گلگت بلتستان: آئینی بحران، محرومیاں اورمستقل حل

گلگت بلتستان کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کابنیادی سبب عام شہریوں خصوصا سکول کے طلبہ سے لے کر یونیورسٹیوں کے محققین و اساتذہ تک کو علاقے سے متعلق درست معلومات کی فراہمی نہ ہونا ہے کیونکہ آئین پاکستان سمیت کسی بھی سرکاری قانونی دستاویز، قومی نصاب سمیت دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کا ذکرکہیں نہیں کیا جاتا نیز قومی پالیسیوں اور ذرائع ابلاغ میں بھی گلگت بلتستان کےوسائل و مسائل، اور حقوق اور احوال پر بحث نہیں ہوتی. مقامی صحافت درکار پیشہ وارانہ صلاحیت کے فقدان کے علاوہ بہت سے ریاستی قدغنوں کی شکار ہے جبکہ علاقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے سیاسی و سماجی کارکنوں کوریاست مخالف قرار دے کر فورا اٹھا  کر پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ انفارمیشن کے ایسے بحران کے علاوہ عملی طور پرقومی اسمبلی، سینٹ،بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی و اقتصادی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے بھی یہ کسی طرح خبروں کے دھارے میں شامل نہیں ہوتا۔اس لیے گلگت بلتستان سے متعلق عوام و و خواص دونوں کی عمومی آگاہی کا معاملہ ناگفتہ بہ حد تک خراب ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان ہماری اسٹبلشمنٹ کی بے حسی، حکمرانوں کی بے حمیتی،ترقی پسند دانشور سمیت جمہور پسند طبقات کی گلگت بلتستان سے متعلق کم علمی جبکہ قومی میڈیا پرکاروباری یا قومی مفاد کے چکر میں گلگت بلتستان جیسے اہم سرحدی و سٹریجک علاقے کی آواز نظر انداز ہوتی ہے۔

پاکستان کے شمال مشرق میں موجود قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ گلگت بلتستان ہےجس کی آبادی دو ملین سے زاید ہے جس میں سے ایک تہائی آبادی تعلیم اور روزگار کی خاطر کراچی، راولپنڈی اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں بستی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں علاقےکا کچھ حصہ(شقصم اور اقصائے چین) چین کو دیے جانےنیز سن اکہتر اور اٹھانوے میں کچھ سرحدی علاقے بھارت کے قبضے میں چلے جانے کےباجود بھی گلگت بلتستان کا موجودہرقبہ تقریباًخیبر پختونخوا کے برابر اورپاکستان کے زیر انتظام ریاست آزاد جموں کشمیر سے تقریباًچھ گنا بڑایعنی تقریبا تہتر ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جس کا محض دو فیصدرقبہ زرعی طور پر قابل کاشت ہے باقی بڑے بنجر میدانوں، جنگلات، جھیلوں، دریا، برفانی گلیشرز اور بلند پہاڑوں پر مشتمل ہے۔موجودہ گلگت بلتستان دس انتظامی اضلاع؛ دیامر، استور، گلگت،ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، شگر، گنگچھے اور کھرمنگپر مشتمل ہے۔ گلگت صدر مقام اور سکردو سب سے بڑا شہر شمار ہوتے ہیں، ان دونوں شہروں میں‌ائیرپورٹس موجود ہیں جہاں‌اسلام آباد سے روزانہ پاکستان ائیرلائن کی پروازیں چلتی ہیں، جبکہ یہ علاقہ شاہراہ ریشم کے ذریعے چین اور پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔

دنیاکی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے،دنیا کی14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 چوٹیوں کے علاوہ چھہزار میٹر بلندی کی پچاس برف پوش اور فلک شگاف چوٹیوں سمیت ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلوں، دنیا میںگلیشئرز کا دوسرا بڑا ذخیرہ، دنیا کی سب سے زیادہ بلندی پر موجودسب سے بڑا سرسبز میدان دیوسائی (پانچ ہزار مربع کلومیٹر کا سرسبز رقبہ)، سطح مرتفع پر پہاڑی سلسلوں کے درمیان دنیا کا سب سے بلند ترین ریتیلے صحرا کولڈ ڈیزرٹ سکردو بھی اسی علاقے میں موجود ہے۔پاکستان کو سب سے زیادہ سیراب کرنے والے دریائے سندھ کا آبی ذخیرہ نیز درجنوں خوب صورت جھیلیں اور آبشاریں اور قدرتی گرم و ٹھنڈے چشمے اسی علاقےمیں موجود ہیں۔ نادر آبیو جنگلی حیات کے علاوہ طرح طرح کے منفرد پھولوں، پھلوں اور قدرتی معدنیات اور قیمتی پتھروں کاذخیرہ بھی یہاں پایاجاتا ہے۔ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور شفاف پانی کے فقدان کے تناظر میں‌ یہ علاقہ دنیا کےبڑے آبی ذخائر میں سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ بلند پہاڑی ندیوں سے گرنے والے پانی سے براہ راستیا ڈیم بنا کر اس پانی سے ہزاروں میگاواٹ نہایت سستی بجلی پیدا کرنے کی پوٹینشل موجود ہے اور ہزاروں مربع کلومیٹر کے بنجر میدانوں‌ کو قابل کاشت بنائے جا سکتے ہیں.

مختلف پہاڑی وادیوں میں آباد گلگت بلتستان تاریخی و ثقافتی طور پر مختلف تہذیبوں، مذاہب، نسلوں اور زبانوں کا مرکز رہا ہے۔ اس میں اسلام سے قبل کے مذاہب بدھ مت اور بون مت کے تہذیبی آثار آج بھی محفوظ و موجودہیں۔آج بھی مختلف نسلی گروہ، زبانیں، اور متنوع ثقافتی روایات سے یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی کو تہذیبی رنگوں سے رنگا رنگ کر رہا ہے۔بلتی، شینا، بروشاسکی، واخی، کھوار سمیت ہندکو، کشمیری، پشتوزبانیں یہاں بولنے والے موجود ہیں۔ سوفئصد مسلم آبادی پر مشتمل اس علاقے کے لوگ‌ اہل تشیع، اہل سنت (دیوبندی و بریلوی و جماعت اسلامی)، اہل حدیث، اسماعیلی اور نوربخشی مسالک سے وابستہ ہیں. مختلف علاقوں‌اور اضلاع میں‌ عموما کسی ایک مسلک کی بھاری اکثریت ہے.تعلیمی اداروں کے فقدان کے باوجود شرح خواندگی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی شرح پاکستان کے دیگر علاقوں سے زیادہ بلند ہے، سماجی طور پر جرائم کی شرح بہت کم ہے اور دنیا بھر میں اس علاقے کے لوگوں کی خود داری، جفا کشی، دیانت داری، مہمان نوازی اور شرافت زبان زد عام ہے۔ جبکہ مذہبی ہم آہنگی اور امن کاگہوارہ یہ علاقہ پاکستان بھر کے لیے مثال ہے۔ ضیاء الحق دور میں‌خیبر پختون خواہ سے ملحق ضلع دیامر میں افغان و کشمیر جہاد کے لیے ریاستی  سرپرستی میں پرائیویٹ جہادی کیمپوں کے قیام، ریاستی ایما پر افغان مجاہدین کے ذریعے فرقہ وارانہ بنیادوں پر لشکر کشیمیں‌ تین سو سے زاید لوگوں‌ کو مارے جانے کے بعد اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں‌ جاری فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہونے کے باوجود گلگت بلتستان میں شیعہ سنی، اہل حدیث، اسماعیلی اور نوربخشی سبھی بھائیوں کی طرح رہتے آ رہے ہیں۔

ہر سال لاکھوں پاکستانی گلگت بلتستان میں سیر و سیاحت کے لیے آتے ہیں، جبکہ سول و عسکری اداروں میں ملازمت سے وابستہ سینکڑوں پاکستانی بھی گلگت بلتستان میں رہتے ہیں، چین سے تجارت کا واحد راستہ ہونے کے باعث کاروباری طبقے کا بھی یہاں آنا جانا رہتا ہے۔ پاکستان کی بڑی قومی سیاسی جماعتیں یہاں کی مقامی سیاست میں حصہ لیتی ہیں اور الیکشن کے ایام میں ساری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین ڈھیرے لگاتے ہیں۔ ۲۰۰۹ میں نمائشی صوبائی سیٹ اپ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی اور دوہزار پندرہ کے مقامی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نون کی مقامی سطح پر حکومتیں بنی ہیں۔ موخر الذکر پارٹی ۲۰۲۰ تک لیے حکمران پارٹی ہے۔

گلگت کے چند بنیادی مسائل

گلگت بلتستان کے تقریباًعمومی طور پر معاشی لحاظ سے لوگ مڈل کلاس کے ہیں جن کا ذریعہ معاشزراعت،مال مویشی،یا ملازمتپیشہ ہے۔ جبکہ تجارت و سیاحت اور معدنیات سے جڑے پیشوں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ تعلیم، صحت، صنعت و تجارت اور سیاحت کے لیے انفراسٹرکچر کا شدید فقدان ہے۔ 2002 میں قراقرم یونی انٹرنیشنل ورسٹی بننے تک علاقے میں ایک بھی اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔جبکہ ابھی بھی کوئی میڈیکل کالج، انجیئرنگ کالج، لا، بزنس، مینیجمٹ سمیت کوئی بھی پروفیشنل ادارہ قائم نہیں ہے۔ معدنیات، کوہ پیمائی، سیاحت،تحقیق، زراعت اور معدنیات سمیت اہم شعبوں میں کوئی قابل ذکر سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔

آئینی طور پر یہ علاقہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا متنازعہ علاقہ شمار ہوتا ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں‌ استصواب رائے کے ذریعے ہونا باقی ہے.یہ متنازعہ علاقہ جعرافیائی اعتبار سے اپنے اطراف میں چار ممالک(پاکستان، چین، انڈیا اور افغانستان جن میں سے تین ایٹمی طاقتیں ہیں کے درمیان گھرا ہوا ہے، جبکہ ترکمانستان کے راستے روس سے بھی قریب تر ہے۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت چین کا ون بیلٹ ون روٹ منصوبے کے تحت چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)اسی متنازعہ خطے سے گزر رہا ہے۔راہداری کے ذریعےچائنہ کوپاکستان سے ملانےکے لیےپانچ سو کلومیٹرسے زائد کا راستہ گلگت بلتستان سے ہی گزر کر بن رہا ہے۔سنگلاخ پہاڑی سلسلے میں سی پیک کے لیےیہی واحد راستہ ہے۔مگر اس اہم منصوبے کے نہ کسی اہم بین الممالک اجلاس میں گلگت بلتستان کو باقی صوبوں کی مانند سٹیک ہولڈر کے طور پر حیثیت دی گئی اور نہ ہی یہاں باقی صوبوں کی طرح یہاں منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔جو لوگوں کے احساس محرومی کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔ نیز دیامر بھاشا ڈیم بھی اسی علاقے میں‌ بننے گا.

انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔قانون و انصاف کی فراہمی کے لیے موجود نظام جس چیف کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ اور سیشن کورٹ شامل ہیں بہت ہی ناقص، سست اورریاستی جبر سے متاثرہے اور علاقے میں عوام کے لیے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ قانون و انصاف کے کمزورنظام کے باعث علاقے میں میں ہزاروں ایکڑاراضی پربلا معاوضہ پاکستان کےسول و عسکری اداروں کا قبضہ کرنا، آزادی اظہار پر قدغن لگاتےہوئے سیاسی مسائل وحقوق کے لیے آواز اٹھانے والےدسیوں سماجی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل کرنااس کی چند واضح مثالیں ہیں۔ان مسائل پر مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی سربراہی میں ہونے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی کئی رپورٹوں میں تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

آئین کسی بھی ملک میں‌عوام اور ریاست کے درمیان حقوق و فرائض کا ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے. گلگت بلتستان ایک بے آئین سرزمین ہے جس پر وہ آئین و قانون نافذ ہے جس کی تشکیل میں‌اس کا کوئی کردار نہیں‌رہا ہے جس کے نفاذ کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں‌ ہے. اس لیےیہ علاقہ ایک آئینی بحران کا شکار ہے.کورٹس کا بنیادی کام آئین کی تشریح کرتے ہوئے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے مگر آئین پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا آئینی حصہ تسلیم ہی نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود گلگت بلتستان میں آئین پاکستان اور تعزایرات پاکستان اور پاکستانی قوانین کے مطابق ہی فیصلے کیے جاتے ہیں اور ان کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔ انسداد دہشت گردی سمیت ہر جکڑنے والاقانون استعال ہر اس شخص کے خلاف کیا جاتا ہے جو علاقے کے حقوق کی آواز اٹھائے چنانچہ بابا جان، حسنین رمل، افتخار احمد سمیت اہم سماجی قائدین اور سیاسی کارکنوںکو گزشتہ کئی سالوں سےقید میں رکھا ہوا ہے، علاقے کے تقریبا ڈیڑھ سو نوجوان طلبہ، اساتذہ، صحافی، وکلا پر تقریبا ایک سال سے انسداد دہشت گردی کا دفعہ چار (شیڈول فورتھ) نافذ کیا ہوا ہے. مگر اس کےبرعکس گلگت بلتستانکے مفلوج کورٹس کے فیصلوں کا اطلاق پاکستان کے شہریوں پر نہیں ہوتا جس کے کئی نظائر موجود ہیں۔

چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں پبلک سروس کمیش نہ ہونے کے باعث کلیدی عہدوں کے لیے غیر مقامی اور نچلے گریڈ کی ملازمتوں کے لیے مقامی افراد کا کوٹہ مختص ہے۔چیف سیکٹری سمیت تمام کلیدی عہدوں‌ پر وفاق براہ راست اپنے بیوروکریٹس تعینات کرتا ہے. جس کی حیثیت و کردار مقامی حکومت میں‌ایک وائسرائے سے کم نہیں‌ ہوتا ہے.

سن اکہتر اوراٹھانوے کی جنگوں سے متاثر ہونے والے سرحدی مہاجرین کے لیے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے باعث سینکڑوں مہاجرین بے گھر ہو کر در بدر ہورہےہیں۔کراچی اور اسلام آباد کی کچی آبادیوں‌ میں‌ گلگت بلتستان کے ایسے سرحدی مہاجرین بڑی تعداد میں‌ مقیم ہیں. واہگہ بارڈر اور آزاد کشمیر بارڈر پر سرحد کی دونوں طرف تجارت بھی اور آمد و رفت بھی جاری ہے مگر بلتستان کے سرحدی علاقے شخمہ، چھوربٹ اور کھرمنگ بارڈر خاص طور پر صدیوں سےقائم روایتی تجارتی راستہ کھرمنگ کرگل روڈ مکمل طور پر تجارت وآمد و رفت کے لیے بند ہے جس کے باعث جنگ آزادی (گلگت بلتستان نے ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ راج سے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی حاصل کی تھی)اور پاک بھارت جنگوں کے دوران بچھڑنے والے خاندان کنٹرول لائن کی دونوں طرف بہت ہی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔

داخلی خود مختاری اور مالیاتی نظام نہ ہونے کے باعث چین سے متصل سوست بارڈر کے محصولات سمیت تمام اہم حاصل وفاق لے جاتا ہے جبکہ شاہراہ قراقرم، دریائے سندھ،دیامر بھاشا ڈیم اور سالانہ لاکھوں مقامی و بین الاقوامی سیاحوں سے لیے جانے والے ریوینو سے گلگت بلتستان کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا جبکہ متنازعہ علاقے ہونے کے باعث ان سب پر اولین حق علاقے کا ہی بنتا ہے۔ حالانکہ ان سارے وسائل کا باقاعدہ رائلٹی علاقے کو ملنی چاہیے۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران حقوق کے لیے احتجاجی سلسلے میں رفتہ رفتہ تیزی و شدت دیکھنے میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہی وہ سارے عوامل ہیں جو علاقے کے احساس محرومی میں اضافہ کرنے اور لوگوں کے غم و غصے کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔

ہر احتجاج اور تحریک کو سازش کے کھاتے میں ڈال کرپاکستان کے کسی بھی آئینی صوبے سے بڑھ کر اس کے لیے ہزاروں افراد کی قربانی دینے والے علاقے کی بے لوث محبتو وفاداریپر سوال اٹھانے کے بجائے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق گلگت بلتستان کے سنجیدہ مسائل کو فوری حل کرنے میں پاکستان ابھی تک لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔

گلگت بلتستان میں آئینی بحران کس طرح ہے؟

بھارت اور پاکستان کے مابین متنازعہ کشمیر کے چار حصے ہیں۔ پہلا حصہ بھارت کے زیر انتظام جموںوکشمیرہے جس کو بھارت کے آئین میں عبوری طور پرخصوصی صوبائی خودمختاری کا درجہ حاصل ہے جس کے تحت اسےراجہ سبھا اور لوک سبھایعنی پارلیمنٹ اور سینٹ دونوں میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت ریاست کی متنازعہ حیثیت کو محفوط بھی رکھا گیا ہے۔دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام خود مختار ریاست آزاد جموں و کشمیرہےجسےداخلی خود مختاری حاصل ہے اور یہاں‌ بھی سٹیٹ سبجیٹ رول کے نفاذ کے ذریعے اس کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم اور محفوظ کیا گیا ہے. تیسرا حصہ شقصم اور اقصائے چین ہے جو چین کے قبضے میں‌ ہے.جبکہ چوتھا اور سب سے محروم حصہ گلگت بلتستان ہے جسے نہ پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے اور نہ ہی داخلی خود مختاری بلکہ ایک غیر آئینی صوبے کا لولیپاپدے کر علاقے کے بیس لاکھ عوام کوبے وقوف بناکر رکھا گیا ہے۔ گلگت بلتستان ایسے تمام حقوق سے محروم ہے جو ایک متنازعہ علاقے (بھارتی زیرانتظام اور پاکستانی زیر انتظام جموں‌و کشمیر) کے لیے حاصل ہیں۔جبکہ پاکستانہی کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر ریاست کو دفاع، خارجہ اور کرنسی کے علاوہ تقریباً تمام دیگر ریاستی امورمیں داخلی خودمختاری حاصل ہے۔ ان کا اپنا آئین، جھنڈا، صدر، وزیر اعظم، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، پبلک سروس کمیشنوغیرہ موجود اور فعال ہی ںاسی طرح سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت سرزمین کشمیر کا تحفظ کیا جاتا ہے اور کوئی بھی غیر مقامی وہاں زمینوں کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔

اگرچہ آئین پاکستان میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کا بھی ذکر موجود نہیں ہے مگر اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر سے متعلق قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان متنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔ پاکستان کے پاس موجود دو حصوں میں سے ایک حصے یعنی آزاد کشمیر کو خود مختاری دی گئی ہے لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان کو یہ خود مختاری حاصل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے حل کے لیے ممکنہ آپشن

پاکستان کو گلگت بلتستان کے صرف وسائل اور خوبصورت یسے دلچسپی رکھنےکے علاوہ یہاں کے بنیادی مسائل و حقوق پر توجہ دینی ہوگی۔وفاق کوگلگت بلتستان کی داخلی خود مختاری کے لیے فوری طور پر سیاسی اصلاحات کے عمل کو تیز کر کے اس حساس سرحدی اور تزویراتی علاقے کو مستحکم کرنے میں ستر سال گزرنے کے باوجود مزید تاخیری حربوں سے کام نہیں لینا چاہیے، کیونکہ خظےکی تعمیر و ترقی کے لیے اہم ترین عنصر سمجھا جانے والی چین پاکستان اقتصادری راہداری مضبوط و مستحکم اور پُرامن گلگت بلتستان میں ہی مضمر ہے۔گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے جامع حلکے لیے ممکنہ طور پرکئی حل موجود ہیں:

پہلاآپشن: پانچواں صوبہ

گلگت بلتستان کوملک کا پانچواں آئینی صوبہ بنایا جائے۔مگراسے آئینی صوبہ بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق جمع قرارداد میں اپنے اصولی موقف میں تبدیلی اور پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم لانی ہوگی جس کے بعدعلاقے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جانا ہے۔پاکستان نے یہ امید بھی لگا رکھی ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہو اور پورے متنازعہ خطے میں استصواب رائے کیا جائے تو تقریبا تہتر ہزار مربع کلومیٹر رقبے کے بیس لاکھ باشندے یعنی گلگت بلتستان کا ووٹ مکمل طور پرپاکستان کے حق میں ہوگا جس سے مجموعی صورت حال پاکستان کے حق میں جائے گی۔ایک بہانہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان جی بی کو فی الحال آئینی صوبہ نہیں بنانا چاہتا تاکہ بھارت کشمیر پر اپنا موقف مضبوط نہ کر لے۔پاکستان کا ریاستی موقف یہی ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا نہیں بلکہ متنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔ بھارت سے کئی جنگیں لڑنے، ہزاروں جانیں دینے اور اربوں ڈالر کے قومی وسائل خرچ کرنے کے بعدکشمیر کی قیمت پر شاید پاکستان گلگت بلتستان کو کبھی بھی مکمل آئینی صوبہ نہ بنائے، اس کے علاوہ کشمیری قیادت بھی اس کی شدیدمخالفت کرتی ہے۔ چنانچہ آئینی صوبہ نہ بنانے کے عزم کا اظہار مختلف وفاقی وزرا،سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں نے متعدد بار کیا ہے۔ جبکہ وزارت خارجہ اس عزم کا بار بار اعادہ کرتی رہتی ہے۔

گلگت بلتستان میں موجودہ صوبائی شکل کسی طور پر آئینی صوبہ نہیں ہے۔ موجودہ اسمبلی، گلگت بلتستان کونسل،وزیر اعلی اور گورنر خالصتاًنمائشی عنوانات ہیں۔ ان کےاختیارات اور کردار  دونوں مقامی کونسلر سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ آئین پاکستان کی خلاف ورزی بھی ہے جس میں گلگت بلتستان کے نام کا کوئی صوبہ وجود ہی نہیں رکھتا،کسی بھی آفیشل دستاویز،قومی نصاب سمیت دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کاصوبے کے طور پرذکرکہیں نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح عملی طور پرقومی اسمبلی، سینٹ بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے۔وفاق اپنے ایک وزیر اور اپنی بیوروکریسی کے ذریعے اس علاقے کو انتظامی طور پرکنٹرول کرتا ہے۔ چنانچہ گلگت بلتستان کے تمام کلیدی عہدوں پر وفاق ہی اپنے بندے بھیجتے ہیں۔ علاقے کے معاملات میں وزیر اعلیٰ سے زیادہ چیف سیکٹری کی حیثیت فیصلہ کن اور اہم ہوتی ہے جسے وفاق تعینات کرتا ہے۔ چیف سیکٹری کے سامنے وزیر اعلیٰ سمیت پوری اسمبلی بے بس و بے اختیار ہوتی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر طرز کی داخلی خود مختاری

دوسرا حل داخلی خود مختاری دینے کا ہے۔ گلگت بلتستان کو داخلی ریاست کا درجہ ملنے کی صورت میں یہاں آزاد کشمیر کی طرح کرنسی، خارجہ پالیسی، دفاع اور مواصلات وغیرہ کے معاملے میں پاکستان کے زیر انتظام ہو گاجبکہ دیگر معاملات میں گلگت بلتستان خود مختار ہوگا۔ گلگت بلتستان کیاکثر مقامی قوم پرست سیاسی تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ و موقف داخلی خود مختاری کا رہاہے جسے اب دیگر سیاسی جماعتوں‌ اور عوامی حلقوں میں بھی بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر ریاست میں انضمام

تیسرا ممکنہ مگر علاقےکی عوام کے نزدیک انتہائی نا مطلوب آپشن یہ بھی ہےکہ گلگت بلتستان کو موجودہ آزاد کشمیر ریاست میں ضم کیا جائے۔کشمیری قیادت زیادہ تر اس حل کی حامی ہےمگر ستر سالوں سےکسی طرح تعامل نہ رہنے، جعرافیائی دوری اور وسائل و اختیارات میں غیر متوازن تقسیم نیز سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کے عوام کے اس آپشن کے لیے غیر آمادگی کے باعث یہ حل قابل عمل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ

ستر سالوں سے بنیادی سیاسی حقوق سے محروم جی بی عوام زمینی حقائق کا ادراک کرتےہوئےمسئلہ کشمیر کے تصفیے تکاب کشمیر طرز کی خود مختار ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لہذاگلگت بلتستان کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے مسئلے پر حکومت پاکستان اسے مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک آزاد کشمیر کی طرز پر داخلی خود مختاری دینے کے عزم کا اظہار کرے اور علاقے میں استصواب رائے (ریفرنڈم) کرانے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کو ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کی درخواست کرے۔۔ اس حل میں مسئلہ کشمیر پر بھی فرق نہیں پڑتا اور علاقے کو اس کی خواہش کے عین مطابق سیاسی حقوق پر مبنی خود مختاری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہی آسان ترین اورہر ایک کی جیت (win-win) والا جامع حل ہے۔اس حل کا تقاضا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر طرز کی گلگت بلتستان آزاد ریاست کا آئین تشکیل دیا جائے، اس کی اپنی خود مختار پارلیمنٹ، صدر و وزیر اعظم موجود ہو، آزاد عدلیہ و انتظامیہ موجود ہو۔ گلگت بلتستان سروس کمیشن بنے، گلگت بلتستان ایجوکیشن بورڈ بنے، گلگت بلتستان ٹیکٹسٹ بک بورڈ بنے، گلگت بلتستان اقتصادی کونسل بنے، گلگت بلتستان پلاننگ کمیشن بنے، گلگت بلتستان بورڈ برائے ریونیوبنے۔  سی پیک میں گلگت بلتستان کو قانونی لحاظ سے باقاعدہ تیسرے فریق کے طور پر تسلیم کر کے سی پیک معاہدے میں گلگت بلتستان کو سٹریٹجک سٹیک ہولڈر کا درجہ  دیا جائے اور منصوبے میں حصہ دیا جائے۔ دیامر بھاشا ڈیم، دریائے سندھ، معدنیات، کوہ پیمائی سمیت سیاحت کی رایلٹی، سوست بارڈ (خنجراب کے مقام پر چین سے تجارتی و سرحدی بارڈر) کے سرحدی محصولات، علاقے میں فعال مواصلات سمیت دیگر شعبوں کے محصولات گلگت بلتستان کو ہی دیے جائے۔ گلگت بلتستان آزاد ریاست میں سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو وفاق کی جانب سے درکار انتظامی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان میں تعینات بیوروکریٹس کو واپس کر کے تمام کلیدی عہدوں پر گلگت بلتستان کے باشندوں کو تعینات کیے جائیں۔ وفاق اور گلگت بلتستان میں ایک مضبوط کوارڈینیشن سسٹم کے تحت گلگت بلتستان کے داخلی معاملات میں فوج کی غیر ضروری و غیر جمہوری مداخلت کو ختم کر کے ان کا کردار صرف لائن آف کنٹرول کے تحفظ تک محدود کیا جائے۔خود مختاری کے حصول کے بعد سٹیٹ سبجیٹ رول کی بحالی کے ذریعے علاقے کی متنازعہ حیثیت کا تحفظ کیا جا سکے گا جس کی صورت میں گلگت بلتستان ریاست کے باشندے کی قانونی تعریف متعین ہوگی اور صرف وہی گلگت بلتستان میں‌ اراضی کی خریدو فروخت کر سکے گا. نیز اب تک غیر مقامی لوگوں کی جانب سے خریدی گئی زمینیں غیر قانونی ہوں گی اور انہیں واپس کرنا ہوں گی۔

پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ ستر سال سے پکتے ہوئے لاوے کو پھٹنے سے پہلے حل کرے۔گلگت بلتستان میں سیاسی اصلاحات کی کمیٹیاں بناتے رہنا اور عوام کی مرضی کے بغیر ان پر حکم نامے تھونپتے رہنا اب کسی طرح دانشمندی نہیں ہے، عوام ایسے وقتی لولی پاپ کو سامراجی ہتھکنڈہ سمجھ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال وفاق میں‌ گزشتہ حکمران پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی جانب سے متعارف کردہ سیاسی اصلاحات گلگت بلتستان سیلف امپاورمنٹ آرڈینیشن ۲۰۰۹ اور ’’گلگت بلتستان آرڈر۲۰۱۸کے کے نفاذپر سامنے آنے والاگلگت بلتستان کاعوامی رد عمل ہے۔گلگت بلتستان کے باشعور جوانوں کی جانب سےگلگت بلتستان کی آئینی حیثیت و حقوق سے متعلق آگہی کے لیےپاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں قومی سطح کے سیمیناروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لاہور، راولپنڈی، کراچی، سکردو اور گلگت میں‌ سیمیناروں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کی مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں کا۲۰۱۳ سےمسلسل سرگرم عوامی اتحاد ’’گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ اس آگہی مہم کو عوامی حلقوں تک پہنچا رہی ہے۔

مختلف تعلیمی، صحافتی، سیاسی، سماجی، مذہبی، قانونی، پالیسی ساز اور تحقیقاتی اداروں، تنظیموں اورانجمنوں سے وابستہ احباب سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ بے آئین و بے آواز گلگت بلتستان کے لیے آواز اٹھانے میں گلگت بلتستان کے مہذب و باشعور جوانوں کا ساتھ دیں اور گلگت بلتستان کو آئینی بحران اور سیاسی و معاشی محرومیوں سے نکالنے کی جدو جہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔

تحریر: محمد حسین

استاذ ڈریوتھیولوجیکل سکول، ڈریو یونیورسٹی، نیوجرسی امریکہ

About یاور عباس

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful