گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں

تحریر: لیاقت علی انجم

ایک ایسے وقت میں جب گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر ہے، شنید ہے کہ ایک ماہ کے اندر ہی عدالت سے فیصلہ آنے والا ہے، اسی دورن ایک مرتبہ پھر سے کشمیری قیادت حرکت میں آگئی ہے اور گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں یہ جاننا ضروری ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر آئینی سٹیٹس کی حیثیت کیا ہے اور گلگت بلتستان کا موقف کس حد تک مضبوط ہے اور الجہاد ٹرسٹ کیس کا فیصلہ آخر کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں میں سب سے اہم وہ پٹیشن بھی ہے، جو گلگت بلتستان کونسل اور دیگر نے دائر کر رکھی ہے۔ 1999ء میں مشہور زمانہ وہاب الخیری کیس میں سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے، جس پر 20 سال گزرنے کے باوجود بھی عمل نہیں ہوسکا اور گلگت بلتستان بار کونسل نے اسی فیصلے پر عملدرآمد کیلئے درخواست دائر کر رکھی ہے اور یہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت بھی ہے۔

یہاں عوام کیلئے جاننا ضروری ہے کہ 1999ء میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے آخر وہ کونسا فیصلہ دیا تھا کہ جس پر عملدرآمد کی ایک اور آئینی درخواست دائر کرنا پڑی۔ 28 مئی 1999ء کو اس وقت کے چیف جسٹس میاں اجمل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے الجہاد ٹرسٹ کیس کا فیصلہ سنایا، بینچ میں چیف جسٹس میاں اجمل کے ساتھ جسٹس بشیر جہانگیری، جسٹس میمن قاضی، جسٹس چوہدری محمد عارف اور جسٹس منیر اے شیخ شامل تھے۔ الجہاد ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے باقاعدہ طور پر گلگت بلتستان کو نہ صرف پاکستان کا حصہ قرار دیا بلکہ وفاق کو حکم دیا کہ وہ گلگت بلتستان کو آئین میں موجود تمام تر بنیادی حقوق دینے کیلئے چھ ماہ کے اندر انتظامی اور قانونی اقدامات یقینی بنائیں، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ چونکہ پاکستان کے بہت سے قوانین بشمول سٹیزن شپ ایکٹ کا نفاذ گلگت بلتستان میں بھی ہے، اس لئے یہ خطہ پاکستان کا حصہ ہے اور عوام پاکستان کے شہری ہیں۔

تاہم آئین میں بنیادی حقوق کی دو کیٹیگریز کا فرق یہاں کوئی معنی نہیں رکھتا، پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے گلگت بلتستان کے عوام کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں، جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کیلئے کسی بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں، تاہم عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے وہاں کے عوام بھی ہر قسم کے ٹیکس اور لیویز دینے کے پابند ہونگے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وفاق پاکستان کو حکم دیا کہ وہ اگلے 6 ماہ کے اندر گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی ضمانت کے ساتھ بنیادی حقوق دینے کے لئے انتظامی اور قانونی اقدامات اٹھائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی حکم دیا کہ گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق دینے کے لئے آئین میں ترمیم کے لئے متعلقہ قوانین مثلاً نوٹیفکیشن، آرڈر اور رولز میں ترمیم کی جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں پٹیشن کے نکات کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ گلگت اور بلتستان نیز ریاست ہائے نگر، ہنزہ اور داریل وغیرہ نے 1947ء میں اپنے علاقوں کا الحاق پاکستان سے کیا، چنانچہ نگر سٹیٹ کے سربراہ میر شوکت علی نے 19 نومبر1947ء کو الحاق کی دستاویز پاکستان کو پیش کیں۔ اس وقت کے گورنر جنرل پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے قبول فرمایا۔ شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے عوام نے غاصبوں سے جنگ کرکے اپنے علاقے آزاد کرائے اور ان کا الحاق پاکستان سے کیا، اس طرح سے یہ علاقے عملاً اسی وقت سے پاکستان کے نظم و نسق سے وابستہ ہیں اور پاکستان کا حصہ ہیں۔ پٹیشن میں الحاق کی دستاویز بھی شامل کی گئی ہے۔ یو این سی پی کی تیسری عبوری رپورٹ میں ان علاقوں کے بارے میں جو موقف اختیار کیا، وہ الحاق کے بعد کی حقیقی صورتحال کو واضح کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 1949ء پاکستان نے شمالی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا، اس وقت یہ مقامی اتھارٹیز کے زیرانتظام تھے نہ کہ جموں و کشمیر گورنمنٹ کے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب اٹارنی جنرل سے پٹیشن کے نکات پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ان دونوں باتوں کو قبول کیا، ایک یہ کہ علاقے پاکستان کے زیرانتظام ہیں اور دوسرا یہ بھی قبول کیا کہ ان علاقوں نے خود سے آزادی حاصل کی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آگے جاکر قرار دیا کہ جہاں جہاں وفاق کی عملدداری ہوگی، وہاں سپریم کورٹ کا دائرہ کار بھی ہوگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس میں وفاق کا تحریری بیان ظاہر کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے شہری ہیں، کیونکہ ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں، ان کے لئے تعلیمی اداروں میں خصوصی کوٹہ موجود ہے۔ وفاق نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان علاقوں میں پاکستان کی عملداری ہے۔

جس پر عدالت نے’’ڈی فیکٹو ڈاکٹرئن‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی خطے پر ایک لمبے عرصے تک عملدداری رہتی ہے تو وہ س کا حصہ بن جاتا ہے گلگت بلتستان پر پاکستان کی 50 سال سے عملداری ہے۔ یہ پوزیشن بین الاقوامی کمیونٹی خصوصاً اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کی ہوئی ہے۔ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے کے آخر میں چند بنیادی چیزوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاق کو اہم احکامات دیئے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے کے آخر میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی پوزیشن انتہائی حساس ہے، کیونکہ ان کی سرحدیں چائنا، بھارت، تبت اور روس سے جاکر ملتی ہیں اس خطے کے ساتھ ماضی میں مختلف سلوک کیا گیا، اس صورتحال کے باوجود عدالت یہ فیصلہ نہیں دے سکتی کہ اس خطے کو کس قسم کا نظام حکومت دینا ہے، یہ کام پارلیمنٹ اور حکومت کا مینڈیٹ ہے، عدالت کا نہیں۔

ان سوالوں کا حل پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو نے تلاش کرنا ہے، تاہم یہ عدالت زیادہ سے زیادہ اس بات کو یقینی بناسکتی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئین کے تحت تمام حقوق مل جائیں۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے وفاق کو حکم دیا کہ وہ 6 ماہ کے اندر شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے عوام کو بنیادی حقوق دینے کے لئے قانونی اور انتظامی اقدامات اٹھائے، تاکہ آئین میں ضروری ترامیم کی جاسکیں اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حق حکمرانی اور آزاد عدلیہ تک رسائی مل سکے، جو کہ آئین نے ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دینے کی ہدایت کی ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے آئین میں ترمیم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، عدالت کے فیصلے میں آئین کا ذکر ہے، کسی آرڈر کا ذکر نہیں۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful