین دوستی سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے بلند رہے گی ۔کیونکہ پاکستان اور چین کو اسی خطے نے ایک لڑی میں پرویا ہے ۔پس جب دھاگہ ہی نہیں رہے گی تو
پھر دانے بکھیر جاتے ہیں ۔مگر میں پورے یقین اور وثوق سے کہتاہوں کہ گلگت بلتستان والے اپنی ستر سالہ قربانیوں کے بعد بہت جلد ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائینگے جو ملک کی سا لمیت کیخلاف ہو ۔مگر یہ اسی وقت ممکن ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے ۔اگر مزید ان کے ساتھ کھیل کھیلا گیا اور ان کے حقو ق کا استحصال کیا گیا اوار آرڈر پر آرڈر جاری کیا گیا تو پھر ©©©©©©©تنگ آمد بہ جنگ آمد والی مثال سامنے آئیگی اور وہ اپنی شناخت کیلے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرئینگے ۔اس لئے وقت کی نزاکت کا یہی تقاضا ہے کہ گلگت بلتستا ن کو پاکستان کو پانچواں مکمل آئینی صوبہ بنا کر گلگت بلتستانیوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے ۔میری چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ اور چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں کسی برے وقت کے آنے سے قبل ہی نوٹس لے کر مطالبات تسلیم کیا جائے ۔کیونکہ پاک فوج کی ہی حمایت سے فاٹا آئینی دھارے میں شامل کیا گیا ہے ۔اسی طرح امید ہے پاک فوج یہاں بھی اپنا کردار ادر کرے گی ۔اگر اس معاملے کو پس پشت
ڈالا گیا تو پھر خدانہ کرے ملک کسی اور بنگلہ دیش کا متمحل نہیں ہوسکتا ۔کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی کا ازالہ بعض اوقات صدیوں بعد بھی نہیں ہوتا بقو شاعر
یہ حال بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
عبدالحسین آزاد

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful