گلگت بلتستان سیاحوں کی جنت

گلگت بلتستان کو پریوں کی سرزمین کہا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باشندے ،اخلاق ،کردار ،سادگی ، وفاداری اور مہمان نوازی کے اعتبار سے پر یوں جیسے صفات کے مالک ہیں۔گلگت بلتستان پاکستان کے شمال پہاڈی سلسلوں اور گلیشرز کے وسط میں واقع قدرتی وسائل،معدنیات، دلکش و دل روبااور خوبصورت سیاحتی مقامات سے مالامال قدرتی خطہ ہے۔جسے ہمالیہ،قراقرم اور ہندوکش پہاڈی سلسلوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو،چھٹی بڑی چوٹی ننگاہ پربت سمیت راکا پوشی،جی ون ،جی تھری،بروپیک،بیافو،ہوپر و ہسپر گلیشر سمیت دنیا کی بڑی بڑی چوٹیاں یہاں پر  موجود ہیں۔گلگت بلتستان میں بہار اپنے عروج پر ہے اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا تنتا بننا شروع ہواہے۔گزشتہ دور حکومت میں ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی آگ اور خون کی حولی کھیلی گئی اور ننگاہ پربت پر غیر ملکی سیاحوں کے قتل وغارت اور حولناک فرقہ وارانہ فسادات  کے بعدکسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو اس قدر عروج ملے گا۔مگر حکومت وقت نے یہ کر دکھایا ہے ۔اور ہزار اختلافات کے باوجودیہ مانناہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے امن و امان کے حوالے سے ایسی فضا اور ماحول پیدا کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت اپنی عروج پر جاتی نظرآرہی ہے۔صابق چیف سیکرٹری گلگت بلتستان جناب کاظم نیاز صاحب کے مطابق گزشتہ سال سولہ لاکھ سے زائد ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رق کیا اور اس سال بیس لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔گلگت بلتستان کی کل آبادی پندرہ لاکھ کے قریب ہے اور سیاحوں کی آمد آبادی سے زیادہ ہونے کے سبب گزشتہ سال ان کے قیام و تعام کے سلسلے میں بڑی دقت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی تناظر میں راقم الحروف نے اپنی اس تحریر میں اندرون و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی خدمت میں چند ایک خوبصورت اور پر کشش سیاحتی مقامات کی نشاندہی اور وہاں پر  قیام و تعام کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کی طرف تھوڈا سا  اشارہ کر نے کی کوشش کی ہے تاکہ  حفظ ما تقدم  کے طور پر سیاحوں کو درپیش ممکنہ مسائل کا بہ درجہ اتم ازالہ کیا جا سکے۔گلگت بلتستان کا دارالحکومت اور مرکزی شہر گلگت سٹی میں جب سیاح داخل ہوتے ہیں تو جٹیال بس اسٹینڈ سے گلگت کے ہر ضلعے ،سیاحتی مقام اور سیر و تفری گاہ کے لیےمعقول ٹرانسپورٹیشن کا باقائدہ انتظام ملتا ہے۔ جہاں سے سیاح اپنی  مرضی کے سیاحتی مقام کا رق بہ زریعہ وین،ٹیکسی یا  ذاتی گاڈی کے کر سکتے ہیں۔کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کاکھیل پولو گلگت بلتستان کا قومی کھیل ہے اور یہ کھیل بہار کی آمد کے ساتھ ہی تقریبا ہر ضلعے میں کھیلاجاتا ہے۔ہر سال رواںماہ مرکزی شہر گلگت میں آزادی ٹورنامنٹ رکھا جاتا ہے۔اور پھر ماہ جولائی میں ضلع استور کے خوبصورت  سیاحتی مقام  راما میں” راما فسٹول” کے نام سے فسٹول منایا جاتا ہے۔یہاں سے جو ٹیم کامیاب ہوتی ہے اس کا فائنل میچ ضلع غذر اور چترال کی  سرحد وں پر واقع دنیا کا بلند ترین  سیاحتی مقام اور پولو گراونڈ شندور  میں بین الصوبائی مقابلہ چترال خیبر پختون خواہ کے مابین کیلا جاتا  ہے۔بااثر و با وسوق زرایع کے مطابق ان مقامات پر بہ نسبت  پچلے سال اس دفع مرد و خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ قیام و تعام کا مناسب انتظام کیا گیا ہے ۔ گلگت بلتستان میں سیاحوں کا زیادہ تر رق  اور رجحان ضلع نگراور ہنزہ کی طرف دیکھا جاتاہے۔کیونکہ یہ اضلاح مین شہرہ قراقرم جو اب سی پیک بن چکا ہے ،پر واقع ہونے  کے ساتھ ساتھ خوبصورت ود لکش سیاحتی مقامات سےبھی مالا مال ہیں۔ضلع نگر جو مین قراقرم ہائی وے پر واقع ہے میں موجودراکاپوشی ،دیران پیک،رش لیک،ہوپر و ہسپر گلیشیر بہت مشہور ہیں ۔ان سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی بڑی تعداد کے آمد کے پیش نظر اس دفع پیشگی قیام و تعام کا مناسب بندوبست کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ضلع نگر میں رواں سال “نیو گپا ٹرک چھپروٹ”  کے نام سے ایک خوبصورت سیاحتی مقام تک رسا ئی کے لیے صابق چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کی خصوصی توجہ اور دلچسپی سےسڑک بنا کر سیاحوں کے لیےرسائی ممکن بنائی گئی ہے۔اور اس مقام پر قیام و تعام کے سلسلےمیں قلع چھلت س1854 کی یاد میں نیے گسٹ ہاوس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔جو ضلع نگر کی سب سے پہلی وادی اور مرکزی شاہرہ قراقرم سے صرف ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ضلع نگر کے بعد سیاٖح بڑی تعداد میں ہنزہ کا بھی رق کرتے ہیں جہاں کریم آباد کے مقام پر سینکڑوں سال پرانے التت و بلتت جیسے تاریخی قلعوں کو آثار قدیمہ کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔اور یہ تاریخی ورثے یقینا دیکھنےسے تعلق رکھتے ہیں۔میری دانیست میں معشیت کے حوالے سے گلگت پاکستان کے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو اہمیت کراچی پاکستان کے لیے رکھتا ہے۔اگر حکومت پاکستان یہاں پر خصوصی طور پر توجہ دے اور سیر و سیاحت کے مقامات تک رسائی کے لیے پکی سڑکیں ،پلیں اور چیر لفٹس وغیرہ کا معقول بندوبست کرے اور یہاں کی قدرتی حسن اور خوبصورتی سے ڈھکے ہوئےمقامات کو دنیا کے سامنے آشکار و اجاگر کرے تو یہ کراچی جیسارونیو پاکستان کو دے سکتا ہے۔آیرلنڈ دنیا کا وہ ترقی یافتہ ملک  ہے جس  کی معشیت کامکمل دارو مدار سیاحت پر ہے۔اسی لحاز سے گلگت بلتستان کو اگرپاکستان کا آیرلنڈ کہا جائے تو بے  جاہ  اور مبالغہ نہ ہوگا ۔مگر بد قسمتی سے حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان کے آیرلنڈگلگت بلتستان کی طرف کوئی توجہ اور دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔

یاور عباس ہولہ،گلگت بلتستان

 

About Yawar Official

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful