گلگت بلتستان اور پاکستان۔۔۔!

انداز بیاں گرچہ بہت شوق نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات

گلگت بلتستان تقریبا 20لاکھ کی آبادی اور 72971 مربع کلو میٹر رقبہ پر مشتمل خطہ ہے اور پرامن، تعلیم یافتہ اور دیندار شہری ہونے کا حق بھی حاصل ہیں۔
جی۔بی یکم نومبر 1947 کو آزاد ہوا تھا لیکن 16نومبر 1947 کو بغیر کسی شرائط کے پاکستان سے الحاق کیا۔
یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں یوم آزادی سال میں دو مرتبہ منائی جا تی ہیں (یکم نومبر اور چودہ اگست)۔ اور ملکی سالمیت کی خاطر ہر محاز چاہے ( اندرونی ہوں یا بیرونی دشمن ) ہر صف اول میں کھڑے ہیں جس کی گواہی یہاں کے پاک آرمی شہداء کی تعداد ہیں جن کی وجہ سے اس خطے کو سرزمین شہداء بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے شہریوں کو عملی آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔
اس کا منہ بولتا ثبوت گزشتہ 70 سالوں سے اس خطے کو آئینی حقوق قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ سے محروم رکھنے کیساتھ ساتھ اس علاقے میں اعلی عہدوں پر بھی دیگر صوبوں کے لوگ وفاقی ہتھگنڈوں کی مدد سے براں جماں ہیں حتی کہ اس علاقے کو کئی سالوں تک یونیورسٹی سے محروم رکھا گیا جبکہ اکیسویں صدی کے اس دور میں اس علاقے میں ابھی تک میڈیکل و انجنئیرنگ کالج و یونیورسٹی کا قیام تو دور کی بات وفاقی و دیگر صوبائی جامعات میں یہاں کے طلباء کیلئے داخلے کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔ حتی کہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ایسے خطوں کو ٹیکس فری زون قرار دی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر ان ڈائریکٹ ٹیکس کی وصولی بھی کی جاتی ہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود ملک کی ترقی کی راہ میں برابر کے شریک ہیں اور ہر طرح کی قربانیوں کیلئے بھی تیار ہیں۔
دشمن کے فضلہ خور میڈیا جی۔بی کو کے عوام کو ملک دشمن ظاہر کرنے میں دن رات مصروف عمل ہیں جبکہ ان کو ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں کہ وہ جی۔بی کے پاک آرمی شہداء و آئینی حقوق کے حصول کی جدوجہد کی کوریج کر سکے۔
چند سوالات حکومت پاکستان سے :
1.کیا جی۔بی کے عوام اس قابل نہیں ہیکہ یہاں کے انتظامی امور خود سنبھال سکے؟
2.کب تک قربانیاں دیتے رہے پاکستان کی خاطر کیونکہ بقول حکومت پاکستان، جی۔بی پاکستان کا حصہ نہیں ہیں؟
3.صدر پاکستان کو کیا حق ہیکہ مجھے سزائے موت دے کہ جس کو میں ووٹ بھی نہیں دے سکتا؟
میڈیا کی جانب سے جی۔بی کو بدنام کرنے سازش کی گئی ہیں جس کی جی۔بی عوام کی جانب سے بھر پور مزمت کرتے ہیں۔ اور جی۔بی کے باشعور عوام سے گزارش کی جاتی ہیکہ سوشل میڈیا پر اس کے خلاف اپنی آواز کو بلند کریں۔ قومی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ شکریہ

تحریر : عرفان حیدر

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.